عصر حاضر کا نوجوان اور ہماری ذمہ داریاں

{ ~صدائے خالد ~ }محمد توصیف خالد

کسی بھی ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ نوجوان معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ نسل نو کا ذمہ دارانہ رویہ ملت کی کامیابی کا زینہ ہے۔ معاشرے کو بام عروج تک پہنچانے میں نوجوان نسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ نوجوان قوم کی امنگوں و آرزووں کا ترجمان ہوتا ہے۔ قوم کی امیدیں اسی سے وابستہ ہوتی ہیں۔

عہد شباب ہی ترقی کا دور ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر زمانہ_ شباب بڑا نازک اور کڑا مرحلہ ہے۔ اعتدال و احتیاط نہایت ضروری ہے۔ اسی دور میں شیطان اپنے تمام تر حربے استعمال کرکے قوم کے ترجمان کو بہکانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ہمارا مستقبل اغیار کے مکر و فریب کا نشانہ بنتا ہے، تو ہماری نوجوان نسل مغرب کے تاریک و پست نظریات کی نقالی میں تفاخر کرتے ہیں۔

عصر حاضر فتنوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ الحاد و بے دینی کے گہرے و سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ گمراہ کن نظریات و عقائد کے حامل گروہ اسلام کا نام استعمال کرکے نسل نو کو مذہب سے بیزار کرنے میں برسر_ پیکار نطر آتے ہیں۔ اسلام دشمن عناصر نہایت پھرتی سے نوجوانوں کے ذہنوں مین کفر و نفاق کے بیج بو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں دوسرے طبقات متاثر ہوئے، وہاں قوم کا ترجمان بھی سر فہرست ہے۔ ہم نے خوبصورت سٹیٹس لگانے کو ہی کامیابی کا دارومدار سمجھ لیا، فیس بک پر ہماری پوسٹ ہر رونق لگنا ہی ہمارا منشور ٹھہرا۔ ٹک ٹاک سٹار بننے کے چکر میں قیمتی سے قیمتی متاع کے کھونے کا بھی احساس تک نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا پر واہ واہ کو ہی کامیابی سمجھ بیٹھے۔

ہمیں اغیار کی جانب بغلیں جھانکنے کی چنداں ضرورت نہیں جبکہ ہمارا ماضی تو طارق بن زیاد جیسے نوجوانوں کی درخشندہ مثالوں سے بھرا پڑا ہے ، جس نے سمندر کے کنارے پر کشتیاں جلاکر پرجوش الفاظ کہے؛ “اے مسلمانو! دین کی سربلندی ہے لیے ماردو یا مرجاو ، تیسرا راستہ مت اختیار کرنا۔ ” وہ اٹھارہ سالہ نوجوان محمد بن قاسم جس نے سندھ کو راجہ داہر کے قبضہ سے چھڑایا ، ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ صلاح الدین ایوبی جیسا باصفا شخص، جس نے صلیبیوں کو ناکوں چنے چبوادیے ، ہمارا روشن کردارا ہے۔ مسلمان قوم اپنی تاریخ ، تہذیب ، ثقافت ، روشن و نمایاں کردار رکھتی ہے۔

المیہ یہ کہ ہماری نسل نو اسلامی تاریخ کے روشن کرداروں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اغیار کی اندھی تہذیب کی بلا تفکر وتدبر تقلید کرنے کی روش پر چل پڑی ، جس کا انجام اسپین و ترکی جیسے بلاد سے کچھ مختلف نہ ہوگا۔ ہمارے نوجوانوں کو اپنی سنہری تاریخ سمجھنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی۔

بصد احترام و معذرت ! ہم اپنی تہذیب و ثقافت یکسر بھلا چکے ہیں۔ہم غیروں کی نقالی مین پیش پیش ہیں۔ ہمیں لارڈ میکالے کے اندھے قانون کا مقلد ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جبکہ ہمارے پاس تو قرآن و سنت کا عین فطرت اور سلیم الطبع منشور و دستور صورت_ اصلیہ میں موجود ہے۔

ہمیں اپنی تہذیبی و تمدنی ورثہ کو برقرار رکھنے کی خاطر نئی نسل پر محنت کی اشد ضرورت ہے وگرنہ قیمتی اثاثہ کےضیاع کا خطرہ ہے ،اور اس نقصان کا خمیازہ ہماری مستقبل کی نسل کو بھگتنا پڑے گا۔ نوجوانوں کے اندر مذہبی و ملی شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ نسل نو کو اپنی تہذیب و تمدن و ثقافت سے روشناس کروانا ہمارا دینی و ملی اہم ترین فریضہ ہے۔ ہمیں نوجوانوں کے افکار ، کردار ، نظریات ، عقائد و رجحانات میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہوگی۔