عمران خان کےساتھ ایک نشست
#مولانا_محمد_جہان_یعقوب

یہ اُس وقت کی بات ہےجب ہم تحریک انصاف کی طلبہ تنظیم انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اورانصاف علما ونگ سےوابستہ تھے۔ہمیں ڈاکٹرمحمدعلی نقوی کی جگہ انصاف علماونگ سندھ کاصدربنایاگیاتھا۔ہم نےعمران خان کےمزارِقاٸدوالےجلسےمیں ایک بڑی تعدادکوبھیجاتھاجس کی میڈیاکوریج بھی ہوٸی تھی۔

اُن دنوں سب سےپہلےخان صاحب نےریاستِ مدینہ کی بات کی اورحضرت عمرفاروقؓ کوآٸیڈیل قراردیاتھا۔

اُنہی دنوں استادالعلمإ شیخ الحدیث مولاناسلیم اللہ خانؒ کاانتقال ہواتھا،چنانچہ ایجنڈےمیں جامعہ فاروقیہ کادورہ اورمولاناعبیداللہ خالدصاحب سےتعزیتی ملاقات بھی شامل تھی۔اس وفدمیں ہم علماکی نماٸندگی کررہےتھے،ہمارےساتھ کچھ اوراحباب بھی تھے۔

تعزیتی ملاقات میں عارف علوی،جواُس وقت پی ٹی آٸی کےمحض راہ نماتھے،نےبحریہ ٹاٶن کاذکرچھیڑا۔اُس کےرقبےپربات ہوٸی۔اُس کی وسعتوں کاتذکرہ ہوا۔وہاں بننےوالی مساجدکی بات چھِڑی۔خان صاحب فرمانےلگے:اتنی بڑی جگہ پرتوکٸی بڑےبڑےسینماتعمیرکیےجاسکتےہیں!

یہ آف دی کیمرہ ملاقات تھی۔میڈیانماٸندوں کوبھی جامعہ فاروقیہ کےگیٹ سےاندرنہیں آنےدیاگیا۔

کل والی ملاقات کامختلف”اسکالرز“احوال لکھ رہےہیں،ہم نےسوچا:ماحول کی تلخی کوذرانمکین نمکین بنایاجاٸے،اس لیےکافی پرانی ملاقات کی رودادلکھ ڈالی۔

اس کاتفصیلی احوال ہم نےکالم میں لکھاتھاجواب بھی نیٹ پرمل جاٸےگا۔غالباًاُس کاعنوان تھا:اچھےکاموں کی تحسین کی جانی چاہیے۔