جھنگ؛ 30 سال پرانا جھنگ کا سیوریج مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا میونسپل کمیٹی جھنگ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے جبکہ عوام بھی مشکلات میں ہے جلد از جلد جھنگ کی سیوریج کے مسائل کے حل کے لیے گورنمنٹ پنجاب ماسٹر پلان بنا کر نئی سیوریج لائن بچھائے تاکہ عوام کے سیوریج مسائل حل ہو سکیں

اپیل وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر بلدیات چیف سیکرٹری پنجاب

جناب عالی : گزارش ہے جھنگ میں ویسے تو سینکڑوں ایسے مسائل ہیں جن کو آج تک زیر غور نہ لایا جا سکا جھنگ ایک قدیم ضلع ہے یہاں کی عوام سادہ نہایت ملنسار اور غیور عوام ہے جھنگ ڈویژن تو آج تک نہ بن سکا اور کب بنے گا یہ جھنگ عوام کی مقدر کی بات ہے لیکن آج میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی طرف کروانا چاہتا ہوں جناب عالی جھنگ کا سیوریج جو کہ تقریباً 30/35 سال قبل قدیم ہے اس وقت جھنگ شہر کی آبادی تقریباً دو لاکھ سے بھی کم تھی لیکن اب یہ آبادی 7 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اس وقت موٹرز لال پمپ کا دور کم ہی تھا لیکن اب ہر گھر میں موٹرز لال پمپ موجود ہے وقت کے ساتھ ساتھ سہولیات بڑھتی چلی گئی لیکن سیوریج وہی 30 سال پرانا ہی ہے 30سال بعد اب سیوریج کی حالت یہ ہے کہ جھنگ کی ہر محلی گلی سڑکیں سیوریج کے مسلسل بند ہونے کی وجہ سے ڈوبی ہوتی ہیں بچے بڑے خواتین مساجد میں نماز ادا کرنے والے سکول کالج میں جانے والے سب ہی سیوریج مسائل سے بے حد پریشان ہیں حادثات بھی معمول بن چکے ہیں میونسپل کمیٹی کی حالت یہ ہے کہ کروڈوں روپے کے قرضے کے نیچے ہے کوئی بھی چیف آفیسر جھنگ میں تعینات ہونے کے لئے خوش نہیں ہوتا ہے گزشتہ چند ماہ میں کتنے چیف آفیسر جھنگ سے تبادلہ کروا چکے ہیں کیونکہ مسائل زیادہ اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں تین سال قبل میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا گیا تھا پھر میونسپل کمیٹی تو کبھی یونٹ کا نام دے دیا جاتا ہے میونسپل کمیٹی کا عملہ نے بھی اب ہاتھ کھڑے کر دئے ہیں کیونکہ عملہ پائپ لائن گھنٹوں کوشش کرنے کے بعد کھولتا ہے تو چند منٹ بعد ہی پائپ لائن پھر بند یو جاتی ہے جناب عالی جھنگ بھی پنجاب کا شہر ہے جہاں آپ پورے پنجاب کے شہروں میں نظر کرم کر رہے ہیں ایک نظر جھنگ کی طرف بھی کریں اور جھنگ کا دورہ کریں یقیناً شہر کی حالت دیکھ کر آپ جھنگ کی عوام کے مسائل کے حل کے لیے اچھا فیصلہ کرینگے

محمد سرور جاوید اوڈ راجپوت