اختلاف ہو سکتا ہے، دشمنی اور تشدد نہیں،عدم تشدد کے عالمی دن پر ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک کا خصوصی پیغام، برداشت، رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینے پر زور
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے عدم تشدد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ اختلاف ہو سکتا ہے مگر اختلاف کو دشمنی اور تشدد میں تبدیل کیے بغیر بھی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ایک مہذب اور پُرامن معاشرے کی بنیاد برداشت، رواداری، باہمی احترام اور مثبت مکالمے پر قائم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کا فطری حصہ ہے۔ مختلف افراد کے خیالات، نظریات اور ترجیحات میں فرق ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، تاہم اصل کامیابی یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کو برقرار رکھا جائے۔ مسائل کو طاقت یا تشدد کے ذریعے حل کرنے کے بجائے گفت و شنید، دلیل، افہام و تفہیم اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ عدم تشدد صرف جسمانی تشدد سے اجتناب کا نام نہیں بلکہ نفرت، اشتعال انگیزی، بدزبانی، انتقام اور دوسروں کی تضحیک سے بھی گریز اس کا حصہ ہے۔ معاشرے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور اپنے رویے سے دوسروں کے لیے آسانی، احترام اور تحفظ کا ماحول پیدا کرے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتی ہے، اس لیے بچوں اور نوجوانوں میں برداشت، صبر، رواداری اور اختلافِ رائے کے احترام کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ تعلیمی ادارے، والدین، علماء، میڈیا اور سول سوسائٹی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔محترمہ ماہم آصف ملک نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا رائے عامہ کی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، غیر مصدقہ معلومات، نفرت انگیز مواد اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مثبت و تعمیری پیغام کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے سے معاشرے میں باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے جبکہ تشدد مسائل کو ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتا ہے۔ قانون کی پاسداری، شہری ذمہ داری اور ایک دوسرے کے حقوق کا احترام ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اردگرد امن، محبت، بھائی چارے اور برداشت کو فروغ دیں اور کسی بھی اختلاف کو تشدد یا تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے بات چیت اور قانونی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ عوام کے مسائل کے حل، قانون کی بالادستی اور پرامن ماحول کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی عدم تشدد کا عالمی دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اختلاف رائے معاشرے کی خوبصورتی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے نفرت اور تشدد کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ برداشت، مکالمہ اور باہمی احترام کو فروغ دے کر ہی ایک محفوظ، پُرامن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔*













