اساتذہ قوم کے معمار، روشن مستقبل کی ضمانت،یومِ اساتذہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر خانیوال حنا ارشد کا خصوصی پیغام
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر استوار ہوتی ہے، جبکہ اس نظام کی کامیابی میں اساتذہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ استاد وہ عظیم شخصیت ہے جو نئی نسل کو صرف کتابی علم ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، فکری رہنمائی اور کردار کی تعمیر میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔یومِ اساتذہ کے موقع پر ڈپٹی کمشنر خانیوال حنا ارشد نے اپنے خصوصی پیغام میں اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ استاد قوم کے محسن، رہنما اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ اساتذہ نسلِ نو کو علم، شعور اور آگہی سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک ذمہ دار، باکردار اور مثبت سوچ رکھنے والا شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک استاد کی محنت کا اثر صرف ایک طالب علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ذریعے پورا معاشرہ مستفید ہوتا ہے۔ آج کا طالب علم ہی کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد، سائنس دان، افسر، کاروباری شخصیت اور ملک کا ذمہ دار شہری بنتا ہے، اس لیے اس کی تعلیم و تربیت میں استاد کا کردار کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ڈپٹی کمشنر حنا ارشد کا کہنا تھا کہ جدید دور میں تعلیم کے تقاضے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے اساتذہ کو بھی جدید تعلیمی طریقہ ہائے کار، ٹیکنالوجی، تحقیق اور تخلیقی سوچ سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ طلبہ کو محض نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے ان میں سوال کرنے، تحقیق کرنے، مسائل کا حل تلاش کرنے اور معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب تعلیم کے فروغ، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، معیارِ تعلیم میں بہتری اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ان اقدامات کی کامیابی میں اساتذہ کا تعاون اور پیشہ ورانہ ذمہ داری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اساتذہ اگر اپنی ذمہ داریاں جذبۂ خدمت اور قومی فریضے کے طور پر ادا کریں تو تعلیمی میدان میں نمایاں اور دیرپا مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر خانیوال نے کہا کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ محض کلاس روم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کے لیے رہنما، مشیر اور بہترین کردار کا عملی نمونہ بھی ہوتا ہے۔ استاد کی گفتگو، رویہ، اخلاق، وقت کی پابندی، دیانت داری اور اپنے فرائض سے وابستگی طلبہ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس لیے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو علم کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی اقدار بھی منتقل کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں نوجوان نسل کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا، جدید ٹیکنالوجی اور معلومات کے وسیع ذرائع نے جہاں طلبہ کے لیے علم کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا بھی ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں استاد کی رہنمائی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے تاکہ طلبہ ٹیکنالوجی کا مثبت اور تعمیری استعمال سیکھ سکیں۔حنا ارشد نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں حب الوطنی، برداشت، رواداری، نظم و ضبط، قانون پسندی، انسانیت سے محبت اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف امتحان میں کامیابی یا اچھی ملازمت کا حصول نہیں بلکہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی عزت دراصل علم، تعلیم اور مستقبل کی عزت ہے۔ جو معاشرے اپنے اساتذہ کو عزت دیتے ہیں، ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں بہتر ماحول فراہم کرتے ہیں، وہی معاشرے ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کے مسائل کے حل، ان کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے اور انہیں باوقار تعلیمی کی فراہمی کے لیے اجتماعی سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔ڈپٹی کمشنر خانیوال نے یومِ اساتذہ کے موقع پر تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت، خلوص اور خدمات قوم کے مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک استاد کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں بلکہ پوری نسل کا مستقبل ہوتا ہے، اس لیے اس مقدس پیشے سے وابستہ ہر فرد معاشرے کے لیے قابلِ احترام ہے۔یومِ اساتذہ دراصل ہمیں یہ یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ تعلیم کسی قوم کی ترقی کا محض ایک شعبہ نہیں بلکہ اس کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ اگر ہم ایک باشعور، مہذب، باصلاحیت اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اساتذہ کے مقام و مرتبے کو تسلیم کرتے ہوئے تعلیم اور تربیت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اس عظیم قومی مقصد کے حصول میں استاد ہی وہ چراغ ہے جو علم کی روشنی سے نسلوں کا مستقبل روشن کرتا ہے۔*













