چک نمبر 4/3 ایل کنڈل کھوکھراں سے انگلینڈ تک:
عزم و ہمت کی ایک لازوال داستان
کامیابی کسی جاگیر کی محتاج نہیں ہوتی، یہ تو بس ان جنونیوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔
چک نمبر 4/3 ایل (کنڈل کھوکھراں) کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفر آج دیارِ غیر (انگلینڈ) کی سڑکوں اور اعلیٰ تعلیمی ایوانوں تک جا پہنچا ہے، اور اس داستان کے مرکزی کردار ہیں محمد کامران چوہدری
محمد کامران کے تعلیمی سفر کی بنیاد گورنمنٹ ہائی سکول 6/3 ایل سے پڑی، جہاں سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم کی اہمیت کو سمجھا۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول ڈول ان کا اگلا مسکن بنا، جہاں 2010ء میں انہوں نے میٹرک کے امتحان میں نمایاں اور اعزازی نمبر حاصل کر کے اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی۔
اسی اسکول کے دور میں انہیں مہر طالب حسین زاہد صاحب اور منور حسین صاحب جیسے شفیق اساتذہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ بالخصوص کلاس انچارج محمد الیاس رضا صاحب کی تربیت، رہنمائی اور شفقت نے کامران کے اندر علم کی وہ پیاس جگائی جس نے انہیں کبھی رکنے نہ دیا۔
اساتذہ کی اسی نظرِ عنایت کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے سپیریئر سائنس کالج گڑھ موڑ سے FSC کا امتحان شاندار اور اعزازی نمبروں سے پاس کیا۔
تعلیم کی لگن انہیں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد (GCUF) لے آئی،
جہاں سے انہوں نے ‘فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی’ میں بی ایس
اور بعد ازاں ‘فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی مینجمنٹ’ میں ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں۔
عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ان کی قابلیت کا سفر تیز تر ہو گیا۔ فوڈ انڈسٹری میں بطور ‘کوالٹی ایشورنس آفیسر’ شروعات کرنے والے کامران اپنی انتھک محنت کی بدولت ‘مینیجر کوالٹی ایشورنس’ کے عہدے تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرٹیفیکیشن باڈی میں بطور ‘فوڈ آڈیٹر’ خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی نامور قومی و بین الاقوامی انڈسٹریز کے معیاری آڈٹ کیے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان کی محنت اور مسلسل جدوجہد کا سب سے بڑا ثمر انہیں 2023ء میں ملا، جب انہیں انگلینڈ (برطانیہ) سے پی ایچ ڈی (PhD) کا موقع ملا۔
الحمد للہ! آج محمد کامران اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ میں پروقار زندگی گزار رہے ہیں۔ اور وہاں پر اپنی کنسٹرکشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔چک نمبر 4/3 ایل کنڈل کھوکھراں کا یہ بیٹا آج نہ صرف اپنے والدین اور علاقے کا فخر ہے، بلکہ اپنے اساتذہ کی اس تربیت کا زندہ ثبوت ہے جس نے ایک دیہاتی طالب علم کو عالمی سطح پر مہرِ ثبت کرنے کے قابل بنایا۔
اللہ تعالیٰ محمد کامران صاحب کو مزید کامیابیوں سے نوازے اور ان کا یہ سفر یوں ہی درخشندہ رہے۔ (آمین)













