کپاس ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، کسان کی خوشحالی اور برآمدات میں اہم کردار، عالمی یومِ کپاس کے موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک کا خصوصی پیغام
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*کپاس پاکستان کی زرعی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھنے والی فصل ہے جو نہ صرف لاکھوں کسان خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ ملکی ٹیکسٹائل صنعت، برآمدات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ ہر سال کپاس کے عالمی دن کا مقصد اس اہم فصل کی افادیت، اس سے وابستہ کسانوں کی محنت اور کپاس کی پیداوار و تجارت کو درپیش چیلنجز کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے کپاس کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ عالمی یومِ کپاس منانے کا بنیادی مقصد کپاس کی اہمیت، اس کے معاشی و معاشرتی فوائد اور اس شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس پاکستان کی اہم نقد آور فصل ہے، جس کا ملکی معیشت، ٹیکسٹائل سیکٹر اور برآمدات میں نمایاں حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل ہمارے زرعی شعبے کے ساتھ ساتھ صنعت و تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ کپاس سے تیار ہونے والی مصنوعات ملکی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی برآمدی شناخت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس لیے کپاس کی پیداوار میں اضافہ، معیار کی بہتری اور کاشتکاروں کو جدید زرعی طریقوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج، متوازن کھادوں کا استعمال، بروقت آبپاشی، کیڑوں اور بیماریوں کی مؤثر روک تھام اور ماہرینِ زراعت کی سفارشات پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔ کاشتکار اگر جدید زرعی تحقیق اور محکمہ زراعت کی رہنمائی سے استفادہ کریں تو نہ صرف فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ فصل کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی دستیابی، فصلوں پر حملہ آور ہونے والے کیڑے اور بیماریوں سمیت مختلف عوامل کپاس کی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسانوں کو جدید معلومات اور بروقت رہنمائی کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت، محکمہ زراعت، زرعی ماہرین اور کاشتکاروں کے باہمی تعاون سے کپاس کے شعبے کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کپاس صرف ایک فصل نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک مکمل معاشی سلسلہ وابستہ ہے۔ کپاس کی پیداوار سے جننگ، ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور برآمدات تک متعدد شعبے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر منسلک ہیں۔ اس لیے کپاس کے شعبے میں بہتری کے اثرات کسان سے لے کر صنعت کار، مزدور، تاجر اور قومی معیشت تک وسیع پیمانے پر مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی منڈی میں اپنی زرعی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کپاس کے معیار، پیداوار اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اعلیٰ معیار کی کپاس کی پیداوار نہ صرف ٹیکسٹائل مصنوعات کے معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ ملکی برآمدات میں اضافے کے امکانات بھی پیدا کرتی ہے۔ماہم آصف ملک نے کہا کہ کپاس کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں اپنے محنت کش کسانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عزم کا اظہار بھی کرنا چاہیے کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے، کاشتکاروں کی رہنمائی کرنے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور کپاس اس شعبے کی اہم ترین نقد آور فصلوں میں شامل ہے۔ اگر کپاس کے کاشتکاروں کو بروقت زرعی مشاورت، معیاری زرعی مداخل، جدید ٹیکنالوجی اور مناسب سہولیات میسر ہوں تو کپاس کی پیداوار اور معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔عالمی یومِ کپاس دراصل ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک معمولی دکھائی دینے والے سفید ریشے کے پیچھے کسان کی انتھک محنت، زرعی سائنس، صنعت، تجارت اور ملکی معیشت کا ایک وسیع نظام کارفرما ہے۔ کپاس کی فصل کی حفاظت اور فروغ دراصل کسان کی خوشحالی، صنعتی ترقی اور ملکی برآمدات کے استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس لیے کپاس کے عالمی دن کا پیغام یہی ہے کہ ہم کپاس کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنے کسان، اپنی صنعت اور اپنی معیشت کے مستقبل کو مزید مضبوط بنائیں۔*













