حادثے کے بعد جاگنے والا نظام

تحریر: سلمان احمد قریشی

یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے قریب نیشنل ہائی وے این فائیو پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ہمارے ادارے حادثہ ہونے سے پہلے کیوں نہیں جاگتے؟ ایک طالب علم جاں بحق، تین زخمی اور ایک خاندان عمر بھر کے دکھ میں مبتلا ہوگیا۔ اب معاملہ صرف حادثے کی تحقیقات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان انتظامی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو ایسے سانحات کا باعث بنتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق طلبہ سڑک نیشنل ہائی وے این فائیو پر موجود تھے اوربس کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک بس ڈرائیور نے طلبہ کو بچاتے ہوئے گاڑی نکالنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں چار طلبہ بس کی زد میں آگئے۔ ایک طالب علم جانبر نہ ہوسکا۔ پولیس کی جانب سے نامعلوم بس ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا ہے جبکہ ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ تھانہ سٹی رینالہ پولیس نے مزید کارروائی شروع کردی ہے۔یہاں پہلا اور بنیادی سوال تو یہی ہے کہ ڈرائیور کب گرفتار ہوگا؟اگر تحقیقات میں ڈرائیور کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی ہے کیا صرف ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دینا کافی ہوگا؟
یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے گیٹ کے سامنے ریلوے ٹریک ہے اور اسے عبور کرتے ہی نیشنل ہائی وے این فائیو موجود ہے۔ اگرچہ ریلوے لائن اور شاہراہ عبور کرنے کے لیے پل موجود ہے لیکن ہزاروں طلبہ کی روزانہ آمدورفت کے باعث یہ پورا علاقہ غیر معمولی حفاظتی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس سے قبل ریلوے لائن پر بھی حادثہ پیش آچکا ہے۔ایسے حساس مقام پر روڈ سیفٹی کا مستقل اور مؤثر نظام پہلے سے موجود ہونا چاہیے تھا۔طلبہ کے بس روکنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ ٹرانسپورٹ کی مشکلات اپنی جگہ لیکن قومی شاہراہ پر ٹریفک میں خلل ڈالنے اورگاڑیاں روکنے کی کوشش کرنا اور خود کو تیز رفتار ٹریفک کے سامنے کھڑا کرنا کسی صورت درست یا محفوظ عمل نہیں۔ پولیس کو ایسے اقدام کے خلاف حفاظتی اور قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے تھی اور طلبہ کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کرنا چاہیے تھا۔لیکن اگر شاہراہ پر طلبہ موجود تھے تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹریفک کو بروقت کنٹرول کیوں نہ کیا گیا۔۔؟ طلبہ کو شاہراہ سے ہٹانے کے لیے مؤثر اقدام کیوں نہ ہوا۔۔؟
حادثے کے بعد موٹروے پولیس کے ایس پی عاطف شہزاد کی وائس چانسلر ڈاکٹر مبین سجاد سے ملاقات ہوئی اور یونیورسٹی کے اطراف روڈ سیفٹی بہتر بنانے، آگاہی مہم اور اسپیڈ چیکنگ کیمروں کی تنصیب جیسے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔یونیورسٹی آف اوکاڑہ اور ضلعی انتظامیہ نے کیمپس آنے اور جانے والے طلبہ کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن و قائم مقام ڈی پی او اوکاڑہ حافظ خضر زمان نے یونیورسٹی کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین سے ملاقات کی۔ اجلاس میں رجسٹرار جمیل عاصم، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر شعیب سلیم اور نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کیمپس کے ساتھ گزرنے والی نیشنل ہائی وے پر زیادہ سے زیادہ رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی جائے گی جبکہ رفتار کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے اسپیڈ مانیٹرنگ کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔ یونیورسٹی کیمپس سے دو کلومیٹر پہلے سے ہر 200 میٹر کے فاصلے پر رفتار کی حد سے متعلق سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے، تاکہ ڈرائیوروں کو یونیورسٹی کے قریب پہنچنے سے پہلے رفتار کم کرنے کے لیے مناسب آگاہی مل سکے۔وائس چانسلر نے یونیورسٹی ٹرانسپورٹ حکام کو ہدایت کی کہ طلبہ و طالبات کے لیے مفت شٹل سروس کا دائرہ کار صبح کے اوقات تک بڑھایا جائے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ فیس میں 20 فیصد کمی کا بھی اعلان کیا جبکہ طلبہ کے لیے یونیورسٹی کی ٹرانسپورٹ سہولت کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔شرکاء نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے طلبہ کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور یونیورسٹی کے اطراف ٹریفک حادثات کے خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔اقدامات ضروری ہیں مگر سوال پھر وہی ہے یہ سب پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟کیا یونیورسٹی انتظامیہ کو معلوم نہیں تھا کہ ہزاروں طلبہ روزانہ اس حساس علاقے سے گزرتے ہیں۔۔؟ کیا موٹروے پولیس کے پاس اس مقام کو خطرناک قرار دے کر پہلے سے خصوصی نگرانی کا کوئی نظام نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔؟حادثے کے بعد اجلاس، ملاقات اور بیانات ضروری ہوسکتے ہیں لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب آئندہ حادثہ ہونے سے پہلے اسے روک لیا جائے۔وائس چانسلر مبین سجاد طلبہ کے مسائل سے کیسے غافل رہے۔دوسری طرف طلبہ کے سفری مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر بسوں کی تعداد کم ہے، گنجائش ناکافی ہے یا روٹس محدود ہیں تو حکومت اور متعلقہ اداروں کو ان مسائل کا عملی حل نکالنا ہوگا۔ زبردستی بس روکنے کی نوبت ہی اس وقت کم ہوگی جب طلبہ کو قابلِ اعتماد سفری سہولت میسر ہوگی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے لیے انڈر پاس کی تعمیر کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اعلان پر عملی پیش رفت ہو اور یونیورسٹی، ریلوے ٹریک اور نیشنل ہائی وے این فائیو کے درمیان محفوظ آمدورفت کا مستقل حل نکالا جائے۔اس واقعے کے بعد صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں۔ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ، موٹروے پولیس، یونیورسٹی انتظامیہ، محکمہ ہائیرایجوکشن، ریلوے اور ٹرانسپورٹ حکام کو مشترکہ طور پر اس علاقے کا روڈ سیفٹی آڈٹ کرانا چاہیے اور واضح ایس او پیز بنائے جانے چاہئیں کہ آئندہ احتجاج یا ہنگامی صورتحال میں ٹریفک کیسے کنٹرول ہوگی، طلبہ کو کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور ایمبولینس کے لیے راستہ کیسے کھلا رکھا جائے گا۔ذمہ داری صرف ایک ادارے کی نہیں، سب کی ہے۔ طلبہ کو بھی سفری سہولت اوراحتجاج کا محفوظ طریقہ اپنانا ہوگا اور انتظامیہ کو بھی حادثے کے بعد نہیں، خطرے سے پہلے حرکت میں آنا ہوگا۔ایک طالب علم کی جان چلی گئی ہے۔ اب اس سانحے کو چند بیانات اور تصویروں کے بعد بھلا دینا اس جان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔سوال صرف یہ نہیں کہ حادثہ کیسے ہوا؟ سوال ہے وائس چانسلر، موٹر وے پولیس احکام، ضلعی انتظامیہ کیوں غافل رہی۔ٹرانسپورٹ فیس میں 20 فیصد کمی کا بھی اعلان پہلے کیوں نہیں ہوسکا۔