دور جدید اور ہمارے رشتوں کا معیار

تحریر انور علی چوہدری

ماضی میں ایک وقت ایسا تھا جب لوگوں کے درمیان پیار، محبت اورچاہت کا بہت پیارا سا رشتہ ہوا کرتا تھا لوگ ایک دوسرے پر اندھا اعتماد کرتے تھے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شامل ہو نا ہمیشہ فرض سمجھا جاتا تھااگر کسی پر
کوئی مشکل آجاتی تو سب اس کی مدد کے لیے تیا رہو جایا کرتے اور اس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا تھا کہ یہ غریب رشتہ دار ہے یا امیر،قریب کا ہے یا دور کا،اپنا ہے یا غیر،اس کی مدد کرنے سے ہمیں کل کوئی فائدہ ہو گا یانہیں بس بے لوث خدمت کا جذبہ ہوا کرتا تھا لوگ ایک دوسرے کے لیے جان دینے پر تیار ہوا کرتے تھے سب امیر غریب ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہوا کرتے تھے تب غریب رشتہ داروں اور ہمسائیوں کو اچھوت نہیں سمجھا جاتا تھابلکہ ان کو ہمیشہ عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور دکھ سکھ کا ساتھی سمجھا جاتا
تھا۔آج کے دور میں جب دنیا ترقی کرتے کرتے گلوبل ویلج بن چکی ہے، سائنس نے فاصلے مٹا دیئے ہیں پوری دنیا کو انسان کی مٹھی میں بند کر کے رکھ دیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہی ہمارے رشتوں پر بھی بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں ہمارے اندر پیار محبت،ایثار اور قربانی کے جذبات بھی ماند کر دیے ہیں۔
ایک دوسرے سے اپنائیت کا احساس بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر لوگ ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں تو ان میں پہلے جیسا بے لوث پن نہیں ہے اگر کہیں کوئی کسی سے محبت،ایثار ظاہر کرتا بھی ہے تو اس کے پیچھے اس کا کوئی نہ
کوئی مقصد ہوتا ہے اور وہ اس سے اپنا کوئی مطلب نکالنے کے چکر میں ہوتا ہے۔ آج کے جدید دور میں خونی رشتوں میں بھی گرم جوشی ختم ہو کر رہ گئی ہے اب خونی رشتوں میں عزت و احترام کے پیمانے تبدیل ہو چکے ہیں افراتفری کے
اس دور نے انسانی رشتوں کو اتنا دور کر دیا کہ لوگ خلوص اور اپنائیت کے دو بول سننے کو بھی ترستے ہیں اب ہمارے پاس کسی کو دینے کے لیے وقت نہیں
کسی کا دکھ سننے کے لیے دو گھڑیاں نہیں اب وقت نے ہمیں اس قدر مصروف کر دیا ہے کہ ہماری خوشیاں ادھوری ہو چکی ہیں ہم آہستہ آہستہ تنہا ہوتے جا رہے ہیں آج لوگ صرف اپنے مطلب کی تکمیل کی خاطر ایک دوسرے سے روابط رکھتے
ہیں اب خاندان کے افرادکو مال،دولت،رتبے،عہدے اور وسائل دیکھ کر عزت دیتے ہیں اب ہم اسی کو قابل احترام سمجھتے ہیں جو ہمارے معیار پر پورا اترتا
ہو اور اسی سے تعلق اور رابطہ رکھا جاتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جہاں خلوص اور احساس کے رشتے زندہ ہوں وہاں لوگوں کی زندگیوں میں یہی عنایات روشنی کی کرن بن کر جگمگاتی ہیں۔ ان گھرانوں کے
بارے میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہاں انسانوں کی زندگیوں میں دکھ اور غم کاکوئی ناگ پھن نہیں پھیلا سکتا۔ الغرض خلوص اور اپنائیت ہی ایسا جذبہ ہے جو کسی بھی رشتے کو مضبوط ڈور میں باندھ دیتا ہے۔ ان رشتوں میں شکل وصورت، مقام و منزلت، امیری و غریبی یہاں تک کہ عمر کا فرق بھی کوئی معنی
نہیں رکھتا۔ ہر مشکل گھڑی میں، ہر تکلیف کے لمحات میں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔افسوس کہ آج ہم یہ سب بھول کر دولت،رتبے اور وسائل کے فرق میں پڑ چکے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں محبت ایثار اور انسیت ختم ہو
کر رہ گئی ہے۔ ہمیں اپنی بھولی ہوئی اقدار کو پھر سے اپنانا ہو گا اور آنے والی نسلوں کو اس طبقاتی تقسیم سے بچانا ہو گا اسی میں ہمارے معاشرے اور خاندانوں کی بھلائی ہے