شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے والد گرامی فرید ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رح کا مختصر تعارف
از قلم:—– حفیظ اللہ جاوید
ڈاکٹر فرید الدین قادری رح کی پیدائش 1918 میں ہوئی اور آپ کا وصال مبارک 1974 یعنی 56 سال کی عمر میں ہوا، آپ نے مڈل کلاس تک جھنگ میں تعلیم حاصل کی اور میٹرک کا امتحان سیالکوٹ سے پاس کیا اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ چلے گئے ، ایلوپیتھک کی تعلیم کنگ جارج میڈیکل کالج اور طبی تعلیم طبیہ کالج لکھنؤ سے حاصل کی ۔
آپ ایلوپیتھک کے ساتھ ساتھ طب یونانی میں بھی بہت ماہر تھے ۔ نبض کے فن پر 1940 میں ان کو انڈیا میں بطور خاص سند ملی اور پنجاب یونیورسٹی میں نبض پر مقالہ لکھنے پر ان کو گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ۔ انڈیا کے مشہور طبیب حکیم عبد الوہاب انصاری سے انہوں نے نبض کا فن سیکھا ۔ ڈاکٹر فرید الدین قادری رح کی اس زمانے میں ایک دن میں ایک ہزار روپے تک پریکٹس ہوتی تھی جبکہ اس دور میں کسی اعلیٰ آفیسر کی ماہانہ تنخواہ ایک سو روپے یا اس سے بھی کم تھی ۔وہ کم از کم 20 گھرانوں کی ماہانہ کفالت کرتے تھے ۔اس زمانے میں جھنگ میں ان کے پانچ مکان ، ایک بنگلہ اور اس کے علاؤہ دو پلاٹ فیصل آباد میں تھے ۔
ڈاکٹر صاحب پیشے کے اعتبار سے بہت بڑے طبیب اور ڈاکٹر تھے ، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے بچپن میں ان کو طیبہ کالج لاہور میں وائس پرنسپل شپ کی پیشکش ہوئی ، اسی طرح ان کو سعودی عرب اور مدینہ منورہ میں بھی اچھے مواقعوں کی آفرز ہوئیں لیکن انہوں اپنے بیٹے کی تربیت کی خاطر ان آفرز کو قبول نہیں کیا ۔ ڈاکٹر فرید الدین قادری رح بہت بڑے جید عالم دین ، محقق اور فاضل بھی تھے ۔ انہوں نے دینی تعلیم فرنگی محل لکھنؤ سے حاصل کی بعد ازاں دنیا کے مختلف ممالک کے جید علماء سے بھی دینی تعلیم حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب بہت بڑے شاعر بھی تھے ، مشہور شاعر امیر مینائی کے بھتیجے شکیل مینائی سے انہوں نے شاعری میں اصلاح لی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب صاحب دیوان اور صاحب طرز شاعر تھے ان کا دیوان بعد ازاں گم ہو گیا اس لئے چھپ نہ سکا ۔
حضرت فرید ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری رح کو بچپن سے ہی تصوف اور روحانیت سے گہرا شغف تھا ۔ سیرت و کردار ، تقویٰ ، شب بیداری اور روحانی خصائل کے اعتبار سے وہ کامل ولی اللہ تھے ، انہوں نے روحانی فیض حضور قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانی البغدادی رح کے بہنوئی حضرت شیخ ابراہیم سیف الدین الگیلانی القادری البغدادی رح سے حاصل کیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے اولیاء اللہ کے طریق پر روحانی تربیت حاصل کرنے کے لئے مختلف ممالک کے سفر کیے جو ان کے سفر نامے میں چھپ چکے ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب کو علامہ اقبال رح سے خاص قربت حاصل تھی ، زندگی کے آخری ایام میں علالت کی وجہ علامہ اقبال رح نے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی تھی اس وقت جب ڈاکٹر فرید الدین قادری رح ان سے ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے آپ کو ملاقات کا خصوصی وقت دیا ۔
ڈاکٹر صاحب ان گنت خوبیوں کے مالک تھے ان کی سب سے بڑی اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ انہیں مجدد عصر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے والد گرامی اور استاد ہونے کا عظیم شرف حاصل ہے۔۔ انہوں نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کی اعلیٰ تربیت کر کے امت مسلمہ کو ایک عظیم تحفے سے نوازا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ڈاکٹر فرید الدین قادری رح کی تعلیمات پر عمل کرنے اور ان سے روحانی فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ