سلورجوبلی
25سال
تنقیدآپ کاحق ہے
مگر
پہلےتحریرکومکمل طورپرپڑھ لیں

ہماری جوانی سے بڑھاپے تک آج 25 سال مکمل ہوگئے ہیں مطلب نوکری مکمل……..

پنجاب کی تاریخ میں محکمہ تعلیم میں بدترین ناانصافی

پنجاب میں1995میں جب مرکزمیں
محترمہ بینظیربھٹو
اورپنجاب میں
میاں منظوراحمدوٹوکی حکومت تھی
گریجوایٹ انگلش ٹیچرزکوبنیادی سکیل14میں پرائمری سکولوں میں بھرتی کیاگیاتاکہ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچے بھی ابتدائی جماعتوں سے انگریزی پڑھ سکیں
اس سے پہلے سرکاری سکولوں میں انگریزی کی تدریس چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی

یادرہے یہ اس وقت کی بات ہے جب22000آسامیوں کے لئے امیدوارنہ ملنے کی وجہ سےصرف17500
گریجویٹ انگلش ٹیچرزہی بھرتی کیے جاسکے
اور
باقی4375 آسامیاں خالی رہ گئیں
جن کو2009میں
سکیل 14کی بجائے16سکیل پر
SST
کمپیوٹرسائنس کے اساتذہ کی تعیناتی کرکے پرکیاگیا

گریجوایٹ انگلش ٹیچرزکےآرڈرزپریہ لکھاہواتھاکہ
Necessary rules will be framed to regularize the service at the stage when need of such rules arises
محکمہ تعلیم سکولز پنجاب نے شروع دن سے Discrimination کا جو سلسلہ شروع کیا وہ تا حال جاری ہے
مثلاً
کچھ اضلاع میں ان ٹرینڈ خواتین انگلش ٹیچرز کو سکیل 14 میں بھرتی کیا
کچھ اضلاع میں سکیل 11 میں
اسکے بعد
سروس کے ابتدائی سالوں میں ہی ملازمت سے نکالنے کے محکمانہ اورسیاسی حربے آزمائے جانے لگے
کبھی ٹیسٹ کے بہانے توکبھی ٹریننگ کے بہانے ذلیل ورسواکیاگیا
اوریوں محکمہ اوران ٹیچرزکے معاملات عدالتوں تک پہنچ گئے
طویل عدالتی جنگ کے بعد2004 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر S&GADنےابتدائی جوائننگ تاریخ سے ریگولرکیااور
سروس رولزبناکرپیرا7-Aدیاگیا
یادرہے
SST
کیڈر کا پیرا 7 ہے
اور
گریجوایٹ انگلش ٹیچرزکا
7-A
ہے
جس کے مطابق گریجوایٹ انگلش ٹیچرز

like and equal to SST
ہیں
S&GAD
کی سفارشات کے مطابق
REGULARIZATION in BS. 14 with further mobility in BPS-16
تھا
محکمہ نے ریگولرتوکردیا

آج تک
Further mobility in BPS-16
کاترجمہSED PUNJABکی سمجھ میں نہیں آیا

آج تک سروس رولزپرعمل درآمدہی نہیں کیاگیا

اس طرح
گریجوایٹ انگلش ٹیچرزپنجاب
اپنی تقرری کے
25سال بعد بھی
اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں جوکہ ان کے سروس رولز کے عین مطابق ان کاحق ہے

دیکھئے یہ حقوق کب ملتے ہیں؟

یہ ناانصافی کب تک جاری رہتی ہے؟

2007
میں

NOMENCLATURE

تبدیل کرکے سکیل09کےحاملEST
میں ضم کرکےDegradeکیاگیا
ظلم یہیں
ختم نہ ہوا2013میں
بڑی دھوم دھام سےعدل وانصاف کاجنازہ
نکالاگیا
اور
لوئیرسکیل
والوں سے جونیئرقراردے کر
Rationalize
کیاگیا
2020میں بھی یہ سلسلہ جاری وساری ہے 2013میں غیرقانونی طورپرجونیئرقراردے کرRationalizeکیاگیا01-03-2017 کوسپریم کورٹ آف پاکستان نے ابتدائی تاریخ تقرری سے سینارٹی بحال کردی تواب جو2013میں rationalization سے بچ گئے تھے پالیسی الٹ کرکے اب سینئران سکول کے لحاظ سے ان کوبھیrationalizeکرنے کاپروگرام بنایاجارہاہے
سابقہ حکومتوں نے وہ غیرقانونی سلوک کیا اورحق تلفیاں کیں کہ
خداکی پناہ
اب جب کہ پنجاب میں نئی حکومت کے بھی دوسال پورے ھو چکے ہیں
ہم امید کرتے ہیں کہ
سروس کے 25 سال بعد ہمیں بھی
انصاف فراہم کرتے ہوئے ہمارے سروس رولزپر عمل درآمدکروایاجائے گا

اضافی تعلیمی ترقیاں

تقریبا2000 انگلش ٹیچرزکاحق ہے مگرسپریم کورٹ کے تین ،پنجاب سروس ٹربیونل کے 5 اور
ہائی کورٹ کے
ایک درجن سے زیادہ فیصلوں کے باوجود
صرف 200 کو ہی مل رہی ہیں
وہ بھی طویل عدالتی جنگ اورلاکھوں روپے وکلاء کوفیس کی صورت میں اداکرنے کے بعد

کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیرنہیں چل سکتا

اورہم
25سال سے انصاف کے انتظارمیں
کبھی اس کے در،کبھی اس کے درکبھی دربدر

اس ناانصافی سے17500افرادنہیں بلکہ17500خاندان متاثرہوئے ہیں

یادرہے

2009 سے
2018تک
PSTs
سکیل07سے14میں
EST
سکیل09سے15میں
پہنچ چکے ہیں
جبکہ تقریباً 3500
1995-97 میں سکیل14میں بھرتی ہونے والے گریجوایٹ انگش ٹیچرز اب بھی سکیل 15میں ہیں

آخرہمارے ساتھ ایساکیوں کیاگیا؟
اس کاذمہ دارکون ہے؟
میں کس کے ہاتھ پہ اپنالہوتلاش کروں
انصاف کے لئے کہاں جائیں؟
انصاف کے لئے کہاں جائیں؟
انصاف کے لئے کہاں جائیں؟
بس یہی کہہ سکتے ہیں
یااللہ انصاف فرما!
انگلش ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب