مہر ارشاد احمد سیال مخدوم بلال عابد کی بصیرت کا امتحان اور مشترکہ دوستوں کی زمہ داری

تحریر علی امجد چوہدری

سابق وفاقی وزیر مہر ارشاد احمد سیال میرے انتہائی بہترین دوستوں میں ہیں یہ گراس روٹ لیول کے ورکر ہیں جنہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ٹھٹھہ سیالاں سے کوئی پنجاب اسمبلی قومی اسمبلی اور پھر کیبنٹ کا حصہ بن سکتا ہے مگر انہوں نے ناممکن کو ممکن کیا یہ تعلق کو ایسے نبھاتے ہیں کہ ایک بار رائے طارق شہزاد بھٹی کے ہمراہ ان سے ملنا تھا میں مقررہ وقت سے کافی تاخیر سے ان کی رہائش گاہ مظفر گڑھ پہنچا تو یہ گھر سے نکل چکے تھے ان کی آر پی او ڈیرہ غازیخان سے ملاقات طے تھی یہ ڈی جی خان روڈ پر تیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے میرے فون پر ڈرائیور کو واپسی کا کہا اور میرے روکنے کے باوجود یہ مظفر گڑھ پہنچے تعلق نچھانے والا ایسا رکن پارلیمان شاید ہی پاکستانی تاریخ میں کوئی ملے گا میرے بھائی کے ولیمہ پر یہ سندھ ہاوس میں تھے پارٹی پالیسی کے مطابق ہہ اسلام آباد چھوڑ نہیں سکتے تھے مگر اپنے چھوٹے بھائی امیر اکبر سیال صاحب کو پرزور تاکید کے ساتھ ولیمہ میں بھیجا اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے ان کے ساتھ میرا تعلق مخدوم زادہ بلال عابد بخاری کی وساطت سے بنا اور مہر صاحب نے مخدوم زادہ بلال عابد بخاری کی محبت میں اس تعلق کو بھرپور انداز سے نبھایا مخدوم زادہ بلال عابد بخاری بھی اس محبت میں فرنٹ فٹ پر کھیلے یہ دو چھوٹے اور بڑے بھائیوں کی کمال کی محبت تھی مخدوم بلال عابد مہر صاحب کے سب سے بڑے معتمد کے طور پر سامنے آئے امیر اکبر سے بھی ان کی دوستی لاجواب تھی مگر ناجانے کس کی نظر کھا گئی اور یہ دوریاں پیدا ہوگئیں اس خبر کو بریک کرنا میرے لیئے انتہائی تکلیف دہ تھا مگر صحافتی ذمہ داری بھی تھی خیر سرائیکی جھنگوچی کا ایک مقولہ ہے کہ گھر پئے بھانڈے وی کھڑک پمندے ہن
دونوں بھائیوں کی دوریاں ختم ہونی چاہیئں تمام مشترکہ دوست کردار ادا کریں انشاء اللہ بہت جلد یہ دونوں بھائی ایک ساتھ دکھائی دیں گے یہ اٹوٹ انگ ہیں نہ ٹوٹنے والے ہیں بس تھوڑی دوری ہے انشاء اللہ جلد دور ہوگی اور ان تصاویر کی طرح ایک بار پھر مہر ارشاد سیال سید ازن شاہ اور مخدوم بلال عابد ایک ساتھ دکھائی دیں گے اور میزبان چوہدری صدیق ہونگے انشاء اللہ
علی امجد چوہدری