گریجوایٹ پریس کلب کیوں ضروری ہے

تحریر ۔۔ذیشان ظفر گوندل

03016000943

صحافت کسی عمارت، بورڈ یا عہدے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم فکری امانت، سماجی ذمہ داری اور عوامی اعتماد کا استعارہ ہے۔ ایک حقیقی صحافی صرف خبریں نہیں لکھتا بلکہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر حقائق کو عوام تک پہنچاتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت دنیا بھر میں پریس کلبز وجود میں آئے تاکہ قلمکار ایک منظم پلیٹ فارم پر متحد ہو کر صحافتی اقدار، آزادیٔ اظہار اور پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

پریس کلب دراصل ورکنگ جرنلسٹس کا ایسا ادارہ ہوتا ہے جہاں وابستگی کسی مذہبی، سیاسی یا گروہی سوچ سے نہیں بلکہ صرف صحافت سے ہونی چاہیے۔ کیونکہ صحافی کسی جماعت، فرقے یا شخصیت کا نمائندہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی آواز تصور کیا جاتا ہے۔ اگر صحافت پر سیاسی، مذہبی یا ذاتی مفادات کے رنگ غالب آ جائیں تو پھر قلم کی غیر جانبداری متاثر ہونے لگتی ہے اور صحافت اپنی اصل روح کھو بیٹھتی ہے۔

تحصیل احمدپورسیال اور گڑھ مہاراجہ میں پہلے سے پریس کلبز موجود ہیں، ان کے دفاتر قائم ہیں اور صحافتی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں۔ ایسے میں اگر “گریجوایٹ پریس کلب” کے نام سے ایک نئے پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جا رہی ہے تو یقیناً اس کے اغراض و مقاصد، قواعد و ضوابط اور پالیسی کو واضح ہونا چاہیے۔ کسی بھی نئے ادارے کے قیام سے قبل یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آیا یہ اقدام صحافت کے وقار میں اضافے کیلئے ہے یا پھر تقسیم در تقسیم کے نئے باب کھولنے کیلئے؟

اصل ضرورت ناموں کے ساتھ نئے سابقے اور لاحقے جوڑنے کی نہیں بلکہ صحافتی کردار کو بلند کرنے کی ہے۔ صحافت کی عظمت “گریجوایٹ” یا “پوسٹ گریجوایٹ” جیسے الفاظ سے نہیں بلکہ دیانت، غیر جانبداری، تحقیق، جرات اور سچائی سے قائم ہوتی ہے۔ اگر موجودہ پریس کلبز اپنی صفوں میں شفاف احتساب، باقاعدہ سکروٹنی اور پیشہ ورانہ اصولوں کو نافذ کر دیں تو یہی عمل صحافت کیلئے سب سے بڑی اصلاح ثابت ہو سکتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ مقامی سطح پر پریس کلبز اپنے ممبران کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ایسے افراد جو عملی صحافت سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکے ہیں، جن کے پاس نہ کسی اخبار، ٹی وی چینل یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی نمائندگی موجود ہے اور نہ ہی کوئی معتبر پریس کارڈ، مگر اس کے باوجود وہ “پریس” کا نام استعمال کرکے معاشرے اور اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی نشاندہی ناگزیر ہو چکی ہے۔ کیونکہ جعلی یا غیر فعال صحافت صرف پیشے کی بدنامی کا باعث نہیں بنتی بلکہ حقیقی ورکنگ جرنلسٹس کیلئے بھی مسائل پیدا کرتی ہے۔

اسی طرح اگر کسی صحافی پر سرکاری اداروں میں مبینہ مداخلت، بلیک میلنگ، قبضہ مافیا، ذخیرہ اندوزی، کرپشن یا غیر قانونی سرگرمیوں میں معاونت جیسے سنگین الزامات موجود ہوں تو ایسے عناصر کا احتساب بھی پریس کلبز کی ذمہ داری بنتا ہے۔ صحافت کو ڈھال بنا کر ذاتی مفادات حاصل کرنے والے افراد درحقیقت اس مقدس پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پریس کلبز کے عہدیداران پر بھی یہ اخلاقی اور تنظیمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اداروں کو غیر سیاسی، غیر جانبدار اور باوقار رکھیں۔ اگر کسی پریس کلب کا سربراہ یا ذمہ دار عہدے پر بیٹھ کر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی سرگرم وابستگی رکھتا ہو تو اس سے ادارے کی غیر جانبداری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ صحافت کا وقار اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب قلم آزاد، سوچ غیر جانبدار اور ادارے شفاف ہوں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تحصیل احمدپورسیال اور گڑھ مہاراجہ کے پریس کلبز اپنے ضابطہ اخلاق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، فعال صحافیوں کی مستند فہرست مرتب کریں، اس فہرست کو عوامی سطح پر آویزاں کریں اور متعلقہ اداروں کو بھی آگاہ کیا جائے تاکہ حقیقی صحافی اور نام نہاد عناصر کے درمیان واضح فرق قائم ہو سکے۔

کیونکہ صحافت صرف خبر لکھنے کا نام نہیں، یہ اعتماد، کردار اور ذمہ داری کا ایسا سفر ہے جہاں قلم کی حرمت برقرار رکھنا ہر صحافی اور ہر پریس کلب کی اولین ذمہ داری ہے۔

رپورٹ: ذیشان ظفر گوندل نامہ نگار روزنامہ قائد اسلام آباد و بیوروچیف روزنامہ عوامی آواز لاہور و چیف رپورٹر روزنامہ لوکل ویوز ملتان 03016000943