ماضی اور حال کی صحافت

تحریر: حبیب منظر
احمدپورسیال
03027691808

برصغیر پاک و ہند
میں ماضی کی صحافت کا جائزہ لیا جائے
تو
کسی ان پڑھ صحافی کی کوئی مثال نہیں ملتی

جس سے ظاہر ہوتا ہے
کہ ماضی میں جتنے بھی صحافی گزرے ہیں وہ سارے ہی عظیم تعلیم یافتہ قلم کار تھے
اور
انکی صحافتی خدمات
انکی خبر نگاری
انکی کالم نویسی
پر آج یونیورسٹیوں میں تھیسز لکھے جا رہے ہیں

ماضی کی
ان عظیم ہستیوں نے صحافت کی ،
ادب کی،
اردو لغت کی خدمت کی

ان کا قلم
ہمیشہ سرکار اور شاہ کے وفاداروں کے خلاف چلتا نظر آیا

مگر
آج ملک کو لوٹنے والوں
کرپشن کا بازار گرم کرنیوالوں
رشوت بد عنوانی لوٹ مار
بلیک مارکیٹنگ قبضہ مافیا جیسے
جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی
کرنیوالے سیاست دانوں
کرپٹ سرکاری افسروں کے ساتھ
آج کا صحافی تصویر بنا کر
فیس بک پر اپ لوڈ کرنے کیلئے بے تاب نظر آتا ہے
کیا یہی صحافت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان سمیت ماضی کے عظیم قلمکاروں نے ہمیشہ حق سچ کی صحافت کو فروغ دیا
اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں

مگر آج کا
صحافی کبھی کسی سیاسی ڈیرے پر
تو کبھی کسی سرکاری دفتر میں
کسی نہ کسی دسترخوان کی ہڈیاں چوستا ،
خوشامد، چاپلوسی کر کے
تلوے چاٹتا نظر آتا ہے
کیا یہی صحافت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

کل کی صحافت کا کیا اعلی معیار تھا ؟
اور
آج کی صحافت کا کیا معیار رہ گیا ہے ؟

اگر احمدپورسیال کی بات کی جائے تو یہاں پر تو صحافت کا جنازہ نکل چکا
حالات یہ ہیں کہ اگر سوشل میڈیا پر
وائرل کوکین ڈیلر پنکی بھی کسی اخبار یا چینل سے پریس کارڈ حاصل کر لے تو
یہاں کا کوئی گروپ بغیر معاشرتی اخلاقی چال چلن ہسٹری جانچے
صرف الیکشن ، ووٹ بینک کیلئے اسے بھی
ممبر شپ دیدے گا
کیا یہی صحافت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

کیا
نیشنل پریس کلب
کا ضابطہ اخلاق اس بات کی اجازت دیتا ہے
کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ عہدے داروں ، ذمہ داروں کو
پریس کلب کی ممبر شپ دی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

پاکستان میں ایک چپڑاسی کی بھرتی کیلئے
بھی قانونی ضابطہ ہے،
معیار ہے
مگر
افسوس صد افسوس
صحافی بھرتی کیلئے
نہ کسی قانونی
نہ کسی اخلاقی
اور نہ کسی تعلیمی معیار
کی پاسداری کی جا رہی ہے
کیا یہی صحافت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

سوشل میڈیا پر
صحافیوں بارے جاری تبصرے جو پڑھنے کو ملتے ہیں ان میں زبان زد عام لفظ
ان پڑھ صحافی
کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے

آج کے صحافی
کو صحافتی قواعد ضوابط تو اپنی جگہ،
ان سے اردو تلفظ کی ادائیگی ہی درست نہیں ہو پاتی،
اور تعلیم کے بغیر ایسا ہی ہونا ہے

ہاں !
بس
انہیں یہ بہت زیادہ پتہ ہے
کہ تھانے کی ٹاؤٹی کیسے کرنی ہے ؟
مافیاز کا آلہ کار کیسے بننا ہے ؟
سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے بھتہ کیسے اکٹھا کرنا ہے ؟
سرکاری املاک ، سرکاری خزانے پر ہاتھ کیسے صاف کرنے ہیں ،

آج
جتنی ناانصافی ہو رہی ہے،
جتنی لوٹ مار ہو رہی ہے ،
جتنی کرپشن اداروں میں جاری ہے
اس میں مقامی سطح کے
ان پڑھ صحافی کا بہت زیادہ ہاتھ ہے
کیونکہ
تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی جو
دیکھتے،
سنتے،
اور جانتے ہوئے بھی مجرم کی پردہ پوشی کرے
تو وہ صرف
ان پڑھ ہی نہیں
بلکہ مجرم کے ساتھ اعانت جرم کا برابر حصہ دار بھی ہے

اس لیے کسی بھی پیشے کیلئے اسکی تعلیم ، ہنر کا ہونا از حد ضروری ہے
اگر اسکی ضرورت نہ ہوتی تو
آج
روئے زمین پر
کوئی سکول، کالج، یونیورسٹیاں
اور
دینی تعلیمی ادارے نہ ہوتے
ذرا نہیں
پورا سوچیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
احمدپورسیال 03027691808