سی ای وی ڈی کا قیام —
ریاستی سنجیدگی اور ہماری ذمہ داری
تحریر ۔منور اقبال تبسم
پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے قیام کے بعد اب کاؤنٹر ایکسٹریمزم اینڈ وائلنس ڈیپارٹمنٹ (CEVD) کا قیام ایک اہم اور بروقت اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ ریاست اب محض جرائم کے تدارک تک محدود نہیں بلکہ ان فکری، نظریاتی اور سماجی عوامل کو بھی ہدف بنا رہی ہے جو انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا اور عوامی بیانیے میں شدت پسندی، نفرت انگیزی اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایسے میں CEVD جیسے ادارے کا قیام نہ صرف قانون نافذ کرنے والے نظام کو مضبوط کرے گا بلکہ معاشرے میں فکری توازن قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا محض ادارے قائم کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟
جواب یقیناً نفی میں ہے۔ کسی بھی قانون یا ادارے کی کامیابی کا انحصار صرف حکومتی اقدامات پر نہیں بلکہ عوامی رویوں اور اجتماعی شعور پر بھی ہوتا ہے۔
ہم بطور شہری کہاں کھڑے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم میں سے اکثر افراد روزمرہ گفتگو، تقاریر، یا سوشل میڈیا پوسٹس میں ایسے الفاظ اور انداز اختیار کر لیتے ہیں جو نہ صرف دوسروں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں تقسیم اور انتشار کو بھی ہوا دیتے ہیں۔
خاص طور پر مذہبی، مسلکی یا سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے وقت جذباتی پن، اشتعال انگیزی اور فتوؤں کا بے جا استعمال ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی ایک منفی سمت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
CEVD
کا قیام دراصل ایک پیغام ہے—یہ پیغام کہ اب ریاست ایسے رویوں کو نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی زبان، اپنے لب و لہجے اور اپنے طرزِ اظہار پر نظرثانی کریں۔
اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کا حسن ہوتا ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا، دلیل کے بجائے گالی یا نفرت کا سہارا لینا، اور سچائی کے بجائے سنسنی کو فروغ دینا کسی طور قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے ہر فرد کو ایک “مائیک” دے دیا ہے، مگر اس مائیک کے استعمال کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایک غیر محتاط جملہ، ایک اشتعال انگیز پوسٹ یا ایک جھوٹی خبر نہ صرف قانونی مسائل پیدا کر سکتی ہے بلکہ معاشرے میں بے چینی اور فساد کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ریاستی اقدامات اپنی جگہ، مگر اصل تبدیلی تب آئے گی جب ہر فرد خود احتسابی کا عمل شروع کرے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادیِ اظہار کا مطلب لامحدود آزادی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اظہار ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ CEVD کا قیام ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کی کامیابی ہم سب کے اجتماعی رویے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ہم نے اپنے اندازِ گفتگو، سوچ اور عمل میں توازن پیدا نہ کیا تو کوئی بھی ادارہ دیرپا تبدیلی نہیں لا سکتا۔
لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، مکالمے کو فروغ دیں اور نفرت کے بجائے برداشت اور رواداری کو اپنی پہچان بنائیں۔
کیونکہ ایک پرامن معاشرہ صرف قانون سے نہیں، بلکہ شعور سے بنتا ہے۔










