زمین کے چند ٹکڑے اور انسانیت کی قیمت

تحریر۔ عافیہ عباس احمد پورسیال

چک نمبر 8/3 ایل کی یہ کہانی ایک گھر کی ہے بلکہ اس معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقتور کمزور کا حق ہڑپ کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتا۔ ندیم ولد محمد یوسف قوم آرائیں کے گرد گھومتی یہ داستان ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر انصاف کب جاگے گا؟
محمد رفیق، جو اس دنیا سے رخصت ہو چکا، اپنے پیچھے ایک ایسا خاندان چھوڑ گیا جسے تحفظ اور سہارا ملنا چاہیے تھا اس کی دوسری بیوی اور تین معصوم بچیاں، جو اس کی وراثت کی اصل حق دار ہیں، آج خوف، ظلم اور بے بسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ظلم کرنے والا کوئی اجنبی نہیں بلکہ اپنا ہی رشتہ دار داماد ہے، جو زمین کے چند ٹکڑوں کی خاطر انسانیت کی ہر حد پار کر چکا ہے۔
یہ شخص نہ صرف روزانہ ان کے گھر جا کر انہیں ہراساں کرتا ہے بلکہ مار پیٹ، دھکے، ذلت اور جان سے مارنے کی دھمکیوں تک اتر آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا زمین کی قیمت انسان کی عزت، اس کے سکون اور اس کی جان سے زیادہ ہو گئی ہے؟
اسلامی اور قانونی دونوں حوالوں سے وراثت میں بیٹیوں کا حق واضح ہے۔ یہ بچیاں اپنے باپ کی جائیداد کی جائز وارث ہیں۔ لیکن یہاں وہ قانون اور ادارے جو انصاف کے دعویدار ہیں، اس ظلم کو روکنے میں مدد فراہم کرے
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے اس تلخ سچ کو بے نقاب کرتا ہے جہاں کمزور کی آواز دب جاتی ہے اور ظالم دندناتا پھرتا ہے۔ اگر آج ان بچیوں کو انصاف نہ ملا تو کل کوئی اور بیٹی بھی اسی ظلم کا شکار ہو سکتی ہے متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں، متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کریں، اور اس درندہ صفت شخص کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دیں۔ کیونکہ جب تک ظالم کو سزا نہیں ملتی، ظلم کا سلسلہ رکتا نہیں۔
یہ صرف زمین کا معاملہ نہیں، یہ انسانیت کا امتحان ہے