سونے(Gold)کی اہمیت

تحریر: اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com
سونا(Gold)ایک قیمتی دھات ہے اور اس کی اہمیت صدیوں سے تسلیم کی جاتی رہی ہے۔سونےکو ہمیشہ دولت اور استحکام کی علامت سمجھا گیا ہے۔موجودہ دور میں بھی سونا انتہائی قیمتی دھات ہے اور ہزاروں سال قبل بھی اس کی قیمت تسلیم کی گئی۔یہ مذہبی طور پر بھی خاص اہمیت کا حامل رہا۔فرعون کے مقبروں اور زیورات میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا رہا۔سونے کی اہمیت تاریخی اور تہذیبی طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ماضی میں سونے کو بطور کرنسی بھی استعمال کیاگیاہے۔موجودہ دور میں بھی اس کو دولت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔زمین پر کئی قیمتی دھاتیں موجود ہیں،لیکن سونے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔زیادہ اہمیت اس لیے ہے کہ ایک تو یہ محدودمقدار میں پایا جاتا ہے۔دوسری وجہ اس کو زنگ نہیں لگتا۔تیسری وجہ کہ اس کو آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لایا جا سکتا ہے۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس کا رنگ پیلا ہوتا ہے جو آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔ایک اور وجہ بھی ہے کہ اس سے زیورات بنائے جاتے ہیں،کیونکہ دیگر دھاتوں کی نسبت سونا انتہائی نرم ہوتا ہے۔سونا پائیدار ہونے کے علاوہ صنعتوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔بہترین برقی موصل ہونے کی وجہ سے کمپیوٹر،موبائل فونز،خلائی جہاز اور جدیدآلات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ماضی میں اس کا استعمال کم تھا لیکن اہمیت پھر بھی تسلیم کی گئی تھی۔ماضی میں بطور کرنسی بھی استعمال کیا گیالیکن موجودہ زمانے میں کاغذی کرنسی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔کرنسی کی ویلیو کسی وقت بھی کم ہو سکتی ہے،لیکن سونا اپنی قیمت مستحکم رکھتا ہے۔ہو سکتا ہے موجودہ دور کی کرنسی کچھ عرصے کے بعد اپنی قدر بالکل کھو دے،لیکن سونا مستقبل میں بھی اپنی قیمت برقرار رکھے گا۔
زمین پر درجنوں دھاتوں کی موجودگی کے باوجود سونے کی اہمیت زیادہ ہے،کیونکہ دیگر دھاتیں بڑی مشکل سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی ہیں۔مثال کے طور پر گیس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاناآسان نہیں۔گیس کو سلنڈرز یاتھیلوں کے ذریعے منتقل کرنا انتہائی مشکل ہے۔مرکری اوربرومیم جیسے عناصر زہریلے ہوتے ہیں اور ان کے نقصانات بھی زیادہ ہیں۔سوڈیم اور پوٹاشیم کو پانی کے ٹب میں ڈالا جائے تو بھاپ بن کر اڑ جاتے ہیں۔لوہا، المونیم،تانبا،سیسہ، چاندی سمیت درجنوں عناصر ہیں۔ان میں کچھ زیادہ قیمتیں ہیں لیکن ان کوعلیحدہ کرکے خالص حالت میں حاصل کرنا مشکل ہے۔چاندی کے سکے بنائے جاتے ہیں لیکن چاندی کو زنگ لگ جاتا ہے۔چاندی پھر بھی سونے کی نسبت کم قیمتی ہے،حالانکہ اس کا استعمال بھی زیادہ کیا جاتا ہے۔سونے کو بہت سے علاقوں میں خالص صورت میں رکھا جاتا ہے۔سونے کی خالص حالت معلوم کرنے کے لیے قیراط کا پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے۔قیراط سے مراد یہ ہے کہ خالص مرکب کتنا ہے،یہ نہیں کہ وزن کتنا ہے۔24 قیراط خالص سونا ہوتا ہے،22قیراط کم خالص ہوتا ہے۔اسی طرح 20،18اور 16قیراط تک سونے کو ناپا جاتا ہے۔سونے کو نارمل درجہ حرارت کی آگ میں رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس پر میل کچیل اتر جاتا ہے۔کالا پتھر اس کے لیے کسوٹی ہوتا ہے اور ماہرین کالے پتھر پر رگڑ کر اصلی ہونے کی پہچان کرتے ہیں۔ایک تولے میں 12 ماسے ہوتے ہیں اور ایک ماسہ میں 8رتیاں ہوتی ہیں.
سونے کے ذخائر مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔سرمایہ کاری کے لیے سونے کو ایک بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ماضی میں بھی سونا طاقت،دولت اور سلطنتوں کی توسیع کی علامت رہا ہے۔اس وقت عالمی تنازعات(جیسے اسرائیل ایران جنگ) کی وجہ سے سونے کی قیمتیں بڑھی ہیں۔سونا ایک قابل اعتماد دھات(کرنسی) بھی ہے۔معاشی غیریقینی جب بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔دنیا بھر کے مرکزی بینک بھی سونے کا ذخیرہ رکھتے ہیں،یہ ان کے زر مبادلہ کے ذخائر کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ کرنسی کی حمایت،ڈائیورسیفیکیشن اور جیو پولیٹیکل رسک سے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس کو ہنگامی حالت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔سونے کی سب سے بڑی طلب زیورات سے آتی ہے۔یہ تقریبا 50-70 فیصد تک ہے۔خاص طور پر پاکستان،چین،مشرق وسطی اور انڈیا جیسے ممالک میں سونےکے زیادہ زیورات بنائے جاتے ہیں۔سونے کو زیورات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے نقصان بھی ہوتا ہے۔خالص سونے سے زیورات بنانا مشکل ہوتا ہے،اس لیے سونے میں ملاوٹ کر دی جاتی ہے۔ملاوٹ شدہ سونےمیں سے خالص سونااصل قیمت پر فروخت ہوتا ہے،ملاوٹ کا نقصان خریدنے والے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔زیورات کی بجائے اگر خالص سونے کو خرید کر محفوظ رکھا جائے تو یہ زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔بہت سے افراد دولت کو تحفظ دینے کے لیے خالص سونا،گرام یااونس کی صورت میں خرید لیتے ہیں۔ضرورت کے وقت سونے کی فوری فروخت بھی ممکن ہے،اس لیے بہتر یہی ہے کہ خالص 24 قیراط کا سونا خریدا جائے۔اگر سونے کے زیورات بنا لیے جائیں تو فروخت کرتے وقت قیمت کم ہو جاتی ہے،کیونکہ زیورات میں ملاوٹ کی جاتی ہے۔ہو سکتا ہے کچھ علاقوں میں خالص سونے کے زیورات بنائے جاتے ہوں یا خالص سونے کی قیمت وصول کی جاتی ہو،پھر بھی ضرورت ہو تو زیورات بنائے جائیں ورنہ خالص سونا خریدنا ہی بہتر ہے۔