گریجوایٹ پریس کلب کیوں ؟
تحریر حبیب منظر
احمدپورسیال: 03027691808
صحافیوں کے ایک پلیٹ فارم پر اجتماعی صورت میں کام کرنے کی تنظیم ، انجمن ، ادارے کو پریس کلب کہتے ہیں جہاں پر منظم طریقے سے صحافتی ضابطہ اخلاق کے مطابق پریس کلب کا نظم و نسق چلایا جاتا ہے یہ خاص صحافیوں کا ادارہ ہےکوئی مذہبی مسلکی ، سیاسی شخص اسکا عہدیدار ، ممبر نہیں بن سکتا
بنیادی طور پر
گڑھ مہاراجہ اور احمدپورسیال میں پریس کلبز موجود ہیں اور انکے سرکاری عمارتوں میں دفاتر بھی قائم ہیں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تحصیل احمدپورسیال کے دونوں تھانوں کی حدود میں پریس کلب موجود ہیں
تو
گریجوایٹ پریس کلب
کے نام سے ایک تیسرا پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
اس لیے اغراض و مقاصد سے آگاہ ہوئے بغیر اس نکتہ پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا
جب تک ضابطہ اخلاق
قواعد و ضوابط سامنے نہ آئیں
اس پر کوئی رائے نہیں دی جا سکتی
بحیثیت ایک قلمکار
مشاہدات میں ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ
گڑھ مہاراجہ احمدپورسیال کے چند صحافیوں پر مذہبی سیاسی رنگوں کی چھاپیں لگ چکی ہیں
جبکہ صحافت ایک غیر جانبدار ادارہ ہے
اور صحافی کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے
اس لیے
کوئی نیا رنگ چڑھانے کی بجائے
گڑھ مہاراجہ پریس کلب
اور
احمدپورسیال
تحصیل پریس کلب
اپنے اپنے ضابطہ اخلاق کو سکروٹنی پراسس کے ذریعے گریجوایٹ کریں تو یہ سب سے بہتر ہے
اگر ایسا نہ ہوا
تو
انگور کھٹے ہیں
سٹوری کا تاثر
تحصیل بھر کی صحافت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے
بلا تفریق صاف و شفاف طریقے سے صحافیوں کی سکروٹنی کی جائے
جن لوگوں پر تھانے کی ٹاؤٹی کے الزامات ہیں
یا سرکاری اداروں میں ملازمین کیساتھ
ملی بھگت سے کرپشن لوٹ مار
بلیک مارکیٹنگ قبضہ مافیا
میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں
تو ایسے کرداروں کا احتساب ہونا چاہیئے
پریس کلب کی سطح پر
خود احتسابی کے عمل کو فروغ دیا جائے
تاکہ
مقامی سطح پر
حقیقی معنوں میں صحافت
اور صحافی کا تحفظ ممکن ہو سکے
میری رائے میں
گریجوایٹ
یا پوسٹ گریجوایٹ کے الفاظ کا اضافہ
کرنے کی بجائے
معاشرے میں ہمیں اپنے صحافتی کردار ، قد و قامت میں بلندی بارے غور و فکر کرنی چاہیئے
اور اس مقصد کے لیے
احمدپورسیال ، گڑھ مہاراجہ کی سطح پر
موجودہ پریس کلبز کے ممبران کی سکروٹنی ضروری ہے
اگر کوئی ممبر گزشتہ چند سالوں سے عملی صحافت سے کنارہ کشی کر چکا ہے
حال حاضر اسکے پاس نہ کوئی اخبار ، نہ کوئی نیوز چینل ہے اور نہ کسی صحافتی ادارے کا اسکے پاس پریس کارڈ ہے
اور پھر بھی موٹر سائکل ، کار پر Press لکھوائے گھوم رہا ہے
عوام اور اداروں کو مسلسل دھوکا دے رہا ہے
یہ تو خلاف قانون ہے
اور جس پریس کلب نے ااس فعل کا نوٹس نہیں لیا،
کوئی شوکاز نوٹس، کوئی وارننگ جاری نہیں کی
تو اس پریس کلب کے چیئرمین، صدر، جنرل سیکریٹری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے انجام دیں
اور اگر
پریس کلب کا چیئرمین ،
صدر، جنرل سیکریٹری بھی
کسی سیاسی مذہبی جماعت کا کوئی ممبر، عہدیدار یا کوئی ذمہ دار نکل آئے
تو یہ پریس کلب کے قواعدِ و ضوابط کی خلاف ورزی بھی ہے اور صحافت کے ساتھ ظلم عظیم ہے
جو لوگ صحافت نہیں کر رہے
اور صرف اپنے مقاصد کیلئے صحافت کا نام استعمال کر رہے ہیں
وہ صحافتی ادارے
اور
ورکنگ صحافیوں کیلئے مسائل پیدا کر رہے ہیں
گریجوایٹ پریس کلب
لکھ کر نام مت تبدیل کریں
مقامی پریس کلبز کی سطح پر ضابطہ اخلاق کو گریجوایٹ
کر کے بذریعہ سکروٹنی پراسس زندہ صحافیوں کی فہرست
اپنے دفاتر کے باہر آویزاں کریں
اور اس بابت سیکورٹی اداروں کو بھی مطلع کیا جائے
# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
احمدپورسیال 03027691808










