ترکی ساختہ جنگی بحری جہاز پاکستان کے ساحل اور تجارت کا دفاع کریں گے
حال ہی میں پاکستان بحریہ کے لیے دو جنگی بحری جہازوں (corvettes) کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے جو ترکی کے نیشنل شپ (MILGEM) پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔
بحریہ نہ صرف سمندری حدود کا دفاع کرتی ہے بلکہ بحری، ساحلی اور فضائی دفاع میں بھی بہت اہم کردار رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان اپنے تحفظ و سالمیت کے لیے بحریہ کی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے، اور ملک کی معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھنے والے سمندری راستوں کو محفوظ بنا رہا ہے۔
پاکستان کو چار Ada-کلاس بحری جہازوں کیفروخت حالیہ چند سالوں میں دفاعی مصنوعات برآمد کرنے کے سلسلے میں ترکی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ بحری جہاز بین الاقوامی منظرنامے پر پاکستان کو زبردست قوت عطا کریں گے۔
روزنامہ صباح کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بحری دفاع اور سکیورٹی کے مشیر کیپٹن الپ کریک کنات نے کہا کہ یہ دو جنگی جہاز پاک بحریہ کو موقع دیں گے کہ وہ تزویراتی اور معاشی لحاظ سے اہم کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کی حفاظت کریں جو ملک کی کُل مقامی پیداوار (GDP) میں اہم حصہ رکھتی ہیں اور ساتھ ہی بحر و بر اور فضاء میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں بھی مدد دیں گے۔
پاکستان کی ترجیح ہے کہ ان بحری جہازوں کواستعمال کرتے ہوئے بندرگاہوں کی جانب آنے والے راستوں کی حفاظت کی جائے کیونکہ پاکستان ان بندرگاہوں کی اہمیت کے پیش نظر متعدد بین الاقوامی منصوبوں میں شامل ہے













