”مسجدوں میں کافر کافر کی گونج اور بازاری اتحاد“

میری تحریر کا عنوان تھوڑا سخت مگر حقیقت پہ مبنی ہے۔شاید میں یہ تحریر نہ لکھتا اگر لکھتا تو شاید اتنا سخت عنوان کبھی نہ ہوتا مگر مجھے یہ عنوان لکھنے کی ضرورت اسلیے پیش آٸی کہ گزشتہ کچھ دنوں سوشل میڈیا پہ ”مولانا آصف معاویہ اور امیر عباس خان سیال“ کے اتحاد کی خبریں سرگرم ہیں۔مجھے اس اتحاد سے کسی قسم کی کوٸی شکایت نہیں اور کسی کو ہونی بھی چاہیے۔اس جیسے اتحاد سے امید کرتا ہوں وطن عزیز سے فرقہ واریت ختم ہو گی۔مگر کچھ پہلوٶں کو اپنی تحریر کی زینت بنا کر آپ سب کے آگے رکھے دیتا ہوں۔

مولانا آصف معاویہ ایک سیاسی شخصیت ہونے کیساتھ کیساتھ سب سے پہلے ایک مذہبی شخصیت ہیں۔آپ دو سال پہلے ان کے فرمودات سنیں جو وہ اپنی تقاریر میں عوام کو بتایا کرتے تھے،وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔کسی بھی مذہبی جلسہ میں جا کر عوام کو ایک ہی سبق دیا جاتا تھا کہ کون سا طبقہ کفر پہ ہے۔اور اس کفر کو پاکستان کے چپے چپے میں انہوں نے اپنی تقاریر میں اس کا پرچار کیا۔اور عوام کو بتایا کہ شیعہ مسلمان نہیں بلکہ داٸرہ اسلام سے خارج ہے۔اسی نعرہ میں ان کی زندگی گزر ہی رہی تھی کہ اچانک انہوں نے 2013 کے الیکشن میں حصہ لینے کی ٹھانی۔بڑا یاد ہے تب مولانا نے اپنی ایک تقریر میں بھرے مجمع میں کہا تھا کہ کوٸی شیعہ مجھے ووٹ نہ دے۔یہ غالباً ان کی ملوآنہ موڑ چوک کی تقریر تھی۔خیر وہ الیکشن گزر گیا۔اور ہر طرف مولانا کی واہ واہ تھی۔کہ مولانا نے شیعہ کو للکارا ہے۔کہ مجھے ان کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔

اب حالیہ الیکشن 2018 میں ان کی گہیل پور کی تقریر بندہ نا چیز نے فیس بک پہ لاٸیو سنی جس میں انہوں نے فرمایا کہ سنی شیعہ میرے بھاٸی ہیں۔میں سب کا محافظ ہوں وغیرہ وغیرہ۔مجھے یہ سن کے دلی اچھا لگا کہ چلو سیاست کیلیے ہی سہی سب کو اکٹھا تو کر ہی لیا نہ مولانا نے۔مگر وہاں حیرانی بھی ہوٸی کہ کل تک جو عوام میں شیعہ کے کفر کا اعلان کرتا دکھاٸی دیتا تھا بلکہ آج بھی اگر انہیں کسی جلسہ کی دعوت دی جاۓ تو آخر میں وہ اس نعرے کے پرچار کو اپنا مشن سمجھتے ہیں، آج وہ محض سیاست کیلیے اپنا نعرہ چھوڑ گیا۔چلتے چلتے اب انہوں نے اتحاد بین المسلمین کے نعرے کو اپناتے ہوۓ امیر عباس خان سیال کیساتھ اتحاد بنا لیا۔سنا ہے یہ امیر عباس خان سیال علی والے شیعہ ہیں ڈھکو بھی نہیں۔جن کا وہ ہر فاتحہ خوانی پہ بارہا اظہار کر چکے۔

محترم امیر عباس خان بھی اپنے حالیہ مخالف امیدوار عون عباس خان سیال کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں بلکہ اب بھی چلا رہے کہ میں تو علی والا شیعہ ہوں اور عون عباس خان سیال ڈھکو ہیں۔تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو،موصوف نے اب ڈھکو تو دور ان سے بھی اتحاد کرنا اپنے لیے جاٸز سمجھا کہ آصف معاویہ سے اتحاد کیا جاۓ۔تاکہ جماعتی ووٹ کا میں بھی وارث بن سکوں جو کہ انہیں بس غلط فہمی ہے۔

خیر میں شیعہ سنی یا کسی بھی مسلک کے اتحاد کا بہت بڑا حامی ہوں۔بارہا اپنی تحریروں میں بیان کر چکا کہ دنیا میں آتے ہی ہم پہ سب سے پہلے جو مذہب خداوند عالم نے لاگو کیا وہ انسانیت کا مذہب ہے۔جس معاشرے میں ہم نے اپنا بچپن،جوانی اور بڑھاپا گزارنا ہوتا ہے وہاں موجود ہر مسلک و مذہب کا انسان ہمارے لیے قابل احترام ہوتا ہے۔اور ہمیں ایک دوسرے کے مذاہب کے مقدسات کا احترام ہم سب پر واجب ہے۔مولانا آصف معاویہ اور امیر عباس خان سیال کے اتحاد سے مجھے کوٸی تکلیف نہیں مگر دونوں محترم ہستیوں سے درخواست ہے کہ اتحاد کریں مگر عوام کو مسجدوں اور ستھروں پہ بے وقوف نہ بناٸیں۔سیاست کریں جس طرح سیاست کا حق ہے۔ہر طبقے مسلک و مذہب کے لوگوں کو اپنے جیسا انسان سمجھیں اور مذہبی کارڈ استعمال نہ کریں۔کیونکہ عوام شعور رکھتی ہے۔

آخر میں اس موصوف کو اتنا ہی کہوں گا جس نے مجھے اس تحریر کو نہ لکھنے کی دھمکی دی،محترم بھاٸی جان توحید پرست بندہ ہوں،اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہ تھا نہ کبھی ہو گا۔جو لکھنا ہے جیسا لکھنا ہے بسم اللہ کرو۔اپنی ذات پہ اٹھاۓ گٸے لفظوں کا جواب نہ کبھی دیا نہ دوں گا۔مگر حق لکھنا اکابرین نے سکھایا ہے۔اور میرے قاٸد نواب عون عباس خان سیال تھے،ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔اگر کسی کی دھمکیوں سے سچ لکھنا اور اپنے قاٸد کا ساتھ چھوڑ دوں تو زور جناب بھی لگاٸیں اور ہم بھی اپنے مشن پہ قاٸم ہیں۔بندوں سے ڈرتا تو کبھی بھی حق نہ لکھتا۔

الحمداللہ میرا مذہب اسلام ہے۔آقا دو جہاںﷺ،خلفاۓ راشدینؓ آٸمہ ثلاثہؓ،قدوسی جماعت محمدﷺ صحابہ کرامؓ و آلِ رسولﷺ سے محبت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں۔انہی کی پیروی کرتے ہوۓ انسانیت سے محبت کرتا ہوں۔اور حق و سچ پڑھتا اور لکھتا رہوں گا۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔مالک کاٸنات وطن عزیز سے فرقہ واریت کا خاتمہ فرماۓ اور امت مسلمہ کو ہر آفت و وبا سے محفوظ رکھے۔آمین

#حسیب_خان
خاکپاۓ درِ اصحابِ رسولﷺ