نااہل، نکمے، سفارشی اور رشوت کے بل پر بھرتی ہونے والے افسران کی ایک فوج مسلط ہے اس ملک پر… جس نظام کو ہم دن رات برا بھلا کہتے ہیں یہی لوگ دراصل وہ نظام ہیں…. ہم اسی نظام کو دن رات گالیاں بھی دیتے ہیں اور پھر نوکری حاصل کرنے کیلئے خود بھی انہی مراحل کو عبور کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں اور اس گند کو اپنے منہ پر مل لیتے ہیں…. اور پھر سے نظام کی برائی کی رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں… کراچی کے نالوں کی صفائی ہو یا ملک میں ارزاں نرخوں پر عوام کو ضروریات زندگی کی فراہمی، سہولیات کی بلا تعطل اور یکسو فراہمی ہو یا چینی، آٹا، تیل وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی، یا دیگر کوئی بھی انتظامی امور ہوں…. یہی گندگی اس سب میں ملوث رہی ہے…. اور اس کی کڑیاں ہمیشہ سے حکومتی ایوانوں سے جا ملتی ہیں…. فرق اب صرف اتنا ہے کہ اب اعلیٰ حکومتی ایوانوں نے اپنی ان ناجائز اولادوں کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے…. تو یہ حرام خور طبقہ اب اپنی اصل اوقات پر آگیا ہے….جب بھی حکومت کی طرف سے ان میں سے کسی کے خلاف معطلی، تبادلہ، تبدیلی یا برخاستگی جیسا کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو یہ قانون کے نظام میں خامیوں کا سہارا لے کر کسی حکم امتناعی یا اپیل وغیرہ کا سہارا لے کر پھر سے حکومت کا منہ چڑانے کیلئے انہی عہدوں پر براجمان نظر آتے ہیں….. جہاں سے بھی گھوم پھر کر آئیں چند مخصوص چہرے ہی اس نظام کو چلاتے نظر آتے ہیں….
لیکن ان کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ عوام اب اس قدر باشعور ضرور ہے کہ ایسے لٹیروں کو عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو پہچان سکتی ہے اور جیسے کئی دہائیوں سے اس ملک پر عفریت کی طرح چھائے ہوئے حکمران طبقے کو نکال باہر کیا اور اب وہ مالک کے دھتکارے ہوئے جانور کی طرح دربدر ہیں… عوام اب ان سے بھی واقف ہوتی جا رہی ہے… اور وہ دن قریب ہے جب یہ سب گندگی کو دھو ڈالا جائے گا…. اس لئے یا تو اپنا قبلہ درست کر لو… یا پھر عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنے کو تیار رہیں…. اب ہم محکوم نہیں رہیں گے…. ہم سوچ اور شعور کی غلامی کو ترک کر چکے ہیں… ہم عوام ہی بادشاہ گر ہیں… اگر بٹھانا جانتے ہیں تو گھسیٹ کر اتارنا بھی جانتے ہیں….
ہم اصل حکمران جن کو ہم منتخب کر کے بھیجتے ہیں ان کو با اختیار دیکھنا چاہتے ہیں…
بیوروکریسی کی حکمرانی….. مکمل طور پر نا منظور….
افسر شاہی…. مکمل طور پر نا منظور….

از قلم
(اختر عباس مگھیانہ سیال)