[08/08, 8:11 am] Saleem Hashmi Urdu Tehreek: جو اردو کے بارے میں اپ کو گمراہ کرے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ قائداعظم
(پروفیسر محمد سلیم ہاشمی)
یہ وہ لوگ ہیں جو ایک بوٹی کی خاطر ہمسائے کی بھینس ذبح کر رہے ہیں۔
جو اپنی اولاد کی خاطر پاکستان کے سارے بچوں کو اندھیروں کے سپرد کر رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو چند کروڑ روپوں کی رشوت کی خاطر پورا ملک بیچنے اور تباہ کرنے پر تلے ہیں۔
اگر کوئی ایجنسی زندہ اور فعال ہے تو ان لوگوں کے بنک کھاتوں کی چھان بین کرے اور دیکھے کہ انہوں نے پاکستان میں انگ ریزی مسلط کرنے کے نام پر این جی اوز، پبلشروں اور دوسرے اداروں سے کتنا پیسہ کمایا ہے۔
پاکستان پر، اس کے تعلیمی اداروں پر انگ ریزی مسلط کرنا کھربوں روپوں (شاید ڈالرز) کا معاملہ ہے۔
ٹیوٹا کے زیر انتظام چلنے والے ادارے جہاں 2020 تک اردو میں اردو میں تعلیم دی جا رہی ہے، یکدم انگ ریزی مسلط کرنا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس میں کتنے ارب روپیہ لگا ہوگا۔
پاکستان میں انگ ریزی کو ذریعہ تعلیم بنانا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنے کھرب روپے کا کھیل ہے؟
یہ معمولی بات نہیں ہے، یہ ملک کو، اس کی باسیوں کو، ان کی نسلوں کو، اس ملک کی ترقی اور خوش حالی کو بھاڑ میں جھونکنے کی بات ہے، اس سے بھی زیادہ۔
کیا دنیا میں کسی نے دیکھا کہ ایک آزاد، خود مختار ملک ہو اور اس کی زبان بدل دینے کی کوشش کی جائے۔
ایک ایسی زبان مسسلط کرنے کی بات کی جائے جو اس ملک کے کسی باسی کی زبان نہیں ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں کسی کو آتی بھی نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ اس کا رٹا لگایا جاتا ہے جو علم کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔
ہمارے لئے وہ علم ناقابل رسائی ہے جو ہماری زبان میں نہیں ہے۔
تعلیمی اداروں کی طویل بندش بھی اسی لئے ہے کہ جب یہ کھلیں تو بچوں پر انگ ریزی میڈیم کی کتابیں لاد دی جائیں، سب اسی میں خوش ہوں کہ تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں، کسی کا اس طرف دھیان ہی نہ جائے کہ اصل واردات کیا ہوئی ہے۔
کوئی ان سے پوچھے تو دنیا کے کتنے ملک ہیں جہاں ان کی زبان کو تج کر کوئی غیر ملکی زبان مسلط کی گئی ہو، یہ ملک ہمارا ملک کیا لاوارث ہے کہ دنیا کے بدترین لوگ اس کو اپنے تجربوں کی بھینٹ چڑھا دیں اور جب یہ تباہ و برباد ہو جائے تو یہ اس کو چھوڑ کر چلتے بنیں۔
انگ ریزی مسلط کرنے کے کس قدر ہولناک نتائج ہوں گے کیا کسی نے سوچا۔
اس ملک کے ٪99 سے زیادہ باشندے تعلیم حاصل سے محروم ہو جائیں گے، جو کچا پکا پڑھیں گے وہ علم سے عاری ہوں گے۔ یہاں کے تعلیمی ادارے، تحقیق و جستجو کے ادارے ختم ہو جائیں گے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم پر انگ ریزی مسلط ہے، ذرا بتائیں
قومی ادارہ صحت، پی سی ایس آئی آر، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی، آغا خان میڈیکل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے کرونا کی تشخیص، احتیاط اور علاج کے بارے میں ہماری کیا رہنمائی کی۔ یہ بیماری پچھلے چھے ماہ سے یہاں ہے اس کے بارے میں کتنا کام کیا؟
انگ ریزی مسلط کرتے جائیں اداروں کو بانجھ بناتے جائیں، بنجر ہوتا دیکھیں۔
کرونا کے خلاف ان اداروں کی کارکردگی دیکھیں، انگ ریزی مسلط ہونے کے بعد اس سے بھی برا حال پاکستان کے تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ہو جائے گا۔
کس قدر بد بخت لوگ ہیں، کس قدر بد بخت، اردو کے مقابلے میں علاقائی زبانوں کو کھڑا کر دیتے ہیں، جی پاکستان کثیر اللسانی ملک ہے، یہاں اردو کیسے نافذ ہو سکتی ہے، اور یہ کہتے ہوئے یہاں پر انگ ریزی مسلط کرنے کی بات کرتے ہیں جو یہاں کے کسی باشندے کی زبان نہیں ہے۔ انہیں روس، چین، امریکہ اور برطانیہ نظر نہیں آتا جو پاکستان سے کہیں زیادہ زبانیں رکھتے ہیں مگر وہاں ایک ایک زبان نافذ ہے۔
ان سب میں سے کوئی بتائے گا پاکستان میں کس فارمولے کے تحت انگ ریزی نافذ کی جائے اور یہ فارمولا دنیا میں کون کون سا ملک اپنائے ہوئے ہے، کیا جرمنی، کیا، فرانس، کیا، برطانیہ، کیا اسپین، کیا روس، کیا پرتگال، کیا چین، کیا ترکی، یہ فارمولا کہاں کہاں نافذ ہے؟
بات بات پر دنیا کے دوسرے ملکوں کی مثالیں دینے والے اس بارے میں کہاں کی مثال دیں گے؟
پاکستانیو جاگ جاؤ یہ تمہاری بربادی کے لئے کوشش کر رہے ہیں، تمہاری نسلوں کی بربادی کے لئے، یہ اس ملک کو برباد کر دیں گے، اس کو بنجر اور ویران کر دیں گے، کیا تمہیں اس کا احساس نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا تو اپنی مکمل بربادی کے لئے تیار ہو جاؤ