شوہر اور بیوی کا تعلق کیسا ہونا چاہیے؟
تحریر ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈمیڈلسٹ
ہم سمجھتے ہیں کہ شوہر اور بیوی کے رشتے کا وجود صرف نسل انسانی کی بقا کے لیے ہے جبکہ قرآن کے مطابق اس رشتے کا مقصد عورت سے سکون حاصل کرنا ہے۔
اس رشتے کو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا گیا ہے کیونکہ دو لوگ جو بالکل مختلف ماحول سے مختلف گھرانوں سے ہوتے ہیں لیکن اس رشتے میں بندھنے کے بعد دونوں کا نفع و نقصان ایک ہو جاتا ہے۔
دونوں ایک دوسرے سے سکون پانے لگتے ہیں اور یہ رشتہ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ خونی رشتوں سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے ۔
اگر مرد و عورت اس رشتے سے سکون نہیں پا رہے تو اس رشتے کا پہلا مقصد ہی ختم ہو جاتا۔
کبھی کبھی کا اختلاف تو ایک فطری بات ہے لیکن اگر لڑائی جھگڑا معمول بن گیا ہے تو رک جائیے *دوسرے کی زیادتی کو بنیاد بنا کر بد اخلاقی پر مت اتریے دل بڑا کیجیے آپ برائی کا جواب بھی اچھائی سے دیجیے اللہ دلوں میں محبت لوٹا دے گا۔
مرد و عورت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر بھی ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ۔
اللہ رب العزت نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے لباس قرار دیا ہے۔ لباس ستر فراہم کرتا ہے۔باعث زینت ہے۔گرمی سردی سے حفاظت کرتا ہے
اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے رازوں پر پردہ ڈالتے ہیں
ایک دوسرے کے ساتھ اچھے لگتے ہیں
نظروں کی حفاظت کرتے ہیں
مرد عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔
شیطان اس رشتے کی اہمیت کو خوب جانتا ہے اس لیے اس رشتے کو توڑنے کے لیے بدگمانیاں پیدا کرتا ہے رکاوٹیں ڈالتا ہے۔
یہ رشتہ تب ٹوٹنا شروع ہوتا ہے جب میاں بیوی دونوں اپنے اپنے والدین یا بہن بھائیوں سے الٹے سیدھے مشورے لیتے ہیں لہذا اپنے معاملات کو آپس میں بہترین گفتگو کے ذریعے نمٹائیں دوسروں کے غلط مشوروں پر عمل نہ کریں۔
میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا تحفظ کریں۔
اللہ نے مرد کو قوام بنایا ہے قوام حکمران نہیں ہوتا بلکہ نگران ہوتا ہے انسان ہونے کی حیثیت سے دونوں برابر ہیں گھر کو چلانے اور بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے حوالے سے مرد کو قوام کہا گیا ہے ۔
ڈاکٹرمحمداقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈلسٹ)






