نگہداشت و معاونت کا عالمی دن: انسانی ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور خواتین کی خدمات کا اعتراف، ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک
*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے کہا ہے کہ نگہداشت و معاونت کا عالمی دن انسانی ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور معاشرے کے کمزور طبقات کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا اہم موقع ہے۔ یہ دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ بچوں، بزرگوں، بیماروں اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کی دیکھ بھال محض انفرادی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اہم سماجی فریضہ بھی ہے۔نگہداشت و معاونت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری سے ہر سال 29 اکتوبر کو یہ دن منایا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد معاوضے کے عوض یا بلا معاوضہ دوسروں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد، کیئر ورکرز، گھریلو معاونین اور دیگر متعلقہ کارکنوں کی خدمات کو تسلیم کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسے افراد کی خدمات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جو اپنی ذاتی مصروفیات اور آرام کو پسِ پشت ڈال کر بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال اور بیمار افراد کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کی محنت نہ صرف خاندانوں کو سہارا دیتی ہے بلکہ ایک صحت مند، باہمی تعاون اور ہمدردی پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نگہداشت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو مناسب اجرت، محفوظ ماحول، بہتر کام کے حالات اور بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان افراد کی محنت کو معاشی اور سماجی سطح پر تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ عزت، تحفظ اور اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔محترمہ ماہم آصف ملک نے کہا کہ گھریلو سطح پر بچوں، بزرگوں اور بیماروں کی دیکھ بھال کا بڑا حصہ خواتین انجام دیتی ہیں، جبکہ ان کی خدمات کو اکثر وہ اہمیت اور اعتراف نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ عالمی سطح پر بلا معاوضہ نگہداشت کے کام کا 76 فیصد سے زائد حصہ خواتین کے ذمہ ہونے کی نشاندہی اس امر کی متقاضی ہے کہ گھریلو ذمہ داریوں کو منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے اور مرد و خواتین دونوں نگہداشت کے عمل میں برابر حصہ لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی معاشی، سماجی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ان پر نگہداشت کی غیر متناسب ذمہ داریوں کا بوجھ کم کیا جائے اور بچوں کی دیکھ بھال، بزرگوں کی معاونت اور دیگر ضروری خدمات کے لیے مؤثر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس سے خواتین کو تعلیم، روزگار اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے بہتر مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ نے کہا کہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں دوسروں کی خدمت کرنے والوں کی قدر کی جائے، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ضرورت مند افراد کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ نگہداشت و معاونت کے عالمی دن کا پیغام بھی یہی ہے کہ ہمدردی، مساوات، احترام اور باہمی تعاون کو فروغ دے کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں ہر فرد کو ضرورت کے وقت مناسب دیکھ بھال اور معاونت میسر ہو۔*













