31 اکتوبر دن گڑھ مہاراجہ کی عوام یتیم ہوئی

تحریر: محمد شاهد رضا خان

کچھ شخصیات محض سیاسی رہنما نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے علاقے کی پہچان، عوام کی امید، غریبوں کا سہارا اور دکھ درد میں شریک ہونے والی ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جن کی جدائی صرف ایک خاندان یا چند افراد کا نقصان نہیں ہوتی، بلکہ پورا علاقہ ان کی کمی محسوس کرتا ہے۔ ایسی شخصیات جب دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا برسوں تک پُر نہیں ہو پاتا۔ گڑھ مہاراجہ کی سرزمین بھی ایک ایسی ہی شخصیت سے محروم ہوئی، جن کا نام نواب عون عباس خان سیال تھا۔

آج کا دن ہمیں اس دردناک لمحے کی یاد دلاتا ہے جب نواب عون عباس خان سیال کی اچانک وفات نے گڑھ مہاراجہ، احمد پور سیال اور پورے ضلع جھنگ کی فضا کو سوگوار کر دیا تھا۔ وہ دن صرف ایک سیاسی رہنما کی وفات کا دن نہیں تھا، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑے سہارے کے بچھڑ جانے کا دن تھا جنہوں نے ان کی شخصیت میں اپنائیت، خلوص، شرافت اور خدمتِ خلق کا جذبہ دیکھا تھا۔

*ایک سیاسی خاندان میں آنکھ کھولنے والا عوامی نمائندہ*

نواب عون عباس خان سیال 16 جون 1982ء کو گڑھ مہاراجہ میں سابق رکنِ صوبائی اسمبلی نواب مظفر علی خان سیال کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایسے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کی علاقے کی سیاست میں ایک نمایاں شناخت اور دیرینہ وابستگی رہی ہے۔ ان کے والد نواب مظفر علی خان سیال بھی حلقے کی سیاست میں ایک معتبر نام اور نمایاں مقام رکھتے تھے۔

نواب عون عباس خان سیال نے اپنے والد کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے کم عمری ہی میں عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں وہ اُس وقت کے حلقہ پی پی 83، جو بعد میں حلقہ بندیوں کے نتیجے میں موجودہ حلقہ پی پی 130 کہلایا، سے رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ 2013ء سے 2018ء تک پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔

ان کی سیاسی کامیابی اس بات کی علامت تھی کہ علاقے کے لوگوں نے ان پر اعتماد کیا اور انہیں اپنے مسائل، ضروریات اور توقعات کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا۔ تاہم ان کی پہچان محض ایک انتخابی کامیابی یا اسمبلی کی رکنیت تک محدود نہیں تھی؛ ان کی شخصیت کا اصل حوالہ ان کا عوام سے تعلق اور لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ تھا۔

*شرافت، سادگی اور ملنسار انسان*

نواب عون عباس خان سیال کی شخصیت کا ذکر ہو تو ان کی شرافت، سادگی، ملنساری اور خوش اخلاقی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے وابستہ لوگوں کے نزدیک وہ ایک نرم مزاج، خوش گفتار اور ملنے جلنے والے انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں ایسی سادگی تھی جو لوگوں کو ان کے قریب لے آتی تھی اور ایسی اپنائیت تھی جو سیاسی تعلق کو انسانی تعلق میں بدل دیتی تھی۔

عوامی زندگی میں کسی شخص کی حقیقی قدر کا اندازہ صرف اس کے عہدے، خاندانی پس منظر یا سیاسی اثر و رسوخ سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ عام آدمی کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے، غریب کے دکھ کو کتنی اہمیت دیتا ہے اور ضرورت مند کی آواز سننے کے لیے کتنا آمادہ رہتا ہے۔

نواب عون عباس خان سیال کے حوالے سے ان کے چاہنے والے انہیں ایک یتیم پرور، غریب دوست اور عوام کے دکھ درد میں شریک رہنے والی شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہی اوصاف کسی بھی عوامی نمائندے کو لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتے ہیں۔ سیاسی منصب وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، لیکن حسنِ اخلاق، خلوص اور خدمت کی یادیں لوگوں کے دلوں میں باقی رہتی ہیں۔

*والد کی سیاسی وراثت اور عوام سے وابستگی*

نواب مظفر علی خان سیال کی وفات کے بعد ان کے خاندان کی سیاسی ذمہ داریوں کا ایک اہم باب نواب عون عباس خان سیال کی صورت میں آگے بڑھا۔ ان کے والد بھی نسبتاً کم عمر، تقریباً پچاس برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ یوں اس خاندان نے کم عمری میں اپنے ایک اہم فرد کی جدائی کا دکھ برداشت کیا، اور بعد ازاں نواب عون عباس خان سیال کی اچانک وفات نے اس غم کو ایک بار پھر تازہ کر دیا۔

سیاسی خاندانوں کی اصل طاقت صرف ان کے نام، اثر و رسوخ یا انتخابی تاریخ میں نہیں ہوتی، بلکہ اس روایت میں ہوتی ہے جو عوامی خدمت، لوگوں سے رابطے اور مسائل کے حل کی صورت میں قائم کی جاتی ہے۔ ایسی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والی نسلیں محض سیاسی نام کو آگے نہ بڑھائیں، بلکہ اس نام سے وابستہ ذمہ داریوں اور عوامی توقعات کو بھی سمجھیں۔

*وہ دن جب پورا علاقہ سوگوار ہو گیا*

نواب عون عباس خان سیال کی اچانک وفات کی خبر نے ان کے چاہنے والوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ ان کے انتقال کی وجہ عارضۂ قلب بتائی گئی۔ ان کے قریبی حلقوں اور علاقے کے لوگوں کے لیے اس خبر پر یقین کرنا مشکل تھا کہ ایک ایسا شخص جو ابھی زندگی کے سفر میں آگے بڑھ رہا تھا، اس طرح اچانک دنیا سے رخصت ہو گیا۔

گڑھ مہاراجہ، احمد پور سیال اور ضلع جھنگ کے لوگوں کے لیے یہ ایک المناک لمحہ تھا۔ فضا پر اداسی چھا گئی، آنکھیں اشک بار ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے اپنے انداز میں اس جدائی کا دکھ محسوس کیا۔ کسی کے لیے وہ ایک سیاسی رہنما تھے، کسی کے لیے خاندانی تعلق رکھنے والی شخصیت، کسی کے لیے ایک ملنسار انسان اور کسی کے لیے ایک ایسی امید جس سے عوامی مسائل کے حل کی توقع وابستہ تھی۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے، لیکن بعض اموات اپنے پیچھے ایسے سوالات چھوڑ جاتی ہیں جن کے جواب وقت بھی آسانی سے نہیں دے پاتا۔ نواب عون عباس خان سیال کی جدائی بھی گڑھ مہاراجہ کی سیاست اور عوامی زندگی میں ایک ایسا خلا چھوڑ گئی جسے محسوس کرنے والے آج بھی ان کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

*آج گڑھ مہاراجہ کی عوام کو کس چیز کی ضرورت ہے؟*

آج جب ہم نواب عون عباس خان سیال کو یاد کرتے ہیں تو محض ماضی کے ایک سیاسی دور کا تذکرہ کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کے بعد علاقے کی سیاست میں عوامی خدمت، خلوص، سادگی اور عام آدمی کے مسائل کو اہمیت دینے کی وہ روایت اسی قوت سے آگے بڑھ سکی ہے جس کی لوگ توقع رکھتے تھے؟

گڑھ مہاراجہ اور اس کے گردونواح کے عوام کو ایسے سیاسی رہنما کی ضرورت ہے جو ان کے درمیان موجود ہو، ان کے مسائل کو سمجھے، ان کی مشکلات کو اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور ان کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرے۔ عوام کو ایسے نمائندے کی ضرورت ہے جو انتخابی موسم میں ہی نہیں، بلکہ عام دنوں میں بھی ان کے دکھ درد میں شریک ہو؛ جو غریب کی بات سنے، ضرورت مند کی مدد کے لیے دستیاب ہو اور عوامی خدمت کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھے۔

نواب عون عباس خان سیال کی یاد کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان سے منسوب اچھے اوصاف کو عملی زندگی میں اپنایا جائے۔ اگر ان کے خاندان یا علاقے کی نئی نسل کا کوئی فرد عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے سب سے اہم معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترے، لوگوں کے مسائل کو ترجیح دے اور سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے خدمت کا ذریعہ بنائے۔

یہ بات بھی ضروری ہے کہ سیاسی وراثت صرف خاندانی نسبت سے منتقل نہیں ہوتی؛ اسے کردار، عمل، عوامی رابطے اور مسلسل خدمت کے ذریعے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ عوام اپنے رہنماؤں سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان رہیں، ان کی آواز بنیں اور ان کے حقوق کے لیے ذمہ داری کے ساتھ کردار ادا کریں۔

*سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت ہے*

ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ اسمبلی کی نشست، سیاسی عہدہ اور اقتدار عارضی ہیں، لیکن انسان کا کردار اور اس کی خدمات دیرپا اثرات چھوڑتی ہیں۔ جو رہنما عوام کے دلوں میں جگہ بناتا ہے، وہ اپنی وفات کے بعد بھی لوگوں کی گفتگو، دعاؤں اور یادوں میں زندہ رہتا ہے۔

نواب عون عباس خان سیال کی زندگی اور ان کی اچانک وفات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ زندگی مختصر ہو سکتی ہے، مگر انسان اپنے اخلاق، خلوص اور خدمت کے ذریعے ایسی یادیں چھوڑ سکتا ہے جو طویل عرصے تک باقی رہتی ہیں۔ عوامی نمائندگی ایک اعزاز ضرور ہے، لیکن اس سے بڑھ کر ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ اس امانت کا حق اسی وقت ادا ہوتا ہے جب عوام کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔

آج گڑھ مہاراجہ کے عوام کو ایسے ہی مخلص، بااخلاق، ملنسار اور خدمت گزار سیاسی کردار کی ضرورت ہے جو مرحوم نواب عون عباس خان سیال کی اچھی روایات سے رہنمائی حاصل کرے اور علاقے کے لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی جدوجہد کرے۔

*ایک دعا، ایک یاد اور ایک پیغام*

آج کے دن ہم نواب عون عباس خان سیال کو یاد کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوستوں اور تمام چاہنے والوں کے ساتھ اس جدائی کے احساس میں شریک ہیں۔ کسی اپنے کا بچھڑ جانا ہمیشہ ایک ایسا دکھ ہوتا ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ غم کی شدت شاید کم ہو جائے، مگر مخلص انسانوں کی یادیں دلوں میں باقی رہتی ہیں۔

گڑھ مہاراجہ کی عوام کو آج بھی ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو ان کے قریب ہو، ان کی آواز سنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہو اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی سیاسی شخصیت کو عوام کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم نواب عون عباس خان سیال کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ اور تمام سوگواروں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور گڑھ مہاراجہ، احمد پور سیال اور ضلع جھنگ کے عوام کو ایسے مخلص، دیانت دار اور خدمت گزار رہنما عطا فرمائے جو ان کے مسائل حل کرنے اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر: محمد شاهد رضا خان

SHARE
Previous articleDudas fundadas sobre Cashed