ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی بہترین کارکردگی، عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کی دی بیسٹ ڈپٹی کمشنر‘‘ قرار دے دیا
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
**ٹوبہ ٹیک سنگھ:عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک کی بہترین کارکردگی، عوامی مسائل کے حل اور ضلع میں انتظامی امور کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اسے ماہم آصف ملک جیسی باصلاحیت، باہمت اور دبنگ خاتون افسر کی خدمات حاصل ہوئی ہیں، جو عوامی خدمت اور انتظامی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں نبھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ عوامی حلقوں نے ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کی دی بیسٹ ڈپٹی کمشنر‘‘ قرار دیا ہے۔عوامی حلقوں کے مطابق ایک اچھی انتظامی شخصیت کی پہچان صرف عہدہ یا اختیار نہیں بلکہ عوامی مسائل کا ادراک، میرٹ کی پاسداری، قانون کی عمل داری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک سے عوامی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ضلع کی تعمیر و ترقی، صفائی ستھرائی، صحت، تعلیم، تجاوزات کے خاتمے، سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور شہریوں کے مسائل کے بروقت حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی مؤثر کارکردگی اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیابی قرار پاتی ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں، سرکاری دفاتر میں عوام کو ریلیف ملے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری نظر آئے۔ اس مقصد کے لیے افسران کی فرض شناسی، عوام دوست رویہ، شفافیت اور جواب دہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی کہ ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور انتظامی بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں کی توقعات پر پورا اتریں گی۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ بہترین کارکردگی کا اصل معیار عوامی مسائل کا پائیدار حل اور عام شہری کی زندگی میں مثبت تبدیلی ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کو ’’دی بیسٹ ڈپٹی کمشنر‘‘ کا خطاب ان کی کارکردگی پر اعتماد اور ان سے وابستہ توقعات کا اظہار ہے۔ شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عوامی خدمت، میرٹ، قانون کی بالادستی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا یہ سفر مزید بہتر انداز میں جاری رہے گا۔*













