ذہنی صحت، صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے، ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کا عالمی یومِ ذہنی صحت پر اہم پیغام## ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق شعور اجاگر کرنا، غلط تصورات کا خاتمہ اور ذہنی تندرستی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت بھی انسانی زندگی اور فلاح و بہبود کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ذہنی صحت انسانی زندگی، شخصیت کی تعمیر اور معاشرتی فلاح و بہبود کا ایک اہم ستون ہے۔ جس طرح جسمانی صحت انسان کو روزمرہ زندگی کے امور انجام دینے کے قابل بناتی ہے، اسی طرح ذہنی صحت انسان کی سوچ، جذبات، رویوں، باہمی تعلقات اور زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس لیے ذہنی تندرستی کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے صحتِ عامہ اور سماجی ترقی کا بنیادی حصہ سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ عالمی یومِ ذہنی صحت منانے کا بنیادی مقصد ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں عالمی سطح پر شعور بیدار کرنا، ذہنی تندرستی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں ذہنی بیماریوں سے متعلق پائے جانے والے غلط تصورات اور منفی رویوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ دن حکومتوں، سرکاری و نجی اداروں، طبی ماہرین، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور عام شہریوں کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح انسانی زندگی اور فلاح و بہبود کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ذہنی دباؤ، اضطراب، مایوسی اور دیگر نفسیاتی مسائل کو کمزوری یا شرمندگی کی علامت سمجھنا درست نہیں۔ زندگی میں مختلف حالات، معاشی مشکلات، گھریلو مسائل، تعلیمی دباؤ، ملازمت کے تقاضے اور سماجی ذمہ داریاں بعض اوقات انسان کی ذہنی کیفیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں متاثرہ فرد کو تنقید، طعنوں یا سماجی دوری کا سامنا کروانے کے بجائے اس کی بات توجہ سے سننا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور ضرورت پڑنے پر مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے میں مدد دینا ایک ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے مثبت سوچ، آگاہی اور بروقت رہنمائی نہ صرف انفرادی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ خاندانوں اور معاشرے میں بھی اعتماد، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی اور مناسب علاج سے بہت سے افراد کو اپنی زندگی معمول کے مطابق گزارنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی کیفیت پر بھی توجہ دیں۔ ان کے مسائل سنیں، ان کے احساسات کو سمجھیں اور انہیں ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ بلاخوف اپنے مسائل بیان کر سکیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں اور دفاتر میں بھی ایسا مثبت ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں ذہنی دباؤ کو کم کرنے، باہمی تعاون بڑھانے اور ضرورت کے وقت مناسب مشاورت حاصل کرنے کے مواقع موجود ہوں۔محترمہ ماہم آصف ملک نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے ساتھ ہمدردی، احترام اور شفقت کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی شخص کی ذہنی کیفیت کو مذاق کا موضوع بنانا یا اسے معاشرتی طور پر تنہا کر دینا اس کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس حوصلہ افزائی، مثبت گفتگو، خاندانی تعاون اور مستند ماہرین کی رہنمائی متاثرہ افراد کے لیے امید اور بہتری کے راستے کھول سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی تندرستی کے فروغ کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ متوازن طرزِ زندگی، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، صحت مند خوراک، اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ مثبت تعلقات اور روزمرہ زندگی میں اعتدال ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ذہنی پریشانی مسلسل برقرار رہے یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات یا مستند معالج سے مشورہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیےذہنی صحت اور معاشرتی ذمہ داری عالمی یومِ ذہنی صحت ہمیں یہ اہم پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل صرف بیماریوں کے علاج، ہسپتالوں کی سہولیات اور جسمانی صحت کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی ذہنی، جذباتی اور سماجی بہبود بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے افراد کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے، مشکلات کا سامنا کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے سازگار ماحول میسر ہو ضرورت اس امر کی ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو محض ایک دن کی سرگرمی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، میڈیا اور سماجی حلقوں کے ذریعے مسلسل شعور اجاگر کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کہ وہ مستند معلومات عوام تک پہنچائیں، ذہنی بیماریوں سے متعلق غلط فہمیوں کی اصلاح کریں اور متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردانہ رویے کو فروغ دیں۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک کا پیغام اسی اجتماعی احساسِ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے کہ ذہنی صحت کو انسانی فلاح و بہبود کا لازمی جزو تسلیم کیا جائے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ذہنی مسائل کو سمجھا جائے، متاثرہ افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں بروقت رہنمائی و علاج کی سہولت میسر ہو، وہ معاشرہ زیادہ مضبوط، پُرامن اور خوشحال بن سکتا ہے۔ ذہنی صحت کوئی کمزوری نہیں بلکہ انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد موجود افراد کے احساسات کو سمجھنے، ان کے مسائل سننے، انہیں تنہا نہ چھوڑنے اور ذہنی صحت کے حوالے سے شعور و آگاہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ ایک صحت مند ذہن ہی ایک صحت مند خاندان، مضبوط معاشرے اور روشن مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔*













