ہسپتال میں اسلحہ تحفظ کا حصار یا خوف کا تاثر؟
تحریر: سلمان احمد قریشی


گارڈ کلچر اور اسلحے کی نمائش ہماری اجتماعی زندگی میں ایک عجیب معمول بنتی جا رہی ہے۔ جس کے پاس اختیار ہے، اس کے ساتھ گارڈز کا ہجوم، جس کے پاس وسائل ہیں، اس کے گرد اسلحہ بردار محافظ اور جہاں کسی منصب کی اہمیت ہے وہاں سکیورٹی کے نام پر بندوقوں کا سایہ دکھائی دینا اب ہمارے معاشرتی منظرنامے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر جگہ اسلحے کی موجودگی واقعی تحفظ کی علامت ہے یا بعض اوقات یہ خوف اور عدم تحفظ کا تاثر بھی پیدا کرتی ہے؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب منظر کسی سیاسی جلسے، حساس مقام یا نجی تقریب کا نہیں بلکہ ایک سرکاری ہسپتال کا ہو۔ ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں لوگ اپنے دکھ، بیماری اور پریشانی کے ساتھ آتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملہ مریضوں کے لیے امید اور اعتماد کی علامت ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سکیورٹی یقیناً ضروری ہے، لیکن سکیورٹی کا انداز بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خود سکیورٹی کا انتظام اہم ہے۔ پاکستان میں ہسپتالوں میں تشدد کا مسئلہ محض تاثر نہیں۔ ایک بڑے تحقیقی مطالعے میں ملک کے مختلف علاقوں سے 8,579 ہیلتھ کیئر ورکرز کو شامل کیا گیا۔ ان میں 38.4 فیصد نے بتایا کہ انہیں گزشتہ چھ ماہ میں کسی نہ کسی نوعیت کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ تحقیق کے مطابق زبانی تشدد سب سے زیادہ رپورٹ ہوا جبکہ جسمانی تشدد کی بڑی وجوہات میں مریض کی موت، مریض کی سنگین حالت اور علاج میں تاخیر شامل تھیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو تحفظ درکار ہے۔ لیکن تحفظ کا مطلب صرف بندوق بردار گارڈ نہیں۔ سکیورٹی کے ایک مؤثر نظام میں داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی، وزیٹر مینجمنٹ، تربیت یافتہ عملہ، کیمروں کا نظام، ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل اور مریضوں و لواحقین سے مؤثر رابطہ بھی شامل ہوتا ہے۔
کراچی کے ایک سرکاری اور ایک نجی ہسپتال کے سکیورٹی جائزے میں بھی سکیورٹی مینجمنٹ، عملے کے تحفظ، وزیٹر مینجمنٹ اور کیمپس سکیورٹی میں مختلف نوعیت کی خامیوں کی نشاندہی ہوئی۔ تحقیق نے صرف گارڈز بڑھانے کے بجائے غیر ضروری رسائی محدود کرنے، مریضوں، طبی عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان بہتر رابطے اور تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ و فوری ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے کی سفارش کی۔یہی پس منظر ہمیں ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ کے ایک منظر کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں ایم ایس معمول کے وارڈ وزٹ کے دوران بھی مسلح گارڈز کے حصار میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں سوال کسی فرد کی ذاتی سکیورٹی پر اعتراض نہیں بلکہ ایک سرکاری ادارے کے سکیورٹی پروٹوکول کی شفافیت کا ہے۔
اگر کسی افسر یا ہسپتال کے سربراہ کو واقعی مخصوص سکیورٹی خطرہ لاحق ہو تو ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں مناسب تحفظ فراہم کریں۔ لیکن اگر معمول کے وارڈ وزٹ کے لیے مسلح حفاظتی حصار اختیار کیا گیا ہے تو یہ جاننا بھی عوام کا حق ہے کہ اس کے پیچھے کیا سکیورٹی اسیسمنٹ ہے۔۔؟ کیا کوئی مخصوص خطرہ موجود ہے۔۔؟ کیا اس سکیورٹی کی باقاعدہ منظوری حاصل کی گئی ہے اور کیا وارڈز کے اندر مسلح گارڈز کی موجودگی کے لیے واضح ایس او پیز موجود ہیں؟
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہسپتال میں مسلح سکیورٹی کی موجودگی بذاتِ خود غیر قانونی قرار نہیں دی جا سکتی۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے سکیورٹی ٹینڈرز میں مسلح اور غیر مسلح گارڈز کا انتظام موجود رہا ہے، جبکہ اسلحہ لائسنس، ہتھیاروں کی تفصیل، متعلقہ گارڈ کے پاس اسلحہ رکھنے کا مجاز خط اور اسلحے کی حوالگی و وصولی کا ریکارڈ رکھنے جیسی شرائط بھی شامل کی گئی ہیں۔لیکن قانونی اجازت اور مناسب انتظام دو الگ سوالات ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ گارڈ کے پاس بندوق کیوں ہے۔۔؟ اصل سوال یہ ہے کہ بندوق کہاں، کس مقصد کے لیے، کس اختیار کے تحت اور کس طریقہئ کار کے مطابق موجود ہے۔۔؟طبی ماحول میں اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جدید تحقیق ہسپتالوں میں ہتھیاروں کی موجودگی کو ایک اہم سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے۔ 2024 میں شائع ہونے والی ایک systematic review نے مختلف ہسپتالوں میں ہتھیاروں کی موجودگی کا جائزہ لیا۔ تاہم اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر مسلح گارڈ کی موجودگی لازماً مریضوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلحے کی نمائش کے کلچر کی حوصلہ شکنی کریں، مگر حقیقی سکیورٹی ضرورت کو بھی نظر انداز نہ کریں۔ ہسپتال میں ایسا سکیورٹی نظام ہونا چاہیے جو مریض اور لواحقین کو خوف زدہ کرنے کے بجائے محفوظ ہونے کا احساس دے، طبی عملے کو تحفظ فراہم کرے اور کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ڈی ایچ کیو اوکاڑہ کو اسی تناظر میں ایک مثال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ایم ایس کو کوئی حقیقی سکیورٹی تھریٹ درپیش ہے تو متعلقہ حکام مناسب سطح پر اس کی وضاحت کریں۔ اگر یہ باقاعدہ سکیورٹی پروٹوکول ہے تو اس کی بنیاد اور دائرہئ کار واضح کیا جائے۔ اور اگر کوئی مخصوص خطرہ موجود نہیں تو پھر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا سرکاری ہسپتال کے وارڈز میں اسلحہ بردار حفاظتی حصار واقعی ضروری ہے؟ہسپتال میں سکیورٹی ضرور ہونی چاہیے، مگر سکیورٹی کا ایسا کلچر نہیں ہونا چاہیے جس میں مریض کو علاج کے ساتھ بندوقوں کا منظر بھی دیکھنا پڑے۔ تحفظ وہ ہے جو اعتماد پیدا کرے؛ ایسا مظاہرہ نہیں جو خوف کا تاثر دے۔ ڈنڈا کلچر، گارڈ کلچر اور اسلحے کی نمائش کے بجائے ہمیں ذمہ دار، باقاعدہ اور شفاف سکیورٹی کلچر کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہی مریض، ڈاکٹر، عملے اور پورے معاشرے کے مفاد میں ہے۔
اسلحے کی نمائش کسی بھی صورت میں ایک صحت مند معاشرتی رویہ نہیں اور ہسپتال جیسے حساس مقام پر تو اس کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جس ہسپتال کے باہر سڑک پر بھی ٹریفک کے ہارن کی ممانعت اس لیے ہوتی ہے کہ مریضوں کے لیے پُرسکون ماحول برقرار رہے، اسی ہسپتال کے وارڈ میں مسلح گارڈز کا حصار یقیناً ایک مختلف تاثر پیدا کرتا ہے۔ ہسپتال میں داخل مریض اور اس کے لواحقین کے لیے بندوق تحفظ کی علامت سے زیادہ خوف کی علامت بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ بالخصوص جب ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات عموماً ڈیوٹی ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کو پیش آتے ہیں، جبکہ انتظامی عہدے پر فائز ایم ایس معمول کے وارڈ راؤنڈ کے دوران عموماً ایمرجنسی یا مریضوں کے براہِ راست علاج کے عمل میں شامل نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر معمول کے راؤنڈ کے لیے بھی مسلح گارڈز کا حفاظتی حصار لازم سمجھا جائے تو راقم الحروف کے لیے یہ محض سکیورٹی سے زیادہ پروٹوکول کا تاثر پیدا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سکیورٹی کو شخصیت کے پروٹوکول کے بجائے ادارہ جاتی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے۔ جس سکیورٹی کی ضرورت ڈاکٹر، نرس، مریض اور لواحقین کو ہے، وہ سب کے لیے یکساں اور واضح اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔ اگر کسی مخصوص خطرے کے باعث ایم ایس کو مسلح سکیورٹی فراہم کی گئی ہے تو متعلقہ حکام اس کی وجہ اور مجاز سکیورٹی پروٹوکول واضح کریں اور اگر ایسا کوئی مخصوص خطرہ نہیں تو پھر ہسپتال کے پُرسکون ماحول میں اسلحے کی غیر ضروری نمائش سے گریز ہی دانش مندی ہے۔ ہسپتال خوف دکھانے کی نہیں، خوف کم کرنے کی جگہ ہے۔یہاں سکیورٹی کا مقصد بندوق دکھانا نہیں بلکہ تحفظ کا احساس دلانا ہونا چاہیے۔سوال مسلح سکیورٹی کی ضرورت سے زیادہ اس امر کا ہے کہ آیا یہ کسی مخصوص خطرے کے پیش نظر حفاظتی انتظام ہے یا محض عہدے کے معمول کے پروٹوکول کا حصہ بن چکا ہے۔













