ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انسدادِ سموگ مہم تیز، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ، فصلوں کی باقیات جلانے پر 7 لاکھ 95 ہزار روپے جرمانے، 6 مقدمات درج،ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی زیرصدارت اجلاس، 14 بھٹے سیل، 26 مسمار، بھٹہ مالکان کو 21 لاکھ روپے جرمانے، صنعتی یونٹس اور باربی کیو پوائنٹس کے خلاف بھی کارروائیاں، شہریوں کا ضلعی انتظامیہ کے اقدامات پر خراجِ تحسین
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق سموگ کے تدارک، فضائی آلودگی میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی جانب سے انسدادِ سموگ مہم کے تحت عملی اقدامات اور فیلڈ مانیٹرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک کی زیرصدارت انسدادِ سموگ اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری رکھنے اور تمام متعلقہ محکموں کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ مجاہد عباس، ڈی ایس پی پولیس، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات انجینئر سرفراز انجم، محکمہ زراعت، پولیس، پنجاب فوڈ اتھارٹی، میونسپل اداروں، ہائی وے، بلڈنگ اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس موقع پر تمام محکموں کی جانب سے انسدادِ سموگ اقدامات، فیلڈ مانیٹرنگ اور خلاف ورزیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ زراعت نے فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 7 لاکھ 95 ہزار روپے جرمانے عائد کیے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 6 مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے ہدایت کی کہ فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ویلج کمیٹیوں کو فعال رکھا جائے اور نمبردار، پٹواری اور محکمہ زراعت کے اہلکار مشترکہ طور پر نگرانی کریں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری مقدمات درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری طور پر الاٹ شدہ اراضی پر فصلوں کی باقیات جلانے کا واقعہ سامنے آنے پر متعلقہ الاٹمنٹ منسوخ کر دی جائے گی۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات انجینئر سرفراز انجم نے اجلاس کو بھٹہ خشت، صنعتی یونٹس، باربی کیو پوائنٹس اور گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی روک تھام کے حوالے سے محکمانہ اقدامات پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ محکمہ ماحولیات کی جانب سے 272 بھٹوں کے مجموعی طور پر 315 معائنے کیے گئے، خلاف ورزیوں پر 14 بھٹے سیل، 2 مقدمات درج جبکہ 26 بھٹے مسمار کیے گئے۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر بھٹہ مالکان کو مجموعی طور پر 21 لاکھ روپے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔اسی طرح صنعتی یونٹس کے 53 معائنے کیے گئے، خلاف ورزی پر ایک صنعتی یونٹ سیل، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور 11 نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ تمام صنعتی بوائلرز کی آن لائن مانیٹرنگ کے لیے کیمرے بھی نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔اجلاس میں باربی کیو پوائنٹس پر دھوئیں کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ 50 سیکشن ہڈز نصب کیے گئے، خلاف ورزی کرنے والوں کو 25 نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ باربی کیو پوائنٹس کے 113 معائنے کرکے خلاف ورزیوں پر 16 یونٹس سیل کیے گئے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے ٹریفک پولیس، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ہائی وے پولیس کو ہدایت کی کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں اور گاڑیوں کی فٹنس و اخراجِ دھواں کی جانچ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے تعمیراتی سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کی سائٹس پر گردوغبار کی روک تھام کے لیے باقاعدگی سے پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی، جبکہ شہباز چوک پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ہائی وے اور ٹریفک پولیس کو مؤثر اقدامات کرنے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی آلودگی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھی جائیں۔ سیف سٹی کے ذریعے بھی انسدادِ سموگ اقدامات اور خلاف ورزیوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ شہری سموگ اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق شکایات فون نمبر 046-9201003پر درج کروا سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ سموگ کا باعث بننے والی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انسدادِ سموگ اقدامات میں غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ محکمے فیلڈ میں اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے باہمی رابطے کے ذریعے ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے اور دیگر ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرکے ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں، کیونکہ صاف ستھرا اور صحت مند ماحول برقرار رکھنا حکومت، انتظامیہ اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دریں اثناء شہری حلقوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک کی زیرنگرانی انسدادِ سموگ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فضائی آلودگی کے خاتمے، صاف ماحول کی فراہمی اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ انسدادِ سموگ مہم اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جاتی رہے گی۔بلاشبہ سموگ کا مسئلہ انسانی صحت، ماحول، زراعت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم چیلنج ہے۔ اس کے مستقل تدارک کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری اقدامات کے ساتھ عوامی شعور، اجتماعی ذمہ داری اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جاری انسدادِ سموگ مہم کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب انتظامیہ اور شہری مل کر فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور ضلع کو صاف، صحت مند اور آلودگی سے پاک بنانے میں عملی تعاون جاری رکھیں۔*













