عالمی یومِ شہروں: پائیدار ترقی، صاف ستھرے ماحول اور شہری سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ: عالمی یومِ شہروں (World Cities Day) ہر سال 31 اکتوبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد شہروں کی ترقی، شہری آبادی کو درپیش مسائل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار شہری ترقی کے حوالے سے عالمی سطح پر شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے عالمی یومِ شہروں کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ جدید دور میں شہروں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور خوبصورت بازاروں تک محدود نہیں بلکہ ایک مثالی شہر وہی ہوتا ہے جہاں شہریوں کو صاف پانی، نکاسی آب، صفائی ستھرائی، صحت، تعلیم، معیاری ٹرانسپورٹ اور صاف ستھرا ماحول میسر ہو۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 27 دسمبر 2013ء کو قرارداد نمبر A/RES/68/239 کے ذریعے ہر سال 31 اکتوبر کو عالمی یومِ شہروں منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس عالمی دن کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے تناظر میں شہروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لینا، بہتر منصوبہ بندی کو فروغ دینا اور ایسے ترقیاتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور پائیدار شہری ماحول فراہم کر سکیں۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث پینے کے صاف پانی، سیوریج، ٹریفک، رہائشی سہولیات، ماحولیاتی آلودگی، صفائی اور صحت عامہ جیسے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ شہری ترقی کے منصوبے جدید تقاضوں، مقامی ضروریات اور مستقبل کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں، درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی، غیر ضروری تعمیرات اور درختوں کی کمی بھی شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس لیے شہروں میں شجرکاری، گرین بیلٹس، پارکس، جدید سیوریج نظام، بارش کے پانی کی نکاسی اور ماحول دوست منصوبہ بندی کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل کے دوران ماحولیاتی تحفظ اور عوامی ضروریات کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت ضلع بھر کے شہروں کی خوبصورتی، صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے، نکاسی آب کی بہتری، صاف پانی کی فراہمی اور عوامی سہولیات میں اضافے کے لیے مربوط حکمت عملی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری مسائل کے حل کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کریں اور عوام کو بہتر شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہری ترقی صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں شہریوں کا تعاون بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صفائی کا خیال رکھیں، کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر ڈالیں، پانی کا ضیاع روکیں، درخت لگائیں، سرکاری املاک کی حفاظت کریں اور ٹریفک و شہری قوانین کی پابندی کریں۔ عوامی تعاون کے بغیر کسی بھی شہر کو صاف، خوبصورت اور منظم بنانا ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار شہری ترقی کا اصل مقصد ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں ہر شہری کو مساوی سہولیات، محفوظ رہائش، صحت مند ماحول اور بہتر معیارِ زندگی میسر ہو۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور خصوصی افراد کی ضروریات کو بھی شہری منصوبہ بندی میں خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ شہروں کو ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی اور محفوظ بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ عالمی یومِ شہروں ہمیں اس عزم کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم اپنے شہروں کو صاف، سرسبز، محفوظ، خوبصورت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کریں۔ بہتر شہر ہی بہتر معاشرے اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ہمیں آج ایسے ترقیاتی فیصلے کرنے ہوں گے جن کے مثبت ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچ سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی شہر کی اصل خوبصورتی اس کی بلند عمارتوں میں نہیں بلکہ وہاں بسنے والے شہریوں کے معیارِ زندگی، صاف ماحول، بنیادی سہولیات اور منظم شہری نظام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔*













