ڈینگی سے بچاؤ، انسانی جان کا تحفظ اور اسلامی تعلیمات: ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کی آئمہ مساجد و خطباء کرام سے اپیل
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: دینِ اسلام انسانی جان کے تحفظ، صفائی ستھرائی، پاکیزگی اور بیماریوں سے بچاؤ کی تعلیم دیتا ہے۔ انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمت ہے اور اس کی حفاظت ہر فرد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں ڈینگی جیسے مچھر سے پھیلنے والے مرض کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، ماحول کو صاف ستھرا رکھنا اور مچھروں کی افزائش کے ممکنہ مقامات کا خاتمہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق آئمہ مساجد اور خطباء کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ خطباتِ جمعہ اور دیگر دینی اجتماعات کے دوران عوام الناس میں ڈینگی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے شعور اجاگر کریں۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک کے مطابق ڈینگی کی روک تھام محض سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئمہ مساجد اور خطباء کرام معاشرے میں ایک مؤثر اور قابلِ احترام مقام رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے دی جانے والی دینی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی عوام میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر مساجد کے منبر سے صفائی، احتیاط، انسانی جان کے تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری کا پیغام عام کیا جائے تو شہریوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے شعور مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے آئمہ مساجد و خطباء کرام پر زور دیا کہ وہ جمعہ کے خطبات میں عوام کو آگاہ کریں کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے گھروں، دکانوں، مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ گھروں کی چھتوں، صحنوں، گملوں، کولروں، ٹینکیوں، پرانے ٹائروں اور دیگر ایسی جگہوں پر پانی جمع نہ ہونے دیا جائے جہاں مچھر افزائش پا سکتے ہیں۔ پانی کے برتنوں اور ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھا جائے اور اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا بنایا جائے۔ڈینگی سے محفوظ رہنے کے لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ جسم کو ڈھانپنے والے، خصوصاً آستین والے کپڑے پہنیں، مچھر بھگانے والے مستند ریپیلنٹ کا ہدایات کے مطابق استعمال کریں اور گھروں میں دروازوں و کھڑکیوں پر جالیوں سمیت دیگر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں۔ بچوں، بزرگوں اور ایسے افراد کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے جو مچھروں کے کاٹنے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی فرد میں تیز بخار، شدید سر درد، جسم میں درد یا ڈینگی سے مشابہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے اور خود علاجی سے گریز کرنا چاہیے۔اسلامی تعلیمات میں صفائی، پاکیزگی اور انسانی جان کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایک صاف ستھرا ماحول نہ صرف بیماریوں کے پھیلاؤ کے امکانات کم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے ڈینگی سے بچاؤ کی مہم کو صرف موسمی سرگرمی سمجھنے کے بجائے روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنانا ضروری ہے۔ مساجد، مدارس، گھروں اور محلوں میں صفائی کے حوالے سے اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ڈینگی کے خاتمے کے لیے محض آگاہی مہم کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ شہریوں کو اپنے گھروں اور کاروباری مقامات کا باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے، پانی جمع ہونے کے مقامات ختم کرنے چاہییں اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ افزائشی مقامات کی نشاندہی میں تعاون کرنا چاہیے۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں اور مذہبی قیادت کے درمیان مربوط رابطہ عوامی آگاہی کی کوششوں کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔آئمہ مساجد و خطباء کرام اگر اپنے خطبات میں ڈینگی سے بچاؤ کے پیغام کو اسلامی تعلیمات، انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کے تناظر میں پیش کریں تو اس سے شہریوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ اس پیغام کا بنیادی مقصد عوام کو خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے، صفائی کا خیال رکھنے اور بروقت احتیاطی اقدامات کی اہمیت سمجھانا ہے۔ڈپٹی کمشنر محترمہ ماہم آصف ملک کی آئمہ مساجد و خطباء کرام سے اپیل اس حقیقت کی عکاس ہے کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی تعاون اور مذہبی و سماجی قیادت کی شمولیت بھی ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی کوششوں میں ہر طبقے کو شریک کرنا وقت کا تقاضا ہے۔بلاشبہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے احتیاط، صفائی، بروقت آگاہی اور اجتماعی تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر انتظامیہ، محکمہ صحت، آئمہ مساجد، خطباء کرام، تاجروں اور عام شہریوں سمیت تمام طبقات اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں تو بیماری کے خطرات کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پیش رفت ممکن ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ صفائی کو اپنی عادت، احتیاط کو اپنا شعار اور انسانی جان کے تحفظ کو اپنی مشترکہ ذمہ داری بنائیں گے۔ یہی ایک صحت مند، محفوظ اور باشعور معاشرے کی بنیاد ہے۔*













