تجاوزات کا خاتمہ مگر گلی محلوں کو کون دیکھے گا؟

تحریر: سلمان احمد قریشی

پنجاب میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا۔ نتائج سو فیصد نہ سہی لیکن مجموعی طور پر تسلی بخش ضرور رہے۔ سڑکوں اور بازاروں سے تجاوزات کا خاتمہ شہریوں کی دیرینہ ضرورت ہے کیونکہ عوامی راستوں پر قبضہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقِ آمدورفت کی خلاف ورزی بھی ہے۔ تاہم تجاوزات کے خلاف مہم کی کامیابی کا معیار صرف چند بازاروں کو خالی کرانا نہیں بلکہ شہر کے ہر حصے میں قانون کی یکساں عمل داری اور عوام کے لیے راستوں کی بحالی ہونا چاہیے۔تجاوزات کا مسئلہ صرف سرکاری کارروائی سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے عوامی شعور کی بیداری بھی ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے بعض تاجر اور شہری سڑکوں، فٹ پاتھوں اور گلیوں پر قبضے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دکان کے سامنے سامان رکھنا، کاروبار کو سڑک تک پھیلانا یا گھر کے سامنے مستقل تھڑا تعمیر کرلینا ان کے نزدیک معمول کی بات ہے۔ جب انتظامیہ کارروائی کرتی ہے تو اسے ظلم قرار دیا جاتا ہے۔جرمانے پر احتجاج ہوتا ہے اور غربت و بے روزگاری کو تجاوزات کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ دلیل اپنی جگہ کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن عوامی راستوں پر قبضے کی اجازت دینا اس کا حل نہیں۔ حکومت کو ایک طرف تجاوزات کا خاتمہ کرنا چاہیے اور دوسری طرف چھوٹے کاروباری افراد کے لیے متبادل جگہوں اور باعزت روزگار کے مواقع کا بندوبست بھی کرنا چاہیے۔ روزگار کی فراہمی اور قانون کی عمل داری ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ دونوں ریاست کی ذمہ داری ہیں۔
پنجاب میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے باوجود مرکزی بازاروں میں پیرا فورس اور بعض تاجروں کے درمیان آنکھ مچولی جاری ہے۔ فورس کے بازار میں داخل ہوتے ہی دکانوں کے باہر رکھا سامان سمیٹنے اور بھگدڑ کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کارروائی ختم ہوتے ہی صورت حال دوبارہ معمول پر آجاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف انتظامی کارروائی کا نہیں، شہری رویوں اور قانون کی مستقل پابندی کا بھی ہے۔اگر تجاوزات کے خلاف آپریشن مستقل نگرانی، واضح قواعد اور بلاامتیاز نفاذ کے بغیر جاری رہے گا تو اس کے نتائج بھی عارضی ہوں گے۔ شہریوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سڑک کسی دکان کی توسیع نہیں اور نہ ہی فٹ پاتھ کسی کاروبار کا اضافی حصہ ہے۔ اسی طرح انتظامیہ کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ قانون کا اطلاق چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے کاروباری ادارے تک یکساں ہے۔
تجاوزات کا ایک نہایت اہم اور نسبتاً نظرانداز ہونے والا پہلو گلی محلوں میں گھروں کے سامنے قائم تھڑے، ریمپ اور پانی کی موٹروں کی تنصیب ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ان گلیوں سے لگایا جاسکتا ہے جہاں دونوں اطراف مکانات کے سامنے پانچ پانچ فٹ تک جگہ پر ریمپ یا دیگر تعمیرات موجود ہیں، جبکہ باقی ماندہ راستے پر موٹر سائیکلیں اور کاریں کھڑی کردی جاتی ہیں۔بیس فٹ چوڑی گلی میں دونوں طرف پانچ پانچ فٹ جگہ مستقل طور پر گھیر لی جائے تو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے صرف دس فٹ جگہ باقی رہتی ہے۔ پارکنگ اور دیگر رکاوٹیں اس گزرگاہ کو مزید تنگ کردیتی ہیں۔ نتیجتاً بعض مقامات پر ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی امدادی گاڑیوں کا داخلہ مشکل، بلکہ بعض صورتوں میں ناممکن ہوجاتا ہے۔یہ محض شہری خوب صورتی کا مسئلہ نہیں، انسانی جانوں کی حفاظت کا معاملہ ہے۔ کسی مریض کو فوری طبی امداد درکار ہو یا کسی گھر میں آگ لگ جائے تو چند منٹ کی تاخیر بھی سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ گلیوں کو ذاتی استعمال کے لیے محدود کرنے والوں کو کس قانون اور کس اختیار کے تحت یہ حق حاصل ہے؟گھروں کے سامنے پانی کی موٹریں، غیرضروری تعمیرات، سیڑھیاں اور مستقل رکاوٹیں بھی شہری منصوبہ بندی اور مقامی قواعد کے مطابق جانچنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تجاوز ثابت ہو وہاں کارروائی ہونی چاہیے تاہم جائز تعمیرات اور قانونی سہولتوں کو بلا تحقیق تجاوزات قرار دینا بھی درست نہیں۔ مقصد شہری راستوں کو قابلِ استعمال بنانا ہے، نہ کہ شہریوں کو غیرضروری مشکلات سے دوچار کرنا ہے۔تجاوزات کے خلاف کارروائیوں میں مرکزی بازاروں کو ہدف بنایا گیا لیکن بعض سرکاری و نجی بینکوں کے جنریٹرز، سیڑھیوں اور نجی املاک کے باہر قائم تعمیرات کے بارے میں بھی سوالات موجود ہیں۔ اگر ایک چھوٹے دکاندار کا سامان راستے میں رکھنے پر کارروائی ہوسکتی ہے تو بڑے اداروں اور بااثر املاک کے سامنے موجود رکاوٹوں کا جائزہ کیوں نہیں لیا جاتا؟
اوکاڑہ میں پیرا فورس کے دفتر سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک نجی ہسپتال کی سیڑھیاں اور جنریٹر کا کمرہ سڑک کی جانب موجود ہو نے اور پارکنگ کی سہولت نہ ہونے کے حوالے سے شہریوں کے تحفظات توجہ کے متقاضی ہیں۔ گرلز کالج کے سامنے مرکزی جنازگاہ کے ساتھ اس صورت حال کی موجودگی بھی سوال اٹھاتی ہے۔ متعلقہ حکام کو موقع کا معائنہ کرکے واضح کرنا چاہیے کہ یہ تعمیرات منظور شدہ ہیں یا عوامی راستے میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔یہاں کسی ادارے یا مالک کو پیشگی قصوروار قرار دینا مقصود نہیں بلکہ اصولی سوال یہ ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے وقت کسی کی حیثیت، اثرورسوخ یا کاروباری حجم کو رعایت کا سبب تو نہیں بنایا جارہا؟ اگر قانون یکساں ہے تو اس کا اطلاق بھی یکساں دکھائی دینا چاہیے۔ بصورت دیگر امتیازی سلوک کا تاثر مضبوط ہوتا ہے اور انتظامیہ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ پیرا فورس کے متعلقہ افسران سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ اپنے دفتر کے قرب و جوار میں موجود مبینہ تجاوزات کا خود معائنہ کریں اور حقائق کی روشنی میں کارروائی کی صورت حال واضح کریں۔اوکاڑہ شہر کے گنجان آباد علاقوں، رابطہ سڑکوں، سرکی محلہ روڈ، صمدپورہ، امیر کالونی اور ریلوے روڈ پر تجاوزات کی نشاندہی کے لیے کسی طویل سروے کی ضرورت نہیں، مقامی سطح پر ان مسائل کی موجودگی شہریوں کے مشاہدے کا حصہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پیرا فورس اور متعلقہ بلدیاتی ادارے ان علاقوں کا باقاعدہ معائنہ کریں، تجاوزات کی فہرست مرتب کریں اور مرحلہ وار کارروائی کا قابلِ عمل منصوبہ سامنے لائیں۔گلی محلوں میں قائم غیرقانونی تھڑوں اور ریمپوں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ جہاں پانی کی موٹریں، سیڑھیاں یا دیگر تنصیبات راستے میں رکاوٹ بن رہی ہوں، وہاں قانون اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق اصلاح کی جائے۔ ساتھ ہی متبادل پارکنگ، دکانداروں کے لیے مناسب جگہوں اور شہری آگاہی پر بھی توجہ دی جائے۔ یہ مسئلہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں۔ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی شہری انتظامیہ کو اسی نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔
آخر میں سوال وہی ہے کیا تجاوزات کے خلاف کارروائیاں سیاسی مصلحتوں، انتظامی کمزوریوں یا اہلکاروں کی چشم پوشی سے متاثر ہورہی ہیں؟ اس کا جواب شواہد، شفاف معائنے اور یکساں کارروائی سے ہی مل سکتا ہے۔ تجاوزات کا خاتمہ صرف بازاروں تک محدود نہ رکھا جائے گلی محلوں کے راستے بھی عوام کی امانت ہیں۔ جب تک اس امانت کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، آپریشن کی کامیابی ادھوری رہے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن محض بازاروں تک محدود رہنے کے بجائے پورے شہر میں قانون کی یکساں عمل داری کی مثال بنے۔ انتظامیہ یہ واضح کرے کہ کسی دکاندار، ادارے یا بااثر شخص کو عوامی راستوں پر ناجائز قبضے کی اجازت نہیں۔ شہری بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں اور گلیوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں کو ذاتی استعمال میں لانے سے گریز کریں۔ کیونکہ یہ راستے کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں، پوری آبادی کا مشترکہ حق ہیں۔ ان کا تحفظ انتظامیہ کی ذمہ داری اور ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔