عزم ووفاکی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ احمد شہید

تحریر عنایت اللہ فاروقی

یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ عصر کا وقت تھا۔ کراچی ڈویژن شمالی زون میں ابتدائی ماہ میں تنظیم سازی کا سلسلہ جاری تھا۔ تنظیم کو فعال کرنے کے لیے رابطے، ملاقاتیں اور دورے جاری تھے۔ دینی مدارس کے دورہ جات، تعارفی نشستیں اور تنظیمی ملاقاتیں پورے اہتمام سے ہو رہی تھیں۔ اسی سلسلے میں عصر کے وقت شمالی زون کی ایک تعارفی نشست رکھی گئی جس میں مختلف علاقوں کے طلبہ جمع تھے۔

نشست کا آغاز ہوا اور سب ساتھی اپنا تعارف کروا رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بھرپور اعتماد کے ساتھ بولا: نام! شاہ احمد نورانی، آبائی تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ اور میں ایم ایس او کا کارکن ہوں۔ مختصر سے اس تعارف میں ہی ایسا اخلاص، ایسی چمک اور ایسی تڑپ محسوس ہوئی کہ دل نے فوراً گواہی دی کہ یہ نوجوان عام نہیں۔
اس کی آنکھوں میں مشن کی روشنی اور نظریے کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم صاف جھلک رہا تھا۔ سر پر خوشنما ٹوپی، آنکھوں پر چشمہ، خوبصورت داڑھی، درمیانہ قد، مضبوط جسم اور چہرے پر نور اور محبت…… یہی تھا میری پہلی ملاقات میں دیکھا ہوا شاہ احمد بھائی۔ اس پہلی نشست سے ایک ایسا تعلق قائم ہوا جو پھر شہادت تک قائم رہا۔

شاہ احمد کا سفر ایک عام رکن سے شروع ہوا۔ پھر یونٹ، ضلع، ڈویژن اور بالآخر صوبائی سطح کی بھاری ذمہ داریاں ان کے سپرد ہوتی گئیں۔ ان کی شخصیت میں خوف، جھجک، مصلحت جیسے لفظ تھے ہی نہیں۔ وہ اخلاق کے پیکر، سخاوت کے شہسوار اور احساس و جذبے کے پہاڑ تھے۔

ضلع سینٹرل میں مختلف ذمہ داریوں کو حسن خوبی نبھانے کے بعد جب انہیں کراچی ڈویژن کا ناظم اطلاعات بنایا گیا تو اس وقت عادل بھائی ڈویژن کے ناظم تھے۔ شاہ احمد نے اطلاعات کے شعبے میں بھرپور کام کیا: مختلف اخبارات کے دفاتر کے دورے، پریس ریلیزز، تنظیمی لٹریچر کا ابلاغ اور مشن کو پرنٹ میڈیا تک پہنچانے کی مسلسل کوشش۔

پھر ڈویژن کی نئی کابینہ بنی اور راقم کو کراچی ڈویژن کا ناظم منتخب کیا گیا جبکہ شاہ احمد ناظم عمومی مقرر ہوئے۔ اس وقت ان کی تنظیمی ترجیح دینی تھی۔ مدارس، کالجز اور یونیورسٹیوں میں دورے، یونٹس کی تشکیل، اضلاع کی فعالی، نوجوانوں کی تربیت؛ ہر جگہ ان کی بھاگ دوڑ، محنت اور خلوص نمایاں تھا۔ ہم نے 60 یونٹس کا ہدف رکھا، اور سال کے آغاز میں ہی 55 یونٹ مکمل ہو گئے۔ یہ انہی کے اخلاص اور جذبے کا فیضان تھا۔

وہ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے ایک گاؤں میں اپریل 1994 میں پیدا ہوئے۔ اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر تھے۔ ابتدائی بچپن وہیں گزرا۔ پھر گھر والوں نے انہیں دینی تعلیم کے لیے راولپنڈی کی دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ بھیجا جہاں سے حفظ قرآن کیا۔ درس نظامی کا آغاز کراچی میں کیا اور بالآخر جامعہ احسن العلوم کراچی سے دستار فضیلت حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی محنت سے عطریات اور پرفیوم کا کاروبار شروع کیا مگر تنظیمی کام ساتھ ساتھ جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخی دل، نرم مزاج اور محبت کرنے والا انسان بنایا تھا۔

دوستوں کی خدمت، مہمانوں کی خاطر مدارت، ضرورت مندوں کی مدد سب ان کی طبیعت میں شامل تھا۔ جو شخص ایک بار ان سے مل لیتا دوبارہ ملنے کی خواہش ضرور رکھتا۔ وہ خاندان کی آنکھوں کے تارے تھے۔ کاروبار اور تنظیم دونوں میں مصروف رہتے لیکن گھر والوں کے کام بھی ساتھ کرتے۔ کبھی کسی کو پریشان نہ ہونے دیتے۔

شہادت سے دو دن پہلے کا منظر آج بھی ذہن میں تر و تازہ ہے…… ہم دونوں دکان میں بیٹھے تھے کہ گاؤں سے والد صاحب نے کال کی: “شاہ احمد! گھر جاؤ اور بچوں کے لیے کچھ کھانے کو لے جاؤ۔” ہم بفرزون گئے، برگر لیا، بچے کو دیا، پھر والد سے فون پر بات کروائی۔ جب بچے کے چہرے پر خوشی دیکھی تو شاہ احمد نے مسکرا کر کہا: “عنایت بھائی! چلو، کام ہو گیا۔” کئی کمزور کارکنان کو پروگرام سے واپسی پر کرائے کی مد میں تعاون کرتے دیکھا۔ یہی ان کی زندگی تھی کہ لوگوں کو خوشی دینا۔

تنظیمی ساتھیوں سے ان کا تعلق ایسا گہرا تھا کہ روز ملاقات نہ ہوتی تو طبیعت بوجھل رہتی۔ وہ ہمیشہ مشن کی فکر میں رہتے۔ مالیات، معاونین، کارکنان ہر پہلو ان کے دل کی دھڑکن تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ جماعت کے ہر کمزور کارکن کو معاشی لحاظ سے مضبوط بنایا جائے۔ سابقین سے ملاقاتیں، نئے معاونین تلاش کرنا یہ ان کی مستقل جدوجہد تھی۔ اطاعت امیر، محبت، شفقت اور احترام ان کی امتیازی صفات تھیں۔ ساتھی انہیں “شاہ جی” کہہ کر پکارتے تھے۔

شہادت سے ایک دن پہلے سابق ناظم کراچی بھائی عادل انصاری مرحوم کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس تھا۔ ضلع سینٹرل کے ساتھیوں کو دعوت دینا شاہ احمد کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے سب سے ملاقاتیں کیں، دعوت نامے پہنچائے۔ اس شام شاہ جی جب ہال میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے استقبالیہ میں کھڑے ہو گئے۔ میں نے کہا: “شاہ جی! اوپر پروگرام میں آ جائیں۔” وہ مسکرا کر بولے: “یار! تھوڑا یہاں رہنے دو…… سب دوستوں سے مل لوں۔” گویا وہ ہم سب سے الوداعی ملاقات کر رہے تھے۔

پروگرام کے آخر میں وہ پچھلی صفوں میں بیٹھ گئے۔ میں نے مذاق میں کہا: “شاہ جی! آپ صوبائی ذمہ دار ہیں، آگے آ جائیں!” وہ مسکرائے، “آ گئے، آ گئے……” اور شاید یہ دنیا میں ان کا آخری “پروٹوکول” تھا۔ بقول فیضان قریشی بھائی کے، ان سے میں نے پوچھا: “شاہ جی! آپ تو غائب ہو گئے، کہاں نظر آتے ہیں؟” تو شاہ جی نے جواب دیا کہ “ابھی تو ہم بڑے ہو گئے ہیں، آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔” (یقیناً شاہ جی آپ بڑے ہو گئے اور مقام بھی بڑا پا گئے، آپ نے درست کہا تھا۔)

20 اکتوبر بروز [دن] دوپہر ڈھائی بجے مجیب بھائی کا فون آیا: “یار عنایت! شاہ احمد کو گولیاں لگی ہیں۔ عباسی ہسپتال پہنچو!” یہ سن کر دل لرز گیا۔ عباسی پہنچے تو دوست سوگوار تھے۔ شاہ احمد شہید کے جسد خاکی کو دیکھا تو وہی منظر سامنے آیا جب پہلی نشست میں انہوں نے تعارف کرایا تھا۔ آج بھی وہی چہرہ مسکراہٹ لیے، وفا کی مہر لیے، اپنے مشن پر جان نثار کر کے سامنے تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ کہہ رہا ہو: “یارو! ماں عائشہؓ کی حرمت پر قربان ہوا ہوں…… رونا نہیں، ڈرنا نہیں، بلکہ اس مشن کو پھیلانا ہے۔”

عباسی سے ایدھی سرد خانے، وہاں سے سہراب گوٹھ، اور پھر ناگن چورنگی۔ ہر جگہ جلوس، نعرے، محبت، آنسو۔ نماز جنازہ میں ہزاروں کا مجمع تھا: علماء، طلبہ، عوام، کارکنان، خاندان۔ پھر جسد خاکی اسلام آباد روانہ ہوا۔ شاہ احمد اتنے عظیم شہید تھے کہ چار جنازے ہوئے: کراچی، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آبائی گاؤں میں۔ جگہ جگہ پھول نچھاور کیے گئے۔ لوگ نعرے لگاتے رہے: “مبارک مبارک! شاہ احمد تیرے خون سے انقلاب آئے گا!”

شہادت کے بعد ان کے بھائی نے خواب میں دیکھا: شاہ احمد گلے میں فلسطینی رومال ڈالے مسکراتے ہوئے دروازے پر کھڑے ہیں۔ پوچھا: “آپ تو شہید ہو گئے تھے؟” کہنے لگے: “مجھے کچھ نہیں ہوا…… میں ٹھیک ہوں۔ ساتھی بھی ٹھیک ہیں۔”

شہادت کے بعد جب ان کی ڈائری دیکھی گئی تو اس میں درج تھا: “ہمیں نہیں معلوم وفاؤں کا تقاضا کیا ہے؟ ہم نے عین جوانی میں صحابہ کے دفاع کی قسم کھائی ہے۔” وہ واقعی اپنی زندگی جماعت کے لیے وقف کر چکے تھے۔ ان کی دکان میں ہمیشہ ساتھیوں کی مجلس لگی رہتی۔ مشن، نظریہ، پروگرام بس انہی باتوں کی صدائیں ہوتیں۔
شہادت کے چند دن بعد جب ناگن چورنگی ان کی دکان پر گیا، وہاں ایک خاموش اداسی تھی۔ جیسے دیواریں بھی ماتم کر رہی ہوں۔ دکاندار کہہ رہے تھے: “مولانا صاحب! اوپری مارکیٹ کی رونق انہی سے تھی…… اب رونق ختم ہو گئی ہے۔” اور یقیناً وہ دنیا کی عارضی رونقوں سے بڑھ کر جنت کی دائمی رونقوں کی طرف چلے گئے۔

جب وہ ڈویژن مالیات تھے تو ایک ایک روپے کا حساب رکھتے۔ ہر پروگرام کے بعد مکمل آڈٹ، مکمل ریکارڈ، مکمل شفافیت۔ دوستوں کو ہمیشہ ہدایت کرتے کہ ریکارڈ مکمل رکھو۔ غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم دیکھ کر وہ ہمیشہ تڑپ اٹھتے۔ کہتے: “یار! ہمارے ایمان کو کیا ہو گیا؟ ہم اتنے بے حس کیسے ہو گئے؟” صحابہ کرام کی گستاخی پر لرز اٹھتے۔ سوشل میڈیا پر بھرپور دفاع کرتے۔ دو سال پہلے فضلاء سیمینار کے اشتہارات لگانے کے لیے انہوں نے رات تین بجے تک میرے ساتھ کام کیا۔ بولے: “ناظم صاحب! ہم دونوں کارکن بن کر اشتہار لگائیں گے۔” یہ تھا ان کا جنون۔!

وہ دکان پر ایک باکس رکھتے تھے جس میں روزانہ کچھ نہ کچھ رقم جماعت کے لیے ڈالتے۔ کہتے: “کاروبار کا ایک حصہ ہم نے جماعت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔” بنیان مرصوص کانفرنس کے دوران ان کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی، مسکرا کر بولے: “اللہ اس سے بہتر دے گا۔” ان کے دل پر “یا اللہ مدد” کا نقش ثبت تھا۔ ہمیشہ توکل کرتے، ہمیشہ راضی رہتے۔

انہیں کیوں نشانہ بنایا گیا؟ ان کی شخصیت، ان کا اثر، ان کا مشن دشمنوں کو برداشت نہ تھا۔ شاید انہیں احساس ہو گیا تھا کہ یہ نوجوان مستقبل میں بہت بڑا کردار ادا کرے گا۔ اس لیے سابقہ روایت کے مطابق بزدلانہ گولیوں کا سہارا لیا گیا۔ مگر نہیں جانتے تھے کہ شہید کبھی مرتے نہیں۔ یہ بیج بن کر نکلتے ہیں۔

آج شاہ احمد شہید ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا مشن، ان کا نظریہ، ان کی سوچ، ان کےافکار، ان کا پروگرام، ان کا نصب العین اور ان کی جماعت زندہ ہے۔ آج ان کا ہر ساتھی ان کا پرچم تھامے کھڑا ہے۔

شاہ احمد کے پاس ہمیشہ ایک بیگ ہوتا تھا جس میں منشور، دستور، رسائل، اسٹکرز، بیجز، کارڈز ہوتے۔ کوئی نیا ساتھی ملتا تو فوراً اسے کتاب دیتا اور کہتا: “اس میں ہماری دعوت ہے۔ اسے پڑھو، سمجھو…… اور مشن سے جڑ جاؤ۔” انہوں نے بے شمار نوجوانوں کو نظریاتی طور پر تیار کیا۔ وہ فنا فی الجماعت تھے۔ اور آج ان کا خون ہماری راہوں کو روشن کر گیا ہے۔۔
#MSOpak