گورنر راج ، آئینی اختیار یا سیاسی آزمائش؟

تحریر: سلمان احمد قریشی

ریاستیں آئین سے مضبوط ہوتی ہیں، اختیارات کے استعمال سے نہیں۔ جمہوریت میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلاف کوئی غیر معمولی بات نہیں ۔ جب سیاسی کشمکش آئینی اختیارات کے استعمال تک پہنچ جائے تو معاملہ محض حکومتوں کی رسہ کشی نہیں رہتا بلکہ وفاقی نظام، عوامی مینڈیٹ اور جمہوری مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا حالیہ نفاذ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے اقدام کی بنیاد صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی سے نمٹنے میں صوبائی انتظامیہ کی ناکامی کو قرار دیا جبکہ تحریک انصاف نے اسے غیر قانونی اور سیاسی طور پر نقصان دہ اقدام قرار دیا ہے۔ یوں ایک مرتبہ پھر سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا غیر معمولی حالات میں غیر معمولی آئینی اختیارات کا استعمال مسئلے کا حل ہے یا ایک نئے سیاسی بحران کا آغاز ثابت ہوگا۔
پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ نئی نہیں۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بھی صوبائی خودمختاری اور مرکزی اختیار کے درمیان کشمکش موجود تھی۔ پنجاب میں 25 جنوری 1949 کو گورنر راج نافذ کیا گیا جو 5 اپریل 1951 تک جاری رہا۔ اس دور میں وزیراعلیٰ افتخار ممدوٹ کی حکومت ختم ہوئی اور صوبائی سیاسی نظام شدید تبدیلیوں سے گزرا۔
بعد ازاں فوجی ادوار میں بھی صوبائی حکومتوں کے اختیارات محدود یا معطل ہوتے رہے، تاہم مارشل لا کے تحت انتظامی کنٹرول اور آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کو ایک ہی قانونی زمرے میں رکھنا درست نہیں۔
پنجاب میں 1999 میں فوجی اقتدار کے بعد صوبائی حکومت کا خاتمہ اور 2009 میں گورنر راج کا نفاذ اس تاریخ کے اہم واقعات ہیں۔ فروری 2009 میں پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سلمان تاثیر نے صوبائی انتظامی معاملات سنبھالے۔ خیبر پختونخوا، جسے اس وقت صوبہ سرحد کہا جاتا تھا میں بھی 1975 اور 1994 میں گورنر راج نافذ ہوا۔ 1999 کے فوجی اقتدار کے بعد بھی صوبے کا انتظام گورنروں کے ذریعے چلایا گیا۔ ان واقعات کے اسباب اور قانونی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف تھے، لیکن ان سب نے وفاق اور صوبوں کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 234 اس وقت صدر کو صوبے کے انتظامی اختیارات سنبھالنے کا اختیار دیتا ہے جب وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اس کے برعکس آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی سے متعلق ہے جس پر قابو پانے کے لیے آئینی شرائط پوری ہوتی ہوں۔یہ فرق محض قانونی اصطلاحات کا نہیں۔ دہشت گردی کی سنگین صورتِ حال ایمرجنسی کے جواز سے متعلق سوال اٹھا سکتی ہے لیکن اس سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ منتخب صوبائی حکومت آئین کے مطابق کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہی۔ دونوں اقدامات کے لیے متعلقہ آئینی بنیاد اور الگ الگ قانونی جواز ضروری ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ کا اہم فیصلہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تاریخ کا اہم عدالتی باب 1994 میں سامنے آیا، جب اس وقت کے وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ نے صدر کی جانب سے آرٹیکل 234 کے تحت جاری کردہ حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس مقدمے
پیر صابر شاہ بنام وفاقِ پاکستان، 1994، سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ گورنر راج کے ذریعے صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھالنے کی آئینی حدود کیا ہیں اور کیا اس اختیار کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے یا منتخب حکومت کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں یہ اصول نمایاں ہوا کہ آرٹیکل 234 کے تحت اقدام ایک عارضی آئینی انتظام ہے۔ اسے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے غیر محدود اختیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے سامنے یہ معاملہ بھی تھا کہ صوبائی حکومت کے خلاف اٹھائے گئے اقدام کو آئین کی حدود میں رہنا چاہیے۔ اس فیصلے کا بنیادی سبق یہی ہے کہ گورنر راج کوئی ایسا کھلا اختیار نہیں جس کے ذریعے منتخب صوبائی نظام کو وفاق کی سیاسی خواہش کے تابع کر دیا جائے۔
موجودہ اقدام اور عدالتی سوالات
موجودہ صورتِ حال میں اصل امتحان یہ ہوگا کہ وفاقی حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے لیے کون سا ٹھوس آئینی مواد پیش کیا ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی صلاحیت واقعی اس حد تک ناکام ہوئی کہ وفاقی مداخلت ناگزیر ہو گئی؟ کیا صوبائی اسمبلی اور حکومت کا آئینی نظام عملاً مفلوج تھا؟ یا وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی نے اس اقدام کو جنم دیا؟
ان سوالات کے جواب حکومتی بیانات سے نہیں، متعلقہ حقائق، آئینی دستاویزات اور عدالتی جانچ سے سامنے آنے چاہییں۔ 11 اکتوبر 2026 کو اس نئے اقدام کے اعلان کے بعد اس کی آئینی حیثیت پر کسی حتمی عدالتی فیصلے کا حوالہ دینا قبل از وقت ہوگا، جب تک ایسا فیصلہ سامنے نہ آ جائے۔
آرٹیکل 234 کے تحت اعلان کو دو ماہ کے اندر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانا ضروری ہے، جبکہ اس کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ ایمرجنسی کے لیے آرٹیکل 232 میں الگ شرائط اور منظوری کا طریقۂ کار مقرر ہے۔ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں اقدامات کا الگ الگ آئینی جائزہ لے۔
گورنر راج کے حق میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اگر صوبائی انتظامیہ واقعی امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو تو وفاقی مداخلت سے سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر اور انتظامی فیصلے تیز ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کا تحفظ ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے صرف سیاسی اختلاف کی بنیاد پر پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔
لیکن اس کے ممکنہ منفی اثرات بھی کم اہم نہیں۔ منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہونے سے صوبائی خودمختاری کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں، وفاق اور صوبے کے درمیان عدم اعتماد گہرا ہو سکتا ہے اور سیاسی کشیدگی احتجاجی سیاست کو مزید شدت دے سکتی ہے۔ اگر عوامی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت کو ہٹانے کا تاثر مضبوط ہوا تو انتظامی اقدامات کے باوجود سیاسی استحکام حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اصل کامیابی صرف اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، دہشت گردی میں کمی، انتظامی شفافیت اور آئینی اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر گورنر راج ان اہداف کے حصول میں مدد دیتا ہے تو اس کے نتائج قابلِ پیمائش ہونے چاہییں اگر اس سے سیاسی تقسیم اور بدامنی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے جواز پر سنجیدہ سوالات اٹھیں گے۔
آخری سوال
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ کسی ایک جماعت کی جیت یا شکست سے بڑا ہے۔ یہ وفاقی نظام کی آزمائش ہے۔ آئین غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اختیارات ضرور دیتا ہے، مگر ان اختیارات کے ساتھ ذمہ داری، پارلیمانی نگرانی اور قانونی حدود بھی مقرر کرتا ہے۔
وفاقی حکومت کو اپنے اقدام کا آئینی جواز واضح کرنا ہوگا، پارلیمان کو غیر جانب دارانہ نگرانی کرنی ہوگی اور عدالتوں کو قانون کے مطابق اٹھائے جانے والے سوالات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ دوسری طرف صوبائی قیادت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ دہشت گردی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے کو سیاسی محاذ آرائی سے بالاتر رکھے۔
جمہوریت میں اصل طاقت کسی حکومت کو ہٹانے کی صلاحیت نہیں، بلکہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کا اعتماد قائم رکھنے میں ہے۔