جانان مرد بحران ، مولانا فضل الرحمان اور مفتی محمود کانفرنس ملتان

تحریر۔ نوفل ربانی

مولانا فضل الرحمان صاحب کو اللہ رب العزت نے جو مرجعیت عامہ تامہ نصیب فرمائی ہے وہ کم ہی کسی سیاسی زعیم کو ملا کرتی ہے مجھے یوں لگتا ہے کہ شیخ الہند جس قسم کا رہنما دیوبند، علی گڑھ نظارہ المعارف دہلی حجاز تا مالٹا کی ہماہمی میں بنانا اور دیکھنا چاہتے تھے خدا نے بڑی فیاضی کیساتھ وہ رہنمائی کی جملہ صفات جانان مولانا کے ذات والا میں جمع فرمادی ہیں۔

مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو انکی طبیعت کی شگفتگی اور مزاج کی خوشگواری ہے لبوں پر دلآویز تبسم کی لکیر خندہ روئی، بشاشت اور جملوں کی ظرافت الفاظ کی لطافت اور مضمون کی کھلاوٹ ، اچھلتی خوش مزاجی قہقہے میں لپیٹ کر فیصلہ کردینے کی صلاحیت حیران کن ہے۔

طبیب امراض فکرونظر مولانا فضل الرحمان ملک میں نہیں تھے جان کائنات ﷺ اور کعبہ مشرفہ میں عمرے کے سفر میمون پر تھے کہ ملک میں تین بحران شدت اختیار کرگئے۔

عصر کی نماز پڑھا کر جانان نے نمازیوں کی طرف مڑتے فرمایا کہ میں واپس آیا ہوں تو تین بحرانوں نے سر اٹھایا ہوا ہے۔۔

یہ بحران سیاسی قومی ملی بھی تھے اور ایک بحران مذہبی مسلکی بھی تھا۔
پی ٹی آئی اور حکومت کا سیاسی بحران جس نے ان گنت لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی شہر اقتدار کو جیل بنادیا گیا
اقوام کشمیر کا ریاست پاکستان کیساتھ عوامی حقوق کا خونی بحران
اور حالیہ قضیہ احتسا نا صب یت کا مذہبی بحران
ان تینوں بحرانوں کے سرکردہ لوگ چنیدہ نمائندگان در جانان پر اپنا اپنا درد دکھ کرب تکلیف لیکر پہنچے ہوئے تھے بلکل ایسے جیسے کسی ہسپتال میں کراہتے تڑپتے مریضوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں اور جانان سب کو الگ الگ چیک کرکے انکے لئے نسخے تجویز فرمارہے تھے۔

جانان کا ملنے کا اسٹائل ہی وکھرا ہے جانان کے پاس محبت کی جھپی، تقدس کی چمی ، جادو کی تھپکی ،ماں کی طرح پھیلتی با نہیں ،باپ کی طرح حوصلے کے بلند بول اور غم بھلا دینے والی مسحور کن پینا ڈول ٹائپ مسکراہٹ ہوتی ہے لوگ ملتے ہیں کوہساروں سے بلند حوصلوں کا سہارا لیتے ہیں سمندر سے گہرے سینے سے لگتے ہیں ، محبت کے کندھوں پر سر رکھتے ہیں اور دوائے دل پاتے ہیں۔

جانان قوم کو بحرانوں سے نکالتے ہیں لیکن شدت سے بچ کر جانان قومی سیاسی مسائل حل کرتے ہیں لیکن متشدد رویوں کی نفی کرکے جانان بچاتے ہیں اہل مذہب کو تقسیم ہونے سے لیکن فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کرکے ۔

صدر علماء کونسل مولانا فاروقی نے کیا ہی مبنی پر حقیقت جملہ کہا کہ قوم آپ کو اپنے مسائل کا حل سمجھتی ہے تب ہی تو آتی ہے اور ہم بھی اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ حالیہ مسلکی تقسیم آپ ہی ختم کرسکتے ہیں اس موقع پر مولانا نے تین چار دلچسپ واقعات اس موقع وفد کو سنائے اپنے روایتی انداز میں بہت ہی لائٹلی موڈ میں مجھے نہیں معلوم وفد کے ارکان اس پر غور فرماتے ہیں یا نہیں لیکن میرے خیال میں وہ واقعات انکے درد کا مداوا اور دوائے میدان ہیں کبھی فرصت میں ان پر کچھ معروضات پیش کروں گا چونکہ اس وقت میں جانان کی منشا پر کاربند ہوں کہ حالیہ قضیہ پر کچھ بھی نہیں کہنا۔

لیکن گزشتہ رات قاری حنیف جالندھر ی صاحب کو جو “خوراک ” ایک پڑیا میں پیک کرکے دی ہے اور جانبین کو اس حوالے سے کسی بھی عوامی اجتماعات میں اس موضوع سے روکا ہوا ہے تین تہائی مسئلہ تو اسی سے حل ہوگا ۔
کسی بھی “چول ” مارنے سے منع فرمایا ہے انشاء اللہ جانان مرد بحران اس قضیہ کو حل کرلیں گے بغیر خسران و نقصان ۔

البتہ اتنا عرض کروں جانان اس سارے قضیہ سے خوش نہیں تھے اور دردمندی سے فرماتے رہے کہ حضرت مسلک تقسیم ہورہا ہے آگے بہت تقسیم ہے اس پر ایک واقعہ جانان نے سنایا کہ:.

ایک مولوی صاحب نے مفکر اسلام محمود الملت والدین مفتی محمود رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حضرت یہ حیات ممات کا مسئلہ جب قاری طیب صاحب رحمہ اللہ اور مولانا سید ارشد مدنی رحمہ اللہ حل کرگئے فریقین نے دستخط بھی کردئیے تو پھر کیوں یہ مسئلہ دوبارہ اٹھایا جارہا ہے تو مفکر اسلام نے فرمایا کہ حل شدہ مسئلہ اس لئے اٹھایا جاتا ہے کہ فرقہ وارانہ دکان بند ہوجاتی ہے اسے چلانے کے لئے دوبارہ گڑھے مردے اکھاڑے جاتے ہیں مسئلہ دوکان کا ہے 😆

اب اس واقعہ سے دانا بینا لوگ خود نتیجہ اخذ فرمائیں ۔ ۔۔!

15نومبر کو ملتان میں مفتی محمود کانفرنس ہے قلعہ کہنہ قاسم باغ اہل پنجاب جوق درجوق شرکت فرمائیں قوموں کی قسمت بدلنے کے کچھ مواقع ہوتے ہیں انہیں جو ضائع کردے وہ محروم رہ جاتے ہیں پنجاب نے نون لیگ کی فسطائیت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو جمعیت نے با نہیں پھیلائی ہیں آجائیں مرد بحران جانان ہی قوم کو ان بحرانوں سے نکالیں گے
نوفل ربانی