وادیِ سون کا فخر ملک انعام الرحمٰن اعوان
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*قوموں کی تاریخ میں بعض خاندان محض اپنے نام کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، علم، قربانی اور قومی خدمات کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کے سپوت جب ریاستی اداروں میں اہم ذمہ داریوں پر فائز ہوتے ہیں تو یہ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے آبائی علاقے اور پوری برادری کے لیے بھی باعثِ فخر بن جاتا ہے۔ ملک انعام الرحمٰن اعوان کی بطور ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد تعیناتی بھی ایک ایسی ہی خوش آئند اور قابلِ فخر پیش رفت ہے، جس پر وادیِ سون، بالخصوص گاؤں جلے والی (مصطفیٰ آباد) کے باسی بجا طور پر خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ملک انعام الرحمٰن اعوان (PSP) کی شخصیت کو اگر صرف ایک پولیس افسر کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ان کے وسیع خاندانی، علمی اور قومی پس منظر کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کے خاندان نے مختلف ادوار میں تعلیم، سیاست، دفاع اور پولیس سمیت مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔ یہی وہ ورثہ ہے جو کسی بھی شخصیت کے کردار اور سوچ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ان کے والد گرامی مرحوم پروفیسر محمد حنیف صاحب ایک معروف ماہرِ تعلیم تھے اور سابق پرنسپل ڈگری کالج تلہ گنگ کے منصب پر بھی فائز رہے۔ علم و تعلیم سے وابستہ شخصیات معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، کیونکہ ان کے ہاتھ میں صرف کتاب نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی فکری تربیت بھی ہوتی ہے۔ ایسے علمی گھرانے میں پرورش پانے والی شخصیت سے نظم و ضبط، مطالعہ، معاملہ فہمی اور ذمہ داری کی توقع فطری امر ہے۔ملک انعام الرحمٰن اعوان کے خاندانی پس منظر میں تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما اور قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے رفیقِ خاص مرحوم قاضی مرید احمد کا نام بھی نمایاں ہے، جو سابق رکن صوبائی اسمبلی رہے۔ تحریکِ پاکستان کے اس عظیم دور سے وابستہ شخصیات کا کردار ہماری قومی تاریخ کا قیمتی باب ہے۔ ایسے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا تذکرہ نئی نسل کو یہ احساس دلاتا ہے کہ پاکستان محض ایک خطۂ زمین نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی جدوجہد، قربانی اور عزم کا حاصل ہے۔اس خاندان کی قومی خدمات کا دائرہ صرف سیاسی یا علمی میدان تک محدود نہیں بلکہ پاک فوج اور پولیس میں بھی متعدد افراد نے اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ خاندان سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد افسران اور کیپٹن نصراللہ شہید اور کیپٹن عباس شہید جیسے عظیم سپوتوں کی قربانیاں اس خاندان کے قومی کردار کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ شہداء کا ذکر آتے ہی الفاظ خاموش اور عقیدت بولنے لگتی ہے، کیونکہ وطن کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے والے کبھی فراموش نہیں ہوتے۔ایسے تاریخی اور قومی پس منظر کے حامل خاندان سے تعلق رکھنے والے ملک انعام الرحمٰن اعوان کے لیے فیصل آباد ریجن کی پولیس کی ذمہ داری یقیناً ایک بڑا اعزاز بھی ہے اور ایک بھاری ذمہ داری بھی۔ فیصل آباد ایک اہم صنعتی، تجارتی اور زرعی خطہ ہے جہاں شہری آبادی کے مسائل، صنعتی و معاشی سرگرمیاں اور امن و امان کی ضروریات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں پولیس کی کارکردگی براہِ راست شہریوں کے روزمرہ تحفظ اور ریاست پر اعتماد سے وابستہ ہے۔آج کے دور میں ایک کامیاب پولیس افسر کی ذمہ داری صرف جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں رہی۔ جدید پولیسنگ کا تقاضا ہے کہ قانون کی بالادستی کے ساتھ شہریوں کے ساتھ عزت و احترام، فوری رسپانس، میرٹ، شفافیت اور انصاف پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی مضبوط فضا ہی ایک محفوظ معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ملک انعام الرحمٰن اعوان جیسے سینئر اور تجربہ کار افسر سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ فیصل آباد ریجن میں پولیسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے، جرائم کے سدباب، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور پولیس فورس کے مورال میں اضافے کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ خصوصاً نوجوان نسل کو جرائم، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیس، والدین، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان کی تعیناتی وادیِ سون کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ پسماندہ یا نسبتاً دور علاقوں سے تعلق رکھنے والا نوجوان بھی اپنی محنت، تعلیم، کردار اور صلاحیت کے بل بوتے پر ریاستی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔ اصل کامیابی صرف بڑے عہدے تک پہنچنے میں نہیں بلکہ اس عہدے کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنانے میں ہے۔آج جب ملک کو ایسے افسران کی ضرورت ہے جو قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ عوامی احساسات کو بھی سمجھتے ہوں، تو ملک انعام الرحمٰن اعوان کی نئی ذمہ داری امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کی کامیابی صرف ان کے خاندان کی کامیابی نہیں بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے بھی مثال ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔وادیِ سون کی خوبصورت پہاڑیوں سے فیصل آباد ریجن کی اہم انتظامی ذمہ داری تک ملک انعام الرحمٰن اعوان کا سفر محنت، قابلیت اور خاندانی تربیت کی ایک قابلِ ذکر داستان ہے۔ اب ان کے سامنے ایک نیا میدان اور نئی ذمہ داریاں ہیں۔ دعا ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے علمی، قومی اور قربانیوں سے بھرپور ورثے کو اپنی عملی زندگی میں مزید روشن کریں۔ہم ملک انعام الرحمٰن اعوان کو بطور آر پی او فیصل آباد نئی ذمہ داری سنبھالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں قانون و انصاف کی بالادستی، عوام کے تحفظ، ادارے کی بہتری اور وطن عزیز کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کی توفیق عطا فرمائے، ان کے فیصلوں میں حکمت، عمل میں استقامت اور کردار میں مزید بلندی عطا کرے اور انہیں ہر میدان میں سرخرو فرمائے۔وادیِ سون کے اس قابلِ فخر سپوت کے لیے یہی دعا ہے کہ ان کا قلم و کردار، منصب و اختیار اور ہر فیصلہ ہمیشہ عوامی خدمت، قانون کی سربلندی اور پاکستان کی مضبوطی کے لیے وقف رہے۔آمین یا رب العالمین۔*













