استاد: قوم کے روشن مستقبل کا معمار، علم، کردار اور تربیت کا امین
اساتذہ کے عالمی دن پر ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک کا خصوصی پیغام، اساتذہ کو قوم کے محسن، رہنما اور نوجوان نسل کے مستقبل کا ضامن قرار دے دیا

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اساتذہ کا عالمی دن اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور علمی ترقی میں اساتذہ کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے احترام اور مقام کو مزید اجاگر کیا جائے۔ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ ایک استاد صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ نئی نسل کی کردار سازی، اخلاقی تربیت، فکری رہنمائی اور شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ اساتذہ قوم کے محسن، رہنما اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ استاد صرف علم دینے والا نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور فکری رہنمائی کرنے والی عظیم شخصیت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے میں اساتذہ کی قابلیت، محنت، خلوص اور ذمہ دارانہ کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ استاد دراصل وہ معمار ہے جو اپنی محنت اور علم کے ذریعے معاشرے کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگردوں کو صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انہیں زندگی کے نشیب و فراز کا مقابلہ کرنے، درست فیصلے کرنے، دوسروں کا احترام کرنے اور معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی تربیت بھی دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ استاد ایک ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کے لیے روشنی کا سامان کرتا ہے۔ استاد کی محنت کا صلہ محض ایک طالب علم کی کامیابی نہیں بلکہ اس کامیابی کے ذریعے پورے معاشرے کی ترقی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ آج جو نوجوان مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں، ان کی کامیابی کے پیچھے والدین کے ساتھ ساتھ ان اساتذہ کی محنت بھی شامل ہے جنہوں نے ان کی علمی اور اخلاقی تربیت کی۔ماہم آصف ملک کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی، اخلاقی تربیت، تنقیدی سوچ اور مثبت فکری رہنمائی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور میں نوجوان نسل کو درست اور غلط میں تمیز، تحقیق و تصدیق، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت ہے، اور اس سلسلے میں استاد کا کردار نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں بھی استاد کے مقام اور احترام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارے معاشرے میں استاد کو روحانی والد کا درجہ دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و شعور کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ استاد کا احترام دراصل علم، تربیت اور شعور کا احترام ہے، جبکہ وہ قومیں جو اپنے اساتذہ کی قدر و منزلت بلند رکھتی ہیں، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ہمیشہ آگے بڑھتی ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ کسی ملک کی ترقی کا حقیقی سفر صرف سڑکوں، عمارتوں اور معاشی منصوبوں سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے باشعور، تعلیم یافتہ، باکردار اور ذمہ دار شہری درکار ہوتے ہیں۔ ایسے شہریوں کی تیاری میں استاد بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک استاد کلاس روم میں موجود چند درجن طلبہ کی تربیت کرتا ہے، مگر انہی طلبہ میں سے مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، افسر، صحافی، وکیل، اساتذہ، تاجر اور قومی رہنما معاشرے کو میسر آتے ہیں۔اساتذہ کا عالمی دن دراصل صرف استاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام، اساتذہ کے وقار اور نئی نسل کی تربیت کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو بہتر تعلیمی ماحول، جدید تدریسی سہولیات اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق نوجوان نسل کی بہترین رہنمائی کر سکیں۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک کا اساتذہ کے عالمی دن پر یہ پیغام یقیناً قابلِ تحسین ہے کہ قوموں کا مستقبل ان کے تعلیمی اداروں اور ان اداروں میں علم کی شمع روشن کرنے والے اساتذہ سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک مضبوط، ترقی یافتہ، باکردار اور باشعور پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اساتذہ کو وہ مقام، عزت اور سہولیات دینا ہوں گی جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔آج کے دن ہمیں اپنے ان تمام اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے ہماری زندگیوں میں علم، شعور اور کامیابی کی بنیاد رکھی۔ بلاشبہ استاد وہ عظیم شخصیت ہے جو نسلیں بناتا ہے، کردار سنوارتا ہے اور قوموں کے مستقبل کو روشن کرتا ہے۔*