آسمان کی وسعتوں سے انسانی ترقی کی نئی منزلوں تک
عالمی خلائی ہفتہ: خلائی سائنس و ٹیکنالوجی انسانی مستقبل کی نئی امید….ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ ماہم آصف ملک کا خصوصی پیغام، نوجوان نسل کو سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور تخلیقی سوچ کی جانب راغب کرنے پر زور

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*کائنات کی وسعتیں ہمیشہ سے انسان کے لیے تجسس، حیرت اور تحقیق کا مرکز رہی ہیں۔ آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھنے سے شروع ہونے والا انسانی سفر آج مصنوعی سیاروں، خلائی مشنز اور جدید سائنسی تحقیق تک پہنچ چکا ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ اسی غیر معمولی سائنسی سفر اور انسانی جستجو کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے عالمی خلائی ہفتہ کے سلسلہ میں اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ انسانی بہتری اور ترقی میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ خلائی تحقیق نے نہ صرف کائنات کے بارے میں انسانی علم میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس کے عملی فوائد زمین پر بسنے والے انسانوں کی روزمرہ زندگی تک پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں خلائی ٹیکنالوجی مواصلات، نیویگیشن، موسمیاتی معلومات، زراعت، ماحولیات، قدرتی وسائل کی نگرانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے سمیت متعدد شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے موسم کے بدلتے حالات کا جائزہ لینے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی نگرانی کرنے اور مختلف علاقوں کے وسائل کے بارے میں بہتر منصوبہ بندی کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خلائی سائنس محض خلا کی تسخیر کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے علم اور ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھولنے کا ذریعہ ہے۔ آج ہم اپنے موبائل فون، مواصلاتی نظام، نقشہ جات، موسمی پیش گوئی اور دیگر کئی سہولیات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ خلائی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ نوجوان نسل میں سائنسی علوم اور تحقیق کا شوق پیدا کیا جائے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جدید سائنسی سہولیات، تحقیق کے مواقع اور تخلیقی سرگرمیوں کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ جو نوجوان آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تحقیق کرے گا، وہی مستقبل میں ملک کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جانے میں کردار ادا کرے گا۔محترمہ ماہم آصف ملک نے کہا کہ دنیا تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، خلائی تحقیق اور جدید مواصلاتی نظام مستقبل کی دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے نوجوانوں کو جدید علوم سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں عالمی سطح پر مسابقت کے لیے تیار کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ سائنسی سوچ قوموں کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ ہمیں نوجوانوں میں سوال کرنے، تحقیق کرنے، تجربات کرنے اور نئے حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ صرف کتابی علم کافی نہیں بلکہ عملی تحقیق اور تخلیقی سوچ ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی قوم کو ترقی کی بلند سطح تک لے جاتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس امر پر زور دیا کہ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ثمرات کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، خوراک کے مسائل، قدرتی آفات اور ماحولیاتی چیلنجز جیسے عالمی مسائل کے حل میں جدید خلائی ٹیکنالوجی اہم معاون ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی خلائی ہفتہ دراصل ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی علم کی کوئی آخری حد نہیں۔ آج جن چیزوں کو کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا، مسلسل تحقیق اور محنت کے ذریعے وہ حقیقت بن چکی ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو خواب دیکھنے، سوال اٹھانے اور ان خوابوں کو سائنسی تحقیق کے ذریعے حقیقت میں بدلنے کی ترغیب دینا ضروری ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ حکومت، تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر نوجوان نسل کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں علم، تحقیق اور تخلیق کو اہمیت حاصل ہو۔ یہی سوچ پاکستان کو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔عالمی خلائی ہفتہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آسمان کی وسعتوں کو تسخیر کرنے والا انسان دراصل اپنی ہی صلاحیتوں کی نئی حدود دریافت کر رہا ہے۔ خلائی سائنس کی ہر نئی دریافت انسانی علم میں اضافہ اور مستقبل کے نئے امکانات کا دروازہ کھولتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے جوڑیں، تحقیق کے مواقع فراہم کریں اور انہیں ایک ایسے روشن مستقبل کی طرف لے جائیں جہاں علم، امن اور انسانی فلاح سب سے بڑی ترجیحات ہوں۔*