جنگ اور مسلح تنازعات میں ماحول کا تحفظ عالمی امن اور انسانی بقا کے لیے ناگزیر ہے، ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محترمہ ماہم آصف ملک نے 6 نومبر کو جنگ اور مسلح تنازعات میں ماحول کے استحصال کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ قدرتی ماحول کا تحفظ انسانی زندگی، عالمی امن، پائیدار ترقی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جنگیں اور مسلح تنازعات صرف انسانی جانوں، املاک اور معاشی ڈھانچے کو ہی نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ ان کے اثرات قدرتی ماحول، جنگلات، دریاؤں، آبی ذخائر، زرعی زمینوں، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل پر بھی انتہائی تباہ کن ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس عالمی دن کا بنیادی مقصد جنگوں اور مسلح تنازعات کے دوران قدرتی وسائل کے استحصال، جنگلات کی تباہی، آبی آلودگی، زمین کی بربادی اور ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے شدید نقصانات کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہ دن دنیا کو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ماحولیات کا تحفظ صرف امن کے زمانے کی ضرورت نہیں بلکہ جنگ اور تنازعات کے دوران بھی قدرتی وسائل اور ماحولیاتی نظام کو محفوظ رکھنا تمام قوموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے کہا کہ جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی بمباری، آگ لگنے کے واقعات، صنعتی تنصیبات کی تباہی، کیمیائی مادوں کے اخراج اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات سے فضا، پانی اور زمین آلودہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے اثرات نہ صرف فوری طور پر انسانی صحت اور زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ کئی دہائیوں تک ماحولیات، زراعت، خوراک کی پیداوار اور قدرتی حیات کے لیے خطرات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ جنگی حالات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی متاثر ہونا، زرعی زمینوں کا ناقابلِ استعمال ہو جانا اور جنگلات و قدرتی مساکن کی تباہی ایسے مسائل ہیں جن کے اثرات آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی وسائل کسی ایک ملک، قوم یا نسل کی ملکیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آبی ذخائر کی آلودگی اور قدرتی ماحول کی تباہی انسانی بقا کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کرتی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ بین الاقوامی قوانین اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ جنگی تنازعات کے دوران قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 6 نومبر کو یہ عالمی دن منانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ دنیا کو جنگوں کے ماحولیاتی اثرات سے آگاہ کیا جائے اور امن، برداشت، باہمی احترام اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کی جائے۔ ماحولیاتی تحفظ اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، کیونکہ صاف پانی، صاف فضا، محفوظ خوراک اور صحت مند ماحول ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومتوں، عالمی اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عام شہریوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ درختوں کی حفاظت، شجرکاری، پانی کے ضیاع کی روک تھام، قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کا کردار بھی نہایت اہم ہے تاکہ نئی نسل کو قدرتی ماحول کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر ماہم آصف ملک نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ جنگوں کے زخم صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ قدرت بھی ان کے اثرات سے متاثر ہوتی ہے۔ پائیدار امن کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں اور محفوظ ماحول کے بغیر انسانی مستقبل کا تصور بھی ادھورا ہے۔ ہمیں ایک ایسے پرامن، محفوظ اور سرسبز معاشرے کے قیام کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے جہاں قدرتی وسائل کی حفاظت، انسانی زندگیوں کا احترام اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو ترجیح دی جائے۔*