بس ہماری سوچ زندہ باد
معروف کالم نگار جاوید چوہدری جھنگ والوں کو کسی اصطلاح میں جانگلی کہ دے تو ناچیز سمیت جھنگ کی اکثریتی آبادی جاوید چوہدری کے خلاف کمر کس لیتی ہے جاوید چوہدری کا خودساختہ ماضی تک نکال لیا جاتا ہے خوب بھڑاس نکالی جاتی ہے مگر کبھی سوچا کہ جاوید چوہدری کے علاؤہ کوئی بھی کالم نگار اس قوم کے لیئے متبادل لفظ کونسا استعمال کرے جس قوم کے انتخاب کی بنیاد اہلیت کی بجائے حسب نسب ہو جہاں شخصیت پرستی آج بھی ترجیحات میں نمبر ون ہو جس دھرتی کے باسیوں نے سرگودھا اور شیخوپورہ تک پھیلی اپنی سرحدوں کو موچی والا اور مکھیانہ سے کچھ آگے تک محدود کر لیا ہو جہاں آج بھی عوامی نمائندوں کا انتخاب کرتے ہوئے فرقہ واریت لسانیت علاقائیت کو ترجیح دی جاتی ہو جہاں آج بھی انتخابات کے دوران کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور کو ثانوی حیثیت حامل ہو اور قد آور شخصیت کو اولین ترجیح جہاں اول درجے کے سیاستدانوں کے برعکس عام سیاسی کارکنان پولنگ اسٹیشنز پر اپنے باہمی تعلقات کو ختم کرکے خون خرابے پر اتر آتے ہوں جہاں بچوں کی تعلیم ترجیحات میں سب سے نچلے درجے پر ہواور مقدمہ بازی کے زریعے دوسروں کو نیچا دکھانا سب سے اوپر درجے پر اس خطے کے لیئے جاوید چوہدری دوسرا کونسا متبادل لفظ استعمال کر سکتے تھے تمام دوستوں سے راہنمائی کی توقع رہے گی
اب آتے ہیں ان محرومیوں کی طرف جن کا رونا تو ہم روتے ہیں مگر ان کے خاتمہ کے لیئے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی نوے کی دہائی کا ایک واقعہ جزوی طور پر یاد ہے تب قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 116 شاید اسی حالت میں تھا کہ احمد پور سیال اور شورکوٹ اس کا حصہ تھے ایک امیدوار تھے شاید ملازم حسین ان کا نام تھا یہ شورکوٹ سے تعلق رکھتے تھے انتہائی غریب تھے مگر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا کوئی تین ہزار ووٹ ملے جیتنے والے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدوار عوام کو بھول گئے مگر تین ہزار ووٹ لینے والے ملازم حسین کشتیوں کے زریعے دریا عبور کرنے کے بعد سائیکل پر احمد پور سیال بھی پہنچ گئے یہ احمد پور سیال میو چوک کے ایک مشہور چائے خانے پر پہنچے جہاں مزدور چائے پی رہے تھے انہوں نے مزدوروں کا شکریہ ادا کرنا چاہا اسی دوران ایک مزدور بول اٹھا ملازم بڑا چگل ہاؤں اپنڑی سائیکل ویکھ تے الیکشن ویکھ ملازم حسین کے چہرے پر مایوسی کے اثرات دکھائی دیئے اس نے سائیکل اٹھائی اور پھر ملازم حسین نے نہ کبھی انتخابات میں حصہ لیا اور نہ ہی کبھی اس کو دیکھا گیا
یہ صرف ایک ملازم حسین کاقصہ نہیں ہے بہت سارے ملازم حسین اس طرح کے سلوک کا شکار ہو ہے دلبراشتہ ہو کر کنارہ کش ہو چکے ہیں
شورکوٹ سے تحریک انصاف کے ایک انقلابی نوجوان ہیں یہ انتخابات سے قبل تبدیلی کے بہت بڑے دعویدار تھے یہ صرف عمران عمران پکارے تھے حلقہ بندیوں میں تبدیلی ہوئی امیر عباس خان این اے 116 سے امیدورار تھے یہ نوجوان اب تحریک انصاف کے صاحبزادہ امیر سلطان کی بجائے امیر عباس خان کے کیمپ میں تھا استفسار پر اس کا جواب تھا کہ تبدیلی کا علمبردار تو ہے مگر امیر عباس خان سیال کے خاندان کے ساتھ دیرینہ مراسم کی وجہ سے وہ انتخابی مہم میں امیر عباس خان کاساتھ دے گا
یہ دونوں واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ پوری دنیا خاصی حد تک تبدیل ہو گئی مگر ہم جھنگ کے لوگ نوے کی دہائی میں جس سوچ کے مالک تھے دو ہزار بیس میں بھی کچھ مختلف نہ ہوسکے ہماری سرحدیں سکڑتی رہیں قومی اسمبلی کے سات حلقے تین میں بدلتے گئے صوبائی اسمبلی کے تیرہ حلقے سات مین بدل گئے ایوان زیریں اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی بتدریج کم ہوتی گئی موٹر وے دور ہوتی گئی ریلوے لائین ویران ہوتی گئیں عوامی نمائندوں کی رہائش گاہیں دوسرے شہروں میں منتقل ہوتی گئیں صنعتی ادارے منتقل ہوئے ضلع کے فنڈز مبینہ طور پر منتقل ہوئے بہت کچھ تبدیل ہوا بس کچھ نہیں بدلا وہ ہماری سوچ تھی جس کی وجہ سے غریب ایوان زیریں سے دور رہا ملازم حسین جیسے غریب دوبارہ انتخاب لڑنے کی جسارت نہ کر سکے تحریک انصاف تمام تر دلکشی کے باوجود اپنے گرویدہ نوجوان کو اپنی طرف قائل نہ کر سکی اور یہی ہماری سوچ تھی جو بالکل نہیں بدلی آج بھی ہمیں کوئی جانگلی کیے تو ہم سیخ پا ہو جاتے ہیں
زندہ باد ہماری سوچ
علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ واٹس ایپ 030365559570
جاوید چودھی کے”جھنگ کے جانگلی” اورعلی امجدچودھری کی تیکھی سوچ۔۔۔اہالیان جھنگ کی سوچوں کو محور بناتے کالم تحریر۔۔۔سٹار نیوز پر
626













