شطرنج کے کھیل میں اصلی نشانہ بادشاہ ہوتا ہے جسے براہ راست نہیں مارا جا سکتا، اس کے لیئے وزیروں، پیادوں، فیلوں، گھوڑوں، اور رخوں سے بادشاہ کو شہ مات دی جاتی ہے، یعنی چاروں اطراف سے بادشاہ کو گھیر لیا جاتا ہے، بادشاہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جب اس کے وزیروں پیادوں گھوڑوں کو مخالف کھلاڑی اپنے مہروں کے ذریعے اس انداز سے گھیر لیتا ہے کہ بادشاہ اگر نکلنا بھی چاہے تو دشمن کے نشانے پر ہو،
دشمن کے مہرے اس انداز سے کام کرتے ہیں کہ یا تو اپنے وزیر و پیادے مارے جاتے ہیں یا قید ہوجاتے ہیں، اس طرح کوئ بھی دشمن آسانی سے شطرنج کی بساط پلٹ دیتا ہے اور بادشاہ کو شہ مات کرکے کھیل جیت جاتا ہے۔۔۔
اب ذرا شطرنج کے کھیل کو عملی اعتبار سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
ایک طرف یہودی (بادشاہ) تو دوسری طرف مسلمان (بادشاہ) کو رکھیئے، عیسائ البتہ اس کھیل میں “رانی”(Queen) ہیں جو عام لوگوں کو بادشاہ دیکھای دیتے ہیں، عام لوگوں کی سمجھ کے لیئے رانی کو بادشاہ کا درجہ دیتے ہیں۔۔
مسلمان بیوقوفی سے شطرنج کھیلتا کھیلتا عیسائیوں کے ہاتھوں ہار چکا ہے، عیسائیوں کے پیچھے اصل ہاتھ ہیں یہودیوں کے اور یہودیوں کے دماغ نے عیسائیوں کے ہاتھوں مسلمان مروا کر عیسائیوں کو جتا دیا ہے
دشمن کے مہرے ہیں “سیکولر لبرل طبقہ” (المعروف موم بتی مافیا)
وزیر ہیں ہم پر مسلط دشمن کی “کٹھ پتلی حکومتیں”، پیادے( pawn) ہیں “اشرافیہ”
گھوڑے(knight) ہیں دشمن کا “تعلیمی نظام”،
فیلے(bishop) ہیں ہمارا “میڈیا”، اور رخے(rook) ہیں “ملٹی نیشنل کمپنیاں”
عیسائ چونکہ یہودیوں کے شکنجہ میں آچکے ہیں اب صرف مسلمان (بادشاہ) بچتا ہے جسے شہ مات دینے کے لیئے شکنجہ کسا جارہا ہے۔۔
کھیل وہی ہے اصول وہی ہے طریقہ وہی ہے کھلاڑی بھی وہی ہیں بس چہرے بدلے ہیں۔۔
یعنی جیسے عیسائیوں کا خاندانی نظام برباد کیا گیا بلکل ویسے ہی اپنے فیلوں(میڈیا) کے ذریعے ہمارا خاندانی نظام برباد کیا جارہا ہے۔۔۔
جیسے عیسائیوں کے ہاں سے عیسائیت کا خاتمہ کیا گیا بلکل ویسے ہی دشمن اپنے گھوڑے(تعلیمی نظام) کے ذریعہ سے مسلمانوں سے مسلمانیت ختم کر رہا ہے۔۔
جیسے عیسائیوں کے ہاں سود کو رائج کرکے زندگی کا حصہ بنا دیا گیا بلکل ویسے ہی دشمن اپنے پیادوں (اشرافیہ بنکاری نظام ) کے ذریعے سودی معیشت کو مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بنارہا ہے۔۔۔
جیسے عیسائیوں کو اندر سے ہر طرح سے برباد کرکے ان کی عورتوں کو prostitute (۔۔۔۔۔) بنا دیا گیا بلکل ویسے ہی دشمن اپنے مہرے “لبرلز” کے ذریعے یہاں کی عورتوں سے حیا ختم کرکے آئیندہ نسل یورپ کے عیسائیوں کی طرح بنانا چاہتا ہے۔۔۔
جیسے عیسائیوں کو فطرت سے دور کرکے برانڈ کا دلدادہ (brand conscious) بنایا گیا اب بلکل ویسے ہی ہمیں بھی کمپنیوں کا غلام بنایا جارہا ہے۔۔۔
دشمن کی بہت سی چالیں ہیں لکھنے بیٹھا تو شب بیت جاے گی بس اتنا سمجھ لیجیئے کہ شرم، عزت، غیرت، خاندانی نظام، اسلام، پاکستان، اور اس کی مجاہد فوج ان کو مضبوط رکھیئے آپ دشمن کی چالوں کو ناکام بنا دیں گے، اگر آپ دشمن کی چالوں میں پھنس گئے تو اسلام (بادشاہ) اس کو شہ مات تو کوئ نہیں دے سکتا کیونکہ یہ رب کا دین ہے وہ اسے بچا لیں گے، دشمن کی چالوں کو ان پر پلٹنا میرے رب کا کام ہے مگر آپ کی آخرت برباد ہوجاے گی۔۔۔۔
میں جانتا ہوں کہ انگریز کی تعلیمی نرسری سے نکلے جوان عیسائیوں کی بربادی کی میری اس بات کا ٹھٹھہ اڑائیں گے مگر انہیں یہ جان لینا چاہیئے کہ یورپ و امریکہ کی عیسائ قوم اب مادہ پرست سیکولر ریاست کے تحت ایک لبرل قوم بن چکی ہے۔۔
جیسی کوکو ویسی کوکو کے بچے
ان کی مائیں اخلاقی طور پر گر چکی ہیں،
ان کی اولادوں کے پاس اب کوئ نظریہ نہیں کوئ دین نہیں
ما سوائے دولت کے۔۔
پاکستان کا عیسائ تو ہر اتوار ہمارے رب کو یاد کرنے چرچ جاتا ہے مگر یورپی عیسائ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ چرچ جاے وہاں تو شادی کی بھی ضرورت نہیں، ایسے میں اگر دنیاں کو اقوام متحدہ کے نام پر ایک عالمی قومی حکومت کے زیر انتظام لے آیا جاے تو یورپ کی موجود عیسائ نسل کو کوی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہودیوں نے پہلے ہی اپنے قوانین اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے سے نافذ کروا دیئے ہیں۔۔
ہاں یہودیوں کی سپر گورنمنٹ کے بعد “تالمود” کے سخت قوانین کا نفاذ ہوگا تب بھی کوئ نہیں بولے گا کیونکہ لبرلز انہی کے مہرے ہیں ہاں میرے جیسا انسانی حقوق کا علمبردار اگر کوئ بولے گا تو اسے کچل دیا جاے گا۔۔
یورپ کی عیسائی ابادی بہت تیزی سے مٹ رہی ہے یہودی غیر یہودی انسان نہیں چاہتے بچے دو ہی اچھے کا نعرہ انہیں کا ایجاد کردہ ہے۔
کیونکہ یہودیوں کے نذدیک اللہ کی برگزیدہ قوم صرف وہی ہیں اور انہیں ہی جینے کا حق حاصل ہے، یہودی غیر یہود سے ہر قسم کا غیر انسانی کام لے سکتے ہیں(دیکھیئے تالمود)
نہیں یقین آرہا نا؟ تو غور کریں یہودی آپس میں کبھی بھی سودی لین دین نہیں کرتے مگر پوری دنیاں کا سود یہودی کنٹرول کرتے ہیں۔۔۔
یورپ میں اب بس ایک یہودی چہرے کی کمی باقی ہے نوے فیصد “یہودی سپر گورنمنٹ” تو یورپ و امریکہ میں بن چکی ہے، بس ایک یہودی چہرے نے سامنے آکر اپنی حکومت کا اعلان کرنا ہے عیسائ جو کہ اب لبرل ہیں وہ اسے مانیں گے کیونکہ ان کے پاس نہ ہی کوی نظریہ ہے اور نہ ہی مذھب انہیں بس پیسہ سے غرض ہے جب انہیں کوئ آکر یہ کہے گا کہ آپ کی دیہاڑی دس ڈالر ہے میں بیس ڈالر دوں گا تو وہ اس کی حکومت قبول کرلیں گے۔۔
عیسائ لبرل فوج چاہے انگلینڈ کی ہو یا امریکہ کی وہ کبھی بھی یہودیوں سے جنگ نہیں کرے گی اور جو کرے گی اس کے پیچھے صرف قوم پرستی ہوگی اور قوم پرستی زیادہ دیر نہیں ٹک پاے گی۔۔
ہاں کچھ عیسائ جمع ہوں گے مگر وہ ایک الگ موضوع ہے۔۔۔
جبکہ مسلمانوں میں ایسا نہیں یہاں جذبہ ایمان باقی ہے مادہ پرستی کی کمی ہے خاندانی نظام بچا ہے لوگ اللہ کو مانتے ہیں غیرت ہے شرم ہے حیا ہے، اور تو اور ایٹم بم بھی ہے یہ یہودیوں کی سپر گورنمنٹ کی راہ میں حائل سب سے بڑا روڑا(پتھر) ہے جسے یہودی امریکہ کے ذریعے مسلمان ممالک کے مختلف تعلیمی اداروں کو تعلیمی ایڈ کے نام پر لبرل بنانے اور انہیں دین سے دور کرنے کی کوششیں کر رہا ہے،
(دیکھیئے سابقہ آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کا بیان جس میں امریکہ نے پاکستانی نوجوانوں سے شدت پسندی کم کرنے کے لیئے دو ہزار آٹھ میں پاکستانی یونیورسٹیوں کو بغیر حکومتی چیک اینڈ بیلنس کے دو بلین ڈالر سے زائد کی رقم دی)( موجودہ نسل میں دین بیزار نوجوان انہیں دو بلین ڈالرز کی پیداوار ہیں)
مختلف این جی اوز کی فنڈنگ لبرل طبقہ کی بھرمار مندروں کا قیام، مساجد کا ڈھانا، آئین کی متفقہ اسلامی دفعات کی مخالفت، سیکولر پاکستان، کے نعرے پاک فوج کو گالیاں، دو قومی نظریہ کی مخالفت، پاکستان کے قیام پر انگلیاں اٹھانا، وغیرہ وغیرہ یہ سب اسی منصوبہ کا حصہ ہے۔۔۔
پاکستانی قوم کے پاس اب بھی وقت ہے وہ دشمن کی چالوں سے آگاہ ہوجاے ورنہ اسے بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔
یہ فوج یہ ملک یہ آئین شرم حیا، خاندانی نظام یہ سب میرا اور آپ کا ہے اسے اپنا سمجھیئے نہ کہ دشمن کے مہرے بن کر اپنی جڑوں کو کاٹنا شروع کردیں۔۔۔۔
اسامہ شرافت













