امیر عباس خان سیال اور افتخار احمدخان بلوچ کی وفد کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی راہنما رانا ثناءاللہ سے ملاقات –
سیاسی ملاقاتیں اور فوٹو سیشن تو ہوتے رہتے ہیں مگر پینل/ سیاسی جماعت کے ٹکٹ کا فیصلہ تو انتخابات کے وقت پر ہی سامنے آتا ہے
2013 کے الیکشن میں پینل کو ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے سیال گروپ کو آزاد الیکشن لڑنا پڑا اور آزاد حیثیت میں ن لیگ کے امیدواروں صاحبزادہ محبوب سلطان اور رانا شہباز احمد خان کو نجف عباس خان سیال اور عون عباس خان سیال نے شکست دی
ن لیگ کے مرکزی راہنما سے ملاقات کی تصویر میں سیال پینل مکمل نظر نہیں آ رہا
اگر فرنٹ فٹ اور بیک فٹ کی کوئی پالیسی یا مصلحت اس میں کار فرما ہے تو یہ حکمت عملی بھی بہتر نتائج اخذ کر سکتی ہے بہر حال ایم این اے نجف عباد خان سیال مرحوم سیاسی جوڑ توڑ اور لابنگ کے ماہر کھلاڑی تھے یہی وجہ ہے کہ شروع سے لیکر آخر دم تک ان کی سیاسی زندگی کا ستارہ عروج پہ رہا،
امیر عباس خان سیال بھی آخر کار اسی مرد مجاہد بانی تحصیل کے فرزند ہیں اگر سیال خاندان کی سیاست کو ایک پیج پر لانے میں کامیاب ہو گئے تو اس تصویر کے حلقہ کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے جب عون عباس خان سیال اور امیر عباس خان سیال ایک ہی سیاسی چھتری میں حلقہ کی عوام کو نظر آئیں گے –
اخلاص یکطرفہ ہوا تو اسکا فائدہ سیال اتحاد کی بجائے موجودہ ایم پی اے رانا شہباز احمد خان سمیت مخالف سیاسی پینل کو ہو گا
اگر سیال خاندان کی اپنی صف بندی میں ترتیب و تنظیم درست ہوئی تو ایک بار پھر تحصیل اور صوبائی سطح پر سیال گروپ مسند اقتدار پر فائز ہو سکتا ہے،
جھنگ کی سیاست کا نیا نقشہ۔۔رانا ثناءاللہ کی امیر خان سے ملاقات۔۔تفصیلات سٹار نیوز پر۔۔حبیب منظر بول اٹھے۔۔۔
489













