*رفقاء تحریک نفاذ اردو پاکستان کے نام*
*انتہائی قابل احترام بہنو، بیٹیو اور بھائیو*
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ*
*پاکستان اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ پر آن پہنچا ہے۔ جب ملک کے نظام تعلیم کو ایک یکساں سمت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔*

*وزیراعظم عمران خان خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس اہم معاملے کو سلجھانے کی حقیقی کوشش شروع کی ہے۔*

*وزیراعظم کی ہدایت پر ملک میں یکساں نظام تعلیم لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشاورت جاری ہے۔ اس مشاورت کے خدو خال طے کرنے کے لیے وزارت تعلیم نے منتخب نمائندوں کے بجائے بیوروکریسی پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، جو روائتی غلامانہ تصورات سے باہر نکلنے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کمیٹیوں نے آغا خان یونیورسٹی اور اس طرح کے دیگر تعلیمی اداروں بیکن ہاؤس وغیرہ کے ماہرین کے تعاون سے ایک ایسا نصاب تعلیم انگریزی زبان میں پڑھائے جانا تجویز کیا ہے جو غیر ملکی اور انگلش میڈیم اداروں کے مفادات کو تحفظ دے کر بائیس کروڑ پاکستانیوں کو مستقل طور پر جہالت اور ناخواندگی کے اندھیروں میں رکھنے کی سازش ہے۔*

*ان حالات میں ملک کے سیاستدان، شعراء، ادیب اور صاحب الرائے طبقے کی اکثریت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں ساری ذمہ داری تحریک نفاذ اردو پاکستان سے وابستہ خواتین و حضرات کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔*

*عزیز بہنو اور بھائیو! ہم اس زمہ داری سے عہدہ براہ ہونے کے لیے تیار ہیں اور ہرمحاذ پر قومی زبان کی وکالت کررہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارا موقف حقیقت پر مبنی ہے۔ قائد اعظم کے فرامین، دستور پاکستان کی واضع شقیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ اور قومی اتفاق رائے موجود ہے کہ پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور نصاب تعلیم سمیٹ سارے امور مملکت قومی زبان میں چلائیں جائیں گے۔*

*اس لیے آپ سب متحرک کردار ادا کرنے کے لیے میدان عمل میں رہیں۔ معاشرے کے بااثر طبقات بالخصوص اساتذہ اور طلبہ تنظیموں اور دینی مدارس و علماء کرام کے ساتھ ساتھ وکلاء وتاجروں کو متحرک رکھنے کی کوشش کریں*

*یہ نازک اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اس میں سستی اور کاہلی کی گنجائش نہیں ورنہ ہم ایک صدی پیچھے چلے جائیں گے۔*

*میں پرامید ہوں کہ آپ اس مرحلے پر قوم کی امیدوں کی پاسداری کرنے میں سرگرم عمل رہیں گے*

*خاکسار،*
*عطاء الرحمن چوہان*
*صدر تحریک نفاذ اردو پاکستان*
03495059760