غیر فعال تحریکی ساتھی سے برتاو؟
تحریر: لیاقت بلوچ
(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان)
حالات کی ستم ظریفی ہوتی ہے کہ بعض اسباب سے ہمارے بہت ہی عزیز،فعال،متحرک ساتھیوں کا دعوت سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے،یہ کام نیا نہیں ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن اِس کے باوجود اِن کے ساتھ ہمارا ایمانی رشتہ تو برقرار رہتا ہے وہ ہمارے بھائی ہیں ان کے ساتھ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق مسلمان بھائی جس قدر و منزلت،احترام کا مستحق ہوتا ہے وہ بھی ایسے ہی حق دار ہے۔
دعوت سے ناطہ ٹوٹنے یا ساتھی کے غیر فعال ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں،عبادات میں کمزوری،دینی لٹریچر کے مطالعہ کی کمی، گھریلو حالات کی وجہ سے پریشانی،کاروباری مصروفیت یا کاروباری مشکلات، ذمہ داران کا برتاومعاملہ کی ہینڈلنگ،بعض ساتھیوں کا رویہ،غیر متوازن رویہ،اجتماعی زندگی میں محنت کرنے والوں پر اپنے ہی ساتھیوں کا تنقیدی،مذمتی رویہ،محنت سے جی چرانا، ممکن ہے کہ صحت کے ہاتھوں فرد پریشان ہو غرض تحریک میں غیر فعالیت کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں۔کیا ایسی صورتحال میں غیر فعال فرد پر احتساب اور ملامت کے تیر چلائے جائیں یا رسول اللہ ﷺ کی سنت کیا ہے۔
رحمت للعالمین نے غلطی کرنے، شک میں مبتلا ہونے،خدمات یا اعمال میں کوتاہی کرنے پر کبھی کوئی بات نہیں کہی۔ آپ عبداللہ بن ابئی بن ابی سلول کے نفاق سے واقف تھے لیکن آپ اُن کی بھی غیبت نہ فرماتے بلکہ اُن کے ظاہر کو قبول کرتے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ پر بہتان طرازی کی گئی،صحابہ کرامؓ نے بہتان طرازی کرنے والوں کو قتل کی اجازت مانگی لیکن آپ نے ایسے عمل کی اجازت نہ دی بلکہ فرمایا کہ میں لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہتا کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہے۔دعوت، اقامتِ دین کی جدوجہد کا محاذ تو جنگی محاذ کی مانند ہے۔عام حالات میں جو سزائیں جو محاسبہ معمول میں افراد پر نافذ ہوتا ہے وہ حالتِ جنگ میں نہیں ہوتا کہ مبادا وہ فرد ررازداری کے ساتھ دشمن کے ساتھ مل جائے اور وہ بھی دائمی خسارے میں چلا جائے اور مخالفین کا ساتھی بن کر نقصانات کا باعث بنے ۔آپ نے دونوں نقصانات سے بچنے کو ترجیح دی۔
اقامتِ دین کی جدوجہد میں غیر فعال تحریکی ساتھی پر اجتماعی ماحول میں کئی رویئے مسلط ہوجاتے ہیں،ساتھی تنقید،برائیاں بیان کرنے پر لگ جاتے ہیں،اُس کے دکھ درد کو محسوس کرنے کی بجائے اپنے غصے کی آگ پھینکتے رہتے ہیں، ممکن ہے کہ دینی وسیاسی جدوجہد میں وہ مایوس ہو گیا ہو کسی منصب کی خواہش رکھنے کی وجہ سے غیر فعالیت کے گڑھے میں چلا گیا ہو غرض دین کا کام کرنے والے افراد پر انحصار ہے کہ غیر فعال فرد کو واپس فعالیت کی طرف کیسے لے آئیں۔کیا غیبت کا راستہ اختیار کرکے غیر فعال کو اور دور کر دینے سے یا ملاقات اور رابطے منقطع کرکے فرد کو تنہا کردینے سے،نہیں غیر فعال فرد کی ضرورت اجاگرکرنے،اُس کی فعالیت کے دور کے بہتر تذکرے،غیر فعالیت میں موجود خامیوں، مشکلات کو دور کرنے کے لیے مثبت رویے سے اصلاح کی کوششوں کا ماحول پیدا کرنے سے۔ غیر فعال ساتھی سے فوراً سے پہلے مایوس ہونے کی بجائے اپنی دعاوں میں اس کے لیے اللہ کی مدد مانگنے،اپنی گفتگو میں انتہا درجہ احتیاط کے ساتھ اِس فراق اور دوری کے خاتمہ اور تحریک میں فعالیت کی طرف لوٹ آنے کو ہی ترجیح ہونی چاہیے۔
بعض اوقات ذمہ داران کو غیر فعال ساتھی کی مجبوریوں،وجوہات کا علم ہو جاتا ہے، ایسا فرد کسی خوف،منصب کی لالچ،پاپولر جماعتوں کے ساتھ چلنے کا ذوق و شوق، اردگرد کے دوستوں اور احباب کے دباو کا شکار ہوجاتا ہے۔ گھر، اولاد، خاندان کی بعض مجبوریاں پاوں کی بیڑیاں بن جاتی ہیں۔ایسے اشخاص سے ہم مل کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم اُس کے اِس فعل،محرکات اور مجبوریوں سے واقف ہیں۔ممکن ہے کہ وہ محتاظ رہنا چاہتا ہو۔وہ ضرور احتیاط کرے ہم اس سے جھگڑا نہ کریں،طعنہ زنی نہ کریں ہم بھی اُسے احتیاط کا مشورہ دیں،ہمت بندھائیں،حوصلہ دیں،ایسا رویہ اختیار کریں جس سے واپس فعالیت کے دروازے کھلے رہیں اور مدت بعد سہی فعالیت کا تعلق بحال ہو جائے۔
تحریکی اجتماعی ماحول میں اپنائیت،حوصلہ افزائی،بدگمانیوں سے اجتناب،فرد کی کوتاہی،کمزوری پر نِکّو بنانے کی روش سے بچنے کا ماحول ہو۔للّٰہیت،نیک نیتی،ایک دوسرے سے اخلاص،ایک گِرے کئی سہارا دینے والے ہوں۔ایسا برتاو ہی غیر فعالیت کی افزائش کو روک سکتا ہے۔اور دین کاکام محنت کرنے والے سکون سے لگن سے دینی محاذ پر فعال رہیں گے۔