سٹیزن کونسل آف پاکستان کا ہنگامی اجلاس
سٹیزن کونسل آف پاکستان کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت جناب رانا امیر احمد خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان منعقد ہوا جس میں حکومت پاکستان کی طرف سے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حوالے سے تفصیلی بحث ہوئی. اجلاس میں حکومت پاکستان کی طرف سے پیش کردہ تعلیمی سفارشات اور فیصلہ جات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یکسر مسترد کردیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانا اور موجودہ نظام تعلیم کو جاری رکھنا بچوں اور پوری قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے. صدر محترم جناب رانا امیر احمد خان نے قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان بننے کے بعد پہلی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کا حوالہ دیا جس میں قائد اعظم نے فرمایا تھا “اس ریاست کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک اس بات پر ہوگا کہ ہم اہنے بچوں کو کیسی تعلیم دیتے ہیں.”
بعد ازاں سیکرٹری جنرل جناب ظفر علی راجہ نے ایک قرارداد پیش کی جس کو حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کیا.
1. اردو کو سرکاری زبان قرار دیتے ہوئے ذریعہ تعلیم اور نصاب تعلیم مکمل اردو ہو اور دیگر علاقائی زبانوں کو فروغ دیا جائے.
2. نصاب تعلیم کو قرآن و سنت کی روشنی میں تیار کیا جائے اور غیر اسلامی مضامین کو فوری نصاب سے خارج کیا جائے.
3. تعلیمی نصاب کو تیار کرنے کے لیے محب وطن، اعلی تعلیم یافتہ پروفیشنلز اور دین سے لگاؤ رکھنے والے حضرات کو مامور کیا جائے تاکہ آنے ولی نسلیں دین سے لگاؤ رکھیں اور محب وطن ہوں.
4. پرائیوٹ تعلیمی اداروں خاص طور پر مہنگے انگریزی میڈیم سکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ سرکاری نصاب تعلیم کے علاوہ اپنا کوئی نصاب نہیں پڑھا سکتے تاکہ بچوں کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع میسر ہوں.
5. مقابلہ کے امتحانات اردو میں لیے جائیں تاکہ ارباب اختیار اپنے آپ کو حاکم سمجھنے کی بجائے عوام کے خادم بنیں.
6. اردو کو آئین پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں تمام سرکاری محکموں میں فوری رائج کیا جائے.