*غازی علم دین شہید*

حرمت رسول صلی الله عليه و سلم کی فدائی

غازی علم دین شہید 3 دسمبر 1908ء میں لاہور کے کوچہ چابک سواراں (محلہ سرفروشاں) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم طالع مند ، لکڑی کے کاریگر تھے۔

غازی علم دین نے بھی اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد دین کے ساتھ اسی پیشہ کو جاری رکھا۔
محمد دین اورعلم دین میں بڑا پیار تھا۔علم الدین والد کہ ساتھ باہر جاتے تو محمد دین کوقلق ہوتا۔
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ محمد دین نے غازی علم دین کو خواب میں پریشاں دیکھا
اس وقت علم دین سیالکوٹ میں تھے۔
محمد دین لاہور سے سیالکوٹ روانہ ہوا اور جیسے غازی علم دین کے پاس پہنچے تو دونوں ایک دوسرے سے محبت کی شدت جذبات سےبغل گیر ہوگئے
محمد دین نے غازی صاحب کو خواب میں زخمی دیکھا تھا
خواب کتنا سچا نکلا
علم دین واقعی دوسرے دن زخمی ہو گیا لیکن زخم زیادہ نہیں تھا
اگلے روز محمد دین واپس لاہور آگئے
علم دین اپنے والد کیساتھ ہاتھ بٹھاتے۔ان کا گھرپرانی وضع کا تھا یعنی وہ اپنے والد کہ زیر سایہ تربیت پارہے تھے
گھر سے ہی عزت و شرافت کاسبق لیا۔
گھر ہی درسگاہ ٹہری
جہاں سے کتابی علم تو نہ ملا
لیکن اس کی روح جذب کی اس کی غایت جانی پہچانی۔گھر کہ شریفانہ ماحول میں ڈھل گئے۔ایثار، احسان اور خلوص اسکے بنیادی عنصر بن گئے
1928ء میں آپ کوہاٹ منتفل ہو گئے
یہ علاقہ غیور اور بہادر پٹھانوں کاہے
یہ بہت اچھے بہت ہی اچھے لوگوں کاڈیرہ ہے پٹھانوں کا یہ وصف ہے کہ جو ان سے نیکی کرے وہ اسے بھلاتے نہیں ہے۔بڑے مخیر طبع اور متواضع لوگ ہیں
محسن کو قرارواقعی صلہ دیتے ہیں،جان تک نثار کرتے ہیں
یہی انکی زندگی کادستور حیات ہے
علم دین نے پٹھانوں کی اعلیٰ صفات کا بانفس نفیس مطالعہ کیا
جہاں یہ رہ رہےتھے اس مالک مکان کانام اکبرخان نامی پٹھان تھا
اکبرخان کے بھائی کیساتھ جھگڑا ہوگیا اسے نے اپنے بھائی کو شدید زخمی کیا اور بھائی کہ رپورٹ پر اکبر خان کو پو لیس لے گئے
اس وقت طالع مند روشن خان نامی پٹھان کہ گھر کام کررہاتھا
اسنے جیسے سنا کہ اکبر خان کو جیل لے گیا ہے
طالع مند نے کام چھوڑ کہ اکبر خان کی مدد کرنا چاہی
روشن خان حیران ہوا کیا انکے ساتھ اپکی رشتہ داری جو یوں کام چھوڑ کے جارہے ہو؟
طا لع مند نے جوا ب دیا کہ میں ان کا کرایہ دار ہوں وہ میرا محسن ہے۔
اگر خوشی کہ وقت مجھے نہیں بھول سکتا تو مصیبت کی اس گڑھی میں انہیں نہیں چھوڑسکتا
روشن خان جواب سے متاثر ہوکر انکے ساتھ چل دیا
اور اکبر خان کو رہا کردیا اس واقعہ کہ اکبر خان پر ایسا اثر ہوا
کہ اسنے طالع مند کہ اصراراورضد کے باوجود ایک سال کا کرایہ وصول نہیں کیا اور لاہور جاتے وقت غازی صاحب اور انکے والد طالع مند کو ایک ایک چادر دی

زندگی امن سے گزر رہی تھی بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی اورعلم دین کی منگنی ان کےماموں کی بیٹی سے ہوئی

انہیں باہر کہ کاموں سے کوئی سروکار نہیں تھا باہر جو طوفان برپا تھا اسے اسکی خبر نہ تھی
ایک دن حسب معمول کام سے واپسی غروب افتاب کے وقت جارہے تھے کہ دلی دروازے پر لوگوں کا ہجوم تھا
ایک جوان تقریر کررہے تھے پر انہیں سمجھ نا لگی پاس کھڑے ادمی سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے
اس بندےنے راجپال لعین کا نام لیکر کہا کہ لعین ہمارے پیارے نبی محمد مصطفیٰ ص کی گستاخی کی ہے
اتنے میں ایک پنچابی زبان کا مقرر آیا جو پنچابی میں تقریر کر رہا تھا
وہ سب کچھ خود اپنے کانوں سےسن لیا غازی صاحب کے تیور بدل گئے اور ان نے بدلے کی ٹان لی
کہ کسطرح لاہور کے راج پال لعین نے گستاخانہ کتاب شائع کی۔ مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سے اس دل آزار کتاب کو ضبط کرانے اور ناشر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مجسٹریٹ نے ناشر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔
اس کے خلاف بھی مجرم نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ نے اس کو رہا کر دیا۔
اس کاروائی کو ، ملی بھگت سمجھتے ہوئے مسلمانوں نے مظاہرے شروع کردئیے۔
مگر انگریز حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرکے الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

نتیجتا لاہور کے ایک غازی خدابخش نے 24 ستمبر 1928ء کو اس گستاخ کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا
تاہم یہ بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگيا۔ غازی خدابخش کو گرفتار کرکے 7 سال کی سزا سنائی گئی۔

بعدازاں افغانستان سے ایک غازی عبدالعزیز خان نے لاہور آکر اس ملعون پہ حملہ کیا،
لیکن اس وقت دکان پر اس کا دوست سوامی ستیہ آنند بیٹھا تھا۔ غازی عبد العزیز نے غلط فہمی میں اسی کو راج پال سمجھ کر اس پر حملہ کر کے اسکو مار ڈالا ۔
غازی عبد العزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی۔

حکومت نے راج پال کی مکمل پشت پناہی کرتے ہوئے تین سپاہیوں کو اس کی حفاظت پر متعین کر دیا۔
راج پال لاہور چھوڑ کر ، ہردوار کاشی، اور متھرا وغیرہ جا کر رہنے لگا۔ لیکن جلد ہی واپس آکر پھر اپنا کاروبار چلانے لگا ۔
دو دفعہ کے حملوں سے ملعون کے بچ رہنے کے بعد، بالآخر غازی علم دین نے اس کو انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ نے 29 اپریل 1929ء کو راج پال کی دکان کا پتہ کیا اور وہاں پہنچ گیے۔

خوش قسمتی آپ کے نام لکھی تھی،اسلیے گارڈز قریب نہ تھے اور راج پال اکیلا وہیں موجود تھا، آپ نے اس کو للکارتے ہوئے کہا
“اپنے جرم کی معافی مانگ لو اور اس منحوس کتاب کو ضائع کردو اور آئندہ کے لیے ان حرکات سے باز رہو” راج پال نے اس بات پہ ہنسا ۔
جس پر آپ نے ایک ہی بھرپور وار میں اس بدبخت کا کام تمام کر دیا ۔
مردود ملعون کی دکان کے ایک ملازم نے قریبی انارکلی تھانہ کو خبر دی
جس پر پولیس نے آپ کو گرفتار کر لیا۔
آپ نے اس واقعہ کے بعد فرار ہونے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ آپ نے گرفتاری پیش کردی۔
مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئس کی عدالت میں پیش ہوا جس نے ملزم پر فرد جرم عائد کر کے صفائی کا موقع دیے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کر دیا۔
آپ کی جانب سے ” سلیم بارایٹ لا ” پیش ہوئے جنہوں نے آپ کے حق میں دلائل دیے مگر “نیپ” نامی انگریز جج نے آپ کو مورخہ 22 مئی 1929ء کو سزائے موت کا حکم سنادیا۔
اس فیصلے سے غیر مطمئین مسلمانوں نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل کردی
اور معروف مسلمان وکیل محمد علی جناح کو ، علم دین کا کیس لڑنے کیلئے بمبئی سے لاہور بلوایا ۔ ان کی معاونت جناب فرخ حسین بیرسٹر نے کی۔
15 جولائی 1929ء کو ہائی کورٹ کے دو جج نے فیصلہ سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھا۔
اور غازی کی اپیل خارج کردی۔
اپیل خارج ہونے کی اطلاع جب جیل میں غازی کو ملی تو آپ مسکرا کر فرمایا ” شکر الحمداللہ ! میں تو یہی چاہتا تھا۔ قیدی بن کر جیل میں سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر ناموس رسالت پر اپنی جان فدا کرنا ابدی سکون و راحت ہوگا”

غازی علم الدین شہید نے اپنے رشتہ داروں کو کیا شانداد وصیت فرمائی
” ناموس رسالت کی خاطر میرے سولی لٹک جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا ، آپ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰة برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر مسلسل استقامت سے قائم رہیں”

مسلمان عمائدین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لندن کی ‘پریوی کونسل’ میں اپیل دائر کی۔
اس اپیل کا مسودہ محمد علی جناح کی زیر نگرانی تیار کیا گیا۔ مگر انگریز حکومت نے اس اپیل کو بھی مسترد کر دیا۔

آخرش 31 اکتوبر 1929ء بروز جمعرات، میانوالی جیل میں اس عاشق نبی کو اپنے محبوب آقا کی خدمت میں بھیج دیا گیا ۔
آپ کی شہادت کے بعد انگریز حکومت نے آپ کے جسد خاکی کو خفیہ مقام پر سپرد خاک کر دیا
جس پر شدید احتجاجی لہر اٹھی۔ 4 نومبر 1929ء کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ،سر فضل حسین، سر محمد شفیع، مولانا عبد العزیز، مولانا ظفر علی خان، خلیفہ شجاع ، مولانا غلام محی الدین قصوری، اور میاں امیر الدین ،جیسے عمائدین نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور جسد خاکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا
۔گورنر نے شرط رکھی کہ اگر آپ پرامن تدفین اور کوئی گڑبڑ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائیں تو یہ ممکن ہے ۔
وفد نے یہ شرط منظور کرلی۔
اور 13 نومبر 1929ء کو مسلمانوں کا ایک وفد سید مراتب علی شاہ اور مجسٹریٹ مرزا مہدی حسن کی قیادت میں میانوالی گیا اور جسد خاکی وصول کیا۔
موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود جسد خاکی میں ذرا بھی تعفن اور بگاڑ نہیں تھا،

چہرے پر غسل کے پانی کے قطرے ایسے چمک رھے تھے جیسے تازہ وضو کیا گیا ہو۔
بزریعہ ریلوے جسد خاکی کو روانہ کیا گیا،
تو جیسے دیوانوں کی مراد بر آئی،
ہر ہر اسٹیشن پہ شمع رسالت کے پروانوں نے میت والی ٹرین کا والہانہ استقبال کرکے ایک انمول تاریخ رقم کی۔
اتنی گل پاشی کی گئی کہ لاہور تک کا سارا ریلوے ٹریک گویا گل و گلستان بن گیا ،
تمام اسٹیشنز پہ ٹرین رکوا کے ہدیہ درود و سلام،عطر و گل پاشی کی جاتی۔
15 نومبر 1929ء کو جسد خاکی لاہور چھاؤنی میں علامہ محمد اقبال اور سر محمد شفیع کے سپرد کیا گیا۔
شہید کا جنازہ بھی محبتوں کی ایک تاریخ مرتب کرگیا،

یہ جنازہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کہلاتا ہے۔

جو کہ ساڑھے پانچ میل تک لمبا تھا۔نماز جنازہ یونیورسٹی گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں کم و بیش چھ لاکھ عشاق رسول نے شرکت کی ۔
تدفین کے انتظامات کی سرپرستی علامہ محمد اقبال ،مولانا ظفر علی خان،اور سید دیدار علی شاہ نے کی۔ صندوق و بانس و ضروری اشیئا کا اہتمام ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کیا تھا
( جو پنجاب کے مقتول وملعون گورنر سلمان تاثیر کے والد تھے)
شہید کی پہلی نماز جنازہ خطیب مسجد وزیر خان ،قاری شمس الدین نے اور دوسری نماز جنازہ مولانا دیدار علی شاہ الوری نے پڑھائی۔
مولانا دیدار علی شاہ اور علامہ اقبال نے شہید کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا ۔
جس پر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا” کاش! “یہ مقام مجھے نصیب ہوتا
۔”اسی موقع پر علامہ نے فرمایا
“ایہہ ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا،تے اسی گلاں ای کردے ریہہ گئے ‘