جھنگ: احمد پور سیال
تھانہ قادر پور کے بعد ایک اور پولیس تشدد کا واقع سامنے آگیا
تھانہ احمد پور سیال میں بھائی سے ملاقات کیلئے جانے والے
معروف عالم دین مولانا صفدر معاویہ مرالی سیال پر تشدد اور غلیظ گالیاں
مولانا صفدر مرالی وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے سند یافتہ عالم دین اور ساتھ ساتھ حافظ قرآن بھی ہیں
گزشتہ سے پیوستہ شب اپنے بھائی سے تھانہ احمد پور سیال ملنے گئے انکا بھائی7/51 میں بند تھا صفدر کا کہنا ہے کہ دنیا کا مشکل سے مشکل حلف دینے کو تیار ہوں کہ میں نےمنشی محرر سے اجازت لی کہ اپنے حوالات میں بند بھائی سے ملاقات کرلوں تاکہ بھائی کو کچھ تسلی ہو جائے گی دوران ملاقات ایس ایچ او کا گن مین آکر اسے دھکے دینے لگا اور گالم گلوچ کرنے لگا جب میرے مخالفین کے سامنے مجھے بے عزت کر رھا تھا تو میں نے کہا کہ میں آپ کے رویہ کے خلاف ڈی پی او جھنگ کے پاس شکایت لے کر جاؤں گا اسی اثنا میں ایس ایچ او ارباب سمیجہ اپنے کمرے سے باہر آیا اور مولانا صفدر صاحب کو گریبان سے پکڑا اور مکے ٹھڈے مارتا ہوا کمرے میں لے گیا اور تھانے کے مخصوص جوتے سے مولانا صفدر صاحب کی خود پٹائی کی جب تھک گیا تو پانی کا وقفہ کرکے پھر تشدد شروع کر دیا بعد میں سفید کاغذ پر زبردستی دستخط کروائے کہ کاروائی نہ کرو گے ڈی پی او صاحب کونہ بتاؤ گے سب تحریر کروا کے شہر کے چند معززین کی مداخلت پر مولانا صفدر معاویہ کو رھا کر دیا گیا۔۔عوامی احتحاج پر سمیجہ کو معطل کرکے لائین حاضرکردیاگیا












