مظفر علی خان مرحوم کی زندگی میں نجف خان مرحوم اور مظفر خان مرحوم کا الیکشن میں ایک دوسرے سے مقابلہ رہا
پھر وفات پانے سے پہلے اپنے بیٹے کا ہاتھ نجف عباس خان مرحوم کے ہاتھ میں تھما کرگئے
جسکی لاج مرحوم نجف عباس نے خوب رکھی اور چند ماہ بعد ہونے والے الیکشن میں ایک ہی پینل میں الیکشن لڑا اور دونوں نے مخالفین کو الیکشن میں اچھے مارجن سے شکست دی

پھر بات آگے بڑھتی ہے نجف خان مرحوم اپنی زندگی میں جھنگ میں سیال گروپ میں ایک نئی روح پھینکتے ہیں
سیال گروپ جھنگ کا ایک مضبوط گروپ بنتا ہے ،بلدیاتی الیکشن میں پورے جھنگ میں جیت جاتے ہیں
،ضلعی چیئرمین بھی سیال گروپ سے بنتا ہے بلکہ سیال گروپ کی اکثریت جھنگ کی بلدیاتی سیٹوں پر براجمان ہوتی ہے
سیال گروپ کا ڈنکا بج رہا ہوتا ہے

لیکن جونہی الیکشن 2018 قریب آتا ہے نجف عباس خان مرحوم برین ہیمبرج کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں
نجف عباس خان مرحوم کے بیٹے امیر عباس خان سیاسی طور پر ایکٹو ہوتے ہیں اپنے والد کی سیٹ سنبھالتے ہیں اور جھنگ کی سیاست اور خصوصاً حلقہ این اے 114,116 اور پی پی 130 کی سیاست نیا موڑ لیتی ہے
جو لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا
امیر عباس خان اپنے والد کے حلقے کو چھوڑ کر ایک بیگانے حلقے میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں ،جسکا سیال گروپ کے مقتدر حلقے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں کہ پتہ نہیں ایسا کیوں کیا،
امیر عباس خان الیکشن ہار جاتے ہیں

پھر امیر عباس خان ایک اور جلد بازی کرتے ہیں
جس سےسیال گروپ/پینل ناخوشی اور لاعلمی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے اور حیران و پریشان ہوتے ہیں کہ ہم سے مشاورت کیے بغیر اپنے ہی مخالف گروپ بلوچ گروپ سے الحاق کرکے ایم این اے کی امیدواری سے دستبردار ہوکر ایم پی اے کا الیکشن لڑنے کا اعلان کردیتے ہیں
ذرائع کے مطابق سیال گُروپ کے کسی بھی سرکردہ ممبر سے کسی بھی قسم کی مشاورت نہیں کرتے

اور اندرون خانہ اختلافات بڑھتے جاتے ہیں
جسکا پہلے بھی تزکرہ ہوتا رہا لیکن کل عون عباس خان نے برملا ان باتوں کا اظہار کردیا
بات پھر وہیں پہ پہنچ گئی جہاں سے شروع ہوئی تھی
حلقہ پی پی 83 میں نجف خان مرحوم اور مظفرعلی خان مرحوم مخالف ہوا کرتے تھے
اور اب حلقہ پی پی 130 میں عون عباس خان اور امیر عباس ایک دفعہ پھر مدمقابل آچُکے
میری ذاتی رائے ہے کہ یہ اختلافات ان دونوں کیلئے بالکل بھی نیک شگون نہیں ہیں
بہتر یہی ہوگا کہ یہ مشاورت کریں اور جہاں ان دونوں کو ان کے والدین نے چھوڑا تھا وہیں سے اپنا سفر دوبارہ شروع کریں
اور اپنی پاور بڑھائیں

ورنہ فائدہ سیاسی مخالفین کو ہی ہوگا

تجزیہ:انجینئر حبیب الرحمٰن حاصلہ