میں کون ہُوں؟
مُجھے کوئی نہیں جانتا۔
میں اور میرے کام ہمیشہ دُنیا کی نظروں سےاوجھل رہتےہیں۔
ہوسکتاہےمیں آپ کے بہت قریب آپ کےآس پاس ہی موجودہُوں۔
کیمرہ اُٹھائے خبروں کی تلاش میں بھاگتا کوئی صحافی، کلاس میں پڑھاتا ہُوا کوئی پروفیسر یا وہ سادھُو سَنت فقیر جوایک عرصہ سے دُشمن کی حساس تنصیبات کے قریبی علاقوں میں گھُومتا رہتاہے، میں کسی لاری اڈے، ریلوےاسٹیشن یا ہوائی اڈے پر بُکنگ کلرک یا قُلی بھی ہو سکتا ہُوں۔
میں آپ کے علاقے کی مسجد کا کا امام بھی ہو سکتاہُوں۔
ہو سکتا ہے میں آپ کے گلی مُحلوں میں ٹھیلہ لگا کر پھرتا ہُوں یا میں کوئی ہیکر یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی ہو سکتا ہُوں۔۔
دُنیا مُجھے چند مخصُوص ناموں سے جانتی ہے لیکن میری اصل پہچان سے میرے گھر کےافرادتک ناواقف ہوتے ہیں لیکن میں ہر ماحول کواپنالیتاہُوں۔
ہر صُبح ہر موڑپرمیری شناخت تبدیل ہوتی رہتی ہے
پرشناخت کی تبدیلی پربھی میں اپنا کام اپنا فرض نہیں بھُولتا۔
میں گھات لگاتاہُوں اور دُشمن کی بے خبری میں اُس کو جادبوچتا ہُوں۔
مُجھے کوئی نہیں پہچان سکتا کوئی مُجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔
جب تک دُشمن کو میری سمجھ آتی یے میں اپنا کام مُکمل کر کے اُسکی پہنچ سے دُورجاچُکاہوتاہُوں۔
لیکن بعض دفعہ یُوں بھی ہو جاتا ہے کہ کِسی انجان مِشن کے انجان موڑپہ میں مار دیا جاتا ہُوں لیکن کسی کو میری موت کی کوئی خبر تک نہیں ہوتی حتیٰ کہ میرے گھر والے بھی میرے چلےجانےسےبےخبر ہوتے ہیں۔
مُجھے کسی پرائی مٹی میں چُپکے سے دفنا دیا جاتا ہے اور اگر زندہ بچ جاؤں تو دُشمن کی کسی کال کوٹھڑی میں اپنی موت کا انتظار کرتا رہتا ہُوں لیکن میرے لوگ میرے نام اور میرے کام سے بےخبر کبھی نہیں جان پاتے کہ میں کون تھا،کہاں سے آیاتھااورکہاں چلاگیا۔ مُجھے کِسی ایوارڈ یا خِطاب مِلنے کی تمنا نہیں ہوتی کیوں کہ مُجھے اپنے وطن اور اس کے باسیوں کی بقا سے زیادہ کُچھ عزیزنہیں۔۔
کوئی نہیں جانتا میں کون ہُوں، کون تھا، کہاں سے آیا اور کہاں گیا۔۔ لیکن میں جانتا ہُوں کہ میں کون ہُوں۔۔
جی ہاں میں پاکستان کےدِفاع کی آخری لکیرہُوں۔۔۔ میں آئی ایس آئی ہُوں۔۔
💚💚🇵🇰
⚔️اکبر⚔️