لیس للانسان الا ما سعٰی
………………………………..
خواہش سے نہیں گِرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا
کُچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حِصے کا دِیا خُود ہی جلانا ہوگا
……………………………….
آداب
انتہائی عزتوں کے لائق اساتذہ کرام و دیگر سرکاری ملازمین،
………………………………..
السلام علیکم
الحمداللہ سرکار کی نوکری کرتے کرتے ریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچا ہے لیکن ایسا ظلم کبھی نہیں دیکھا کہ سالانہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائی گئی ہوں ایسا پہلی مرتبہ اِس سال یعنی 2020 میں ہی ہوا ہے اور اس سے بڑا ظلم ملازمین نے سڑکوں پر نہ آ کے خود اپنے ساتھ کیا ہے یہ بھی اتفاق سے پہلی بار ہی ہوا ہے کہ صرف دو اضلاع میں ملازمین سڑکوں پر آئے اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ باقی سارا زمانہ خاموشی کے ساتھ اِس ظلم کو سہنے کی سعی لاحاصل کر رہا ہے۔
دوستو میری بات غور سے سُن لیں اور نوٹ فرما لیں حکومت نے تنخواہ نہ بڑھا کر آپکی غیرت کو چیک کیا ہے گویا ٹیسٹر لگایا ہے کہ اگر ملازمین یہ ظلم برداشت کر لیتے ہیں تو پھر مظالم کا لا متناہی سِلسلہ شروع کرتے ہوئے سالانہ انکریمنٹ کو بنیادی تنخواہ کا حصہ نہ بنانا، ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرنا، پنشن سے محروم کرنا اور دیگر ایسے ملازم کش اقدامات کا نفاذ کیا جائے گا اس لئے خُدارا ہوش کے ناخن لیں ایسے مظالم کی روک تھام اور مطالبات کی منظوری کنونشنز منعقد کرنے سے ہر گز نہیں ہوتی اپکو ازخود بیدار ہونا ہو گا ،سڑکوں پہ نکلنا ہوگا، اپنی سنہری تاریخ کو دہراتے ہوئے تپتی سڑکوں پہ بیٹھنا ہوگا، آگ برساتے سورج کی تمازت کو جھیلنا ہوگا ورنہ
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی
داستانوں میں۔
سر جُھکا کے جیے نہ منہ چُھپا کے جیے
ستم گر کی نظروں سے نظریں ملا کے جیے
ہم اگر دو دن کم جیے تو اس میں حیرت کیا
ہم ان کے ساتھ تھے جو شمع جلا کے جیے
محمد ازور













